17ویں صدی کے آغاز میں، عثمانی سلطنت کی فتوحات کا دریا جیسے خشک ہو گیا تھا۔
وہ عظیم سلطنت، جس کے سائے سے یورپ لرزتا تھا — اب اندر سے ٹوٹنے لگی۔
سلاطین کمزور ہو گئے، فوج طاقتور ہو گئی۔ خزانہ خالی، رعایا بغاوت پر آمادہ، اور سلطان کا حکم… مذاق بن کر رہ گیا!
ایسے نازک وقت میں، تخت پر ایک ایسا جوان سلطان بیٹھا — جس نے تخت کو عزت، اور سلطنت کو پھر سے ہیبت دے دی۔
وہ نہ صرف دشمنوں سے لڑا… بلکہ بگڑتی فوج، نافرمان وزیروں اور شراب و عیش میں ڈوبی اشرافیہ کو بھی سیدھا کر کے رکھ دیا۔
تو آخر یہ سلطان کون تھا؟ جس نے بغداد کو فتح کیا…
اور خود سلطنت عثمانیہ کو نئی زندگی دی؟
آئیے جانتے ہیں… سلطان مراد چہارم کی ناقابل یقین کہانی، جس نے خوف کو قانون بنایا… اور سلطنت کو پھر سے زندہ کیا!
آج کی اس ویڈیو کو پھر سے سپانسر کیا کےwar history official چینل نے،جہاں سلطنتِ عثمانیہ پر بہترین انداز میں میپ اینیمیشن کے ساتھ ایک نئی سیریز سٹارٹ ہوئی ہے، میری ریکویسٹ پر آپ ایک بار اس چینل کو ضرور وزٹ کیجئے گا۔
عثمان ثانی اور مصطفیٰ اول کی وفات کے بعد سلطان مراد سلطنت عثمانیہ کے 17ویں سلطان کے طور پر استنبول میں تخت نشین ہوئے۔ تخت نشینی سے پہلے وہ جامعہ مسجد ایوب پہنچے جہاں ان کی کمر پر عثمان غازی کی تلوار باندھی گئی اور 10 ستمبر 1623ء کو سلطان مراد چہارم کو 12 سال کی عمر میں تخت نشین کر دیا گیا۔ سلطان مراد چہارم 27 جولائی 1612ء کو استنبول میں پیدا ہوئے، ان کے بچپن کے دن کافی انتشار میں گزرے۔ ان کے والد سلطان احمد اول کا کم عمری میں ہی انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد تخت کے لیے ہنگامے اور بغاوتیں بھرپور طریقے سے شروع ہو گئی تھیں۔ خاص طور پر جب ان کے بڑے بھائی عثمان ثانی کو بغاوت کے نتیجے میں ینی چری فوج نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ یہ تمام واقعات مراد چہارم کی کم عمری میں پیش آئے
تھے۔
سلطان عثمان ثانی کے انتقال پرکارہ داؤد پاشانےباغیوں کے زریعےعثمان ثانی کے تمام بھائیوں کو قتل کرانا چاہا، لیکن کوسم سلطان نے ان سب کو بچا لیا، یہاں تک کہ سلطان مراد کے بچپن کے دن ہمیشہ موت کے خوف میں گزرے۔
لیکن اس نو عمری میں بھی سلطان مراد نے جس قوت ارادی کا اظہار کیا اس سے وزراء کو اندازہ ہو گیا کہ عنانِ سلطنت ایک ایسے فرمانروا کے ہاتھ میں آچکی ہے جو سلطنت کی تمام بدنظمیوں کو طاقت کے ذریعے دور کر دے گا، ایک ترک مورخ اولیاء کا بیان ہے وہ لکھتا ہے کہ:۔
" تخت نشینی کے بعد جب سلطان مراد خزانے میں داخل ہوا تو میرا باپ "درویش محمد" اس وقت سلطان مراد کے ساتھ تھا۔ خزانے میں طلائی اور نقری ظروف میں کچھ بھی باقی نہ تھا۔ صرف 20 ہزار پیاستر یعنی کہ چھوٹے نقری سکے اور الماریوں میں چند مونگے اور چینی کے برتن رہ گئے تھے۔ سلطان مراد نے سجدہ اداکیا اور پھر کہا کہ انشاءاللہ میں اس خزانے کو انہی لوگوں کی جائیداد سے بھر دوں گا جنہوں نے اسے لوٹا ہے"
سلطان مراد کی نو عمری کے باعث سلطنت کا انتظام شروع میں ان کی والدہ کوسم سلطان کے ہاتھ میں تھا۔ جو نہایت دانشمند اور مدبر خاتون تھیں۔ سلطانہ والدہ کی قابلیت اس وقت سلطنت کے لیے بے حد اہم اور مفید ثابت ہوئی،لیکن خطرات اور تباہیوں کے بادل ہر طرف چھائے ہوئے تھے۔ سلطنت کے ہر حصے سے تشویش ناک خبریں آرہی تھیں، سرحد پر ایرانی فوجیں فتح یاب تھیں. "باظا پاشا" اپنی بغاوت میں کامیاب ہو کروہ ایشیائے کوچک کا حاکم بنا ہوا تھا، لبنان کے لوگ اعلانیہ بغاوت کر رہے تھے۔ مصر اور دوسرے صوبوں کے والی بھی اپنی فرمانبرداری سے پیچھے ہٹ گئے تھے، الجزائر تیونس اور طرابلس کی حکومتیں خود مختار ہو چکی تھیں۔ روسی قزاقوں کے حملے اور ان کی تباہ کاریاں نہ صرف بحیرہ اسود کے ساحل پر جاری تھیں بلکہ انہوں نے باسفورس میں داخل ہو کر قسطنطنیہ سے ملحق علاقوں میں بھی لوٹ مار شروع کر دی تھی۔ خود پایہ تخت میں خزانہ خالی تھا۔ اسلحہ خانہ کا سامان تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ عوام فاقہ کشی میں مبتلا تھی اور فوج کی سرکشی اور بےراہ روی حد کو پہنچ چکی تھی۔ ان حالات کے باوجود جبکہ بدامنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور خود مراد کی زندگی خطرے سے خالی نہ تھی۔ سلطانہ والدہ نے اپنے تدبر اور اعلیٰ قابلیت سے سلطنت کو نہ صرف سنبھالے رکھا بلکہ رفتہ رفتہ فوج اور وزراء پر قابو بھی حاصل کر لیا۔ یہاں تک کہ مراد نے تخت نشینی کے 9ویں سال انتظامِ حکومت خود اپنے ہاتھ میں لے لی اور پھر وہ تمام خرابیاں جو سلطنت کو تباہ و برباد کر رہی تھیں، انہیں نہایت سرعت کے ساتھ ختم کرنے لگے۔
سلطان مراد کی کمسنی کے زمانے میں شاہ عباس کو اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کا موقع مل گیا، دراصل شاہ عباس عثمانیوں کے اندرونی انتشار سے فائدہ اٹھا کربغداد اور موصل جیسے اہم ترین شہروں کو صفوی سلطنت میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ اس سے پہلے کہ شاہ عباس بغداد پر حملہ کر کے اسے فتح کرتا کہ بغداد کے گورنر اور کوتوال کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا، ہوا دراصل کچھ یوں کی بکیر آغا نے جو بغداد کا کتوال تھا اس نے وہاں کے والی کو قتل کر کے شہر پر خود قبضہ کر لیا، سلطنت عثمانیہ نے اس کے مقابلے میں حافظ پاشا کو روانہ کیا اور اس نے بغداد کا محاصرہ کر لیا بکیر آغا نے شاہ عباس کو دعوت دی اور لکھا کہ اگر آپ مجھے یہاں کا والی مقرر کر دیں، تو میں شہر آپ کے حوالے کر دوں گا۔ شاہ عباس نے یہ شرط منظور کر لی اور فوراً فوج لے کر روانہ ہوا، اس درمیان میں بکیر آغا نے یہی گفتگو حافظ پاشا سے کی جس کے بعد حافظ پاشا نے اس کی یہ شرط منظور کر لی، چنانچہ اس معاہدے کے مطابق ترک فوجیں بغداد میں داخل ہو گئیں۔
اس کے بعد شاہ عباس نے بغداد پہنچ کر شہر کا محاصرہ کر لیا۔ تین ماہ تک سخت ترین محاصرہ جاری رہا، بکیر آغا نے پھر وہی پہلی شرط شاہ عباس کے سامنے پیش کی اور شاہ عباس کی منظوری حاصل کرنے کے بعد ترکوں سے غداری کر کے ایرانی لشکر کو شہر کے اندر داخل کرا دیا۔ 1623ء میں شاہ عباس نے بغداد پر قبضہ کر لینے کے بعد سب سے پہلے بکیرآغا کو اس کی غداری کی پاداش میں قتل کرا دیا، پھر شاہ عباس نے کربلا، نجف اور شمالی علاقوں پر بھی قبضہ جما لیا۔
صدر اعظم کمان کش علی پاشا کے مخالفوں نے بغداد کی شکست کی ذمہ داری اسی کے سر عائد کی اور انہوں نے اس سلطان مراد کو مجبور کر کے 3 اپریل 1624ء کو اسے قتل کرا دیا. اس کے بعد چرکس محمد پاشا صدر اعظم مقرر ہوا۔ لیکن وہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد وفات پا گئے اور آخر کار یہ عہدہ حافظ احمد پاشا کو دے دیا گیا۔
بغداد کی مہم کے بعد اب انا طولیہ میں باظا پاشا کی بغاوت کو کچلنا زیادہ ضرورری خیال کیا گیا۔ باظا محمد پاشا نے سلطان احمد اول کے دور میں شروع ہونے والی جلالی بغاوتوں میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا تھا، اسے لوگوں کی حمایت حاصل تھی، اس نے 30 ہزار سپاہیوں کے ساتھ سیواس پر قبضہ کر تےہوئے اس نے انقرہ اور بورسہ کو بھی گھیرے میں لے لیا۔ اناطولیہ میں اصل طاقت با ظا محمد پاشا کے ہاتھ میں آ چکی تھی۔ دارالحکومت استنبول میں بھی اس کے کئی حمایتی موجود تھے۔
یوں باغیوں کی اس قدر حوصلہ افزائی کو دیکھتے ہوئے کوسم سلطان کے حکم پر نئے وزیراعظم چرکس محمد پاشا کو ان باغیوں کی بغاوت کو کچلنے اور بغداد پر چڑھائی کے لیے 17 جون 1624ء کو استنبول سے روانہ کیا گیا۔ چرکس محمد پاشا نے قونیہ اور پھر نغدے میں جلالی بغاوتوں کو کچلا اور قیصری کے قریب باظا محمد پاشا نے عثمانی فوج کا سامنا کیا۔ 13 ستمبر 1623 عیسوی کو چرکس محمد پاشا نے "کارس" کی جنگ میں باظا محمد پاشا کو شکست دی، جس کے بعد باظا محمد پاشا ایرزروم واپس چلا گیا۔ جہاں پھر اس نے چرکس محمد پاشا کے ساتھ صلح کرلی۔ یہیں 28 جنوری 1625ء کو چرکس محمد پاشا وفات پا گئے، ان کی وزارت عظمیٰ کا دورانیہ 9 ماہ اور 26 دن تھا۔
ان کی وفات کے بعد عثمانی فوج میں موجود دیار بکر کے گورنر حافظ پاشا کو وزیراعظم اور سپہ سالار اعظم مقرر کر دیا گیا اور کوسم سلطان کی بڑی بیٹی عائشہ سلطان سے اس کی شادی کر دی گئی۔ اسی سال اس نے بغداد پر فوج کشی کر کے اس کا محاصرہ کیا، جو بہت دنوں تک قائم رہا۔ لیکن محاصرین کے استقلال میں کوئی کمی نہ آئی اور ینی چری نے گھبرا کر محاصرہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔ مجبوراً حافظ پاشا کو محاصرہ اٹھا کر دیار بکر جانا پڑا۔ یہاں پہنچ کر ینی چری نے پھر بغاوت کر دی۔ جس کی وجہ سے 1 دسمبر 1626ء کو انہیں وزارت عظمیٰ سے معزول کر دیا گیا۔ لیکن وہ بطور سینیئر مشیر کے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد ان کی جگہ داماد خلیل پاشا کو وزیراعظم مقرر کیا گیا، خلیل پاشا نے باظا پاشا کو مطیع بنانے کی کوشش کی، لیکن اس میں وہ ناکام رہے اور اس کے مخالفوں نے دوسرے ہی سال6اپریل 1628ء کو اسے بھی معزول کرا دیا۔ اب اس کی جگہ خسرو پاشا صدر اعظم مقرر ہوا۔ خسرو پاشا دراصل ینی چری آغا سے ترقی پا کر وزیراعظم بنا تھا۔ وہ ذہین، چالاک اور جنگی طبیعت کا شخص تھا۔ وہ سلطان مراد سوم کی بیٹی عائشہ سلطان کا شوہر بھی تھا۔ وزارت عظمیٰ پر فائیض ہونے کے مخص 1 ماہ 4 دن بعد وہ باظا پاشا کی بغاوت کو ختم کرنے کے لیے ٹوکات جا پہنچا، وہاں سے فوج کے ساتھ ایرز روم کی طرف بڑھا اور اس نے محاصرہ شروع کر دیا۔ 14 دن کے محاصرے کے بعد 22 ستمبر 1628ء کو اس نے باظا محمد پاشا کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ باظا محمد پاشا کو بعد میں بوسنیا کا گورنر بنا دیا گیا۔ اس کی بغاوت کا اختتام سلطنت کے لیے بہت مفید ثابت ہوا، اب عثمانی فوج صفویوں پر چڑھائی کر سکتی تھی۔
پھر 19 جنوری 1628ء میں شاہ عباس کا انتقال ہو گیا اور اس کی جگہ اس کا نو عمر لڑکا شاہ مرزا تخت نشین ہوا۔ شاہ عباس صفوی نے تقریباً 41 سال تک حکومت کی اس نے عثمانی سلطنت کے ساتھ طویل جنگیں لڑیں۔
شاہ عباس کی موت سے فائدہ اٹھا کر خسرو پاشا نے ایران پر فوج کشی کا ارادہ کیا۔ 10 جون 1629ء کو خسرو پاشا استنبول سے روانہ ہوا۔ 17 دسمبر 1629ء کو عثمانی فوج موصل میں داخل ہوئی، اس وقت موصلہ دھار بارشوں نے میسوپرٹیمیا کے میدانوں کو دلدل بنا دیا تھا۔ 42 دن تک فوج بارش کے رکنے کا انتظار کرتی رہی، پھر 28 جنوری 1630ء کو عثمانی فوج موصل سے آگے بڑھی جہاں 10 ہزار افراد پر مشتمل عثمانی لشکر کا زین العابدین خان کی 40 ہزار فوج سے ٹکراؤ ہوا۔ خسرو پاشا نے فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف پیش قدمی کی، اس کا مقصد بغداد کی فتح کو یقینی بنانا تھا۔ جب وہ ہمدان پہنچا تو شہر خالی تھا۔ حمدان کی فتح کے بعد وہ اپنے اصل ہدف یعنی کہ بغداد کی طرف بڑھا 6 اکتوبر 1630ء کو بغداد کا محاصرہ کیا گیا۔ یہ محاصرہ کم و بیش 14 نومبر تک جاری رہا صفوی فوج نے کئی مقامات سے حملے کیے۔ 19 نومبر کو عثمانیوں نے آخری اور بڑا حملہ کیا، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے اس شکست کی اصل بڑی وجہ ینی چری فوج کی بغاوت تھی۔ کیونکہ بغداد کے محاصرے کے کچھ ہی دنوں کے بعد فوج نے لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد نومبر 1630ء میں محاصرہ اٹھا کر عثمانیوں کو مجبوراً واپس آنا پڑا، محاصرہ اٹھا لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ خسرو پاشا معزول کر دیا گیا اور حافظ پاشا دوبارہ سے وزیراعظم مقرر ہوا، اب چونکہ خسرو پاشا ینی چری فوج کا ایک سابق آغا تھا اور وہیں سے اسے وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا اس لیے فوج خسرو پاشاہ کو صدر اعظم کے عہدے پر دوبارہ دیکھنا چاہتی تھی اور انہیں حافظ پاشا کی پالیسیوں سے سخت اختلاف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وزارت عظمیٰ پر خسرو پاشا کو لانے کا مطالبہ کیا۔
ناظرین یوں تو ینی چری اور سپاہی فوجوں کی خودسری بارہا بغاوت کے مناظر پیش کر چکی تھی۔ لیکن فروری 1632ء میں انہوں نے جس سرکشی کا ثبوت دیا وہ سلطان مراد کے لیے جس نے اسی سال انتظامِ سلطنت اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔ ایک نہایت تلخ تجربہ تھا۔ ان باغیوں نے بغداد کی مہم سے ناکام لوٹنے کے بعد رجب پاشا کے بھڑکانے سے ایک روز قصر سلطانی کے سامنے جمع ہو کر صدرِ اعظم حافظ پاشا، مفتی اعظم یحییٰ، دفتر دار مصطفیٰ اور سلطان کے چند دوسرے معتمد عہدداروں کے قتل کا مطالبہ نہایت گستاخی اور اصرار کے ساتھ پیش کیا۔ سلطان مراد نے انہیں سمجھانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ کس طرح راضی نہ ہوئے، بلکہ انہوں نے اسے یہ دھمکی دی کہ اگر وہ ان کے مطالبات منظور نہ کرے گا تو اس کا نتیجہ خود اس کے حق میں بہت برا ہوگا۔ آخر کار مراد نے نہایت مجبور ہو کر حافظ پاشا کو بلایا اور اس سے باغیوں کے مطالبے کا ذکر کیا۔ حافظ پاشا نے جواب دیا:۔
"میرے بادشاہ حافظ جیسے ایک ہزار غلاموں کی جان تجھ پر نثار میری صرف یہ درخواست ہے کہ تو مجھے اپنے ہاتھ سے قتل نہ کرنا، بلکہ انہی لوگوں کے سپرد کر دے تاکہ مجھے شہادت حاصل ہو اور میرے خون کا وبال ان کے سروں پر آئے"۔
اس کے بعد حافظ پاشا:۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم اناللہ وانا الیہ راجعون، کہتا ہوا نہایت دلیری کے ساتھ باغیوں کی طرف بڑھا، سلطان مراد اس منظر کو دیکھ کر اپنے آنسؤں ضبط نہ کر سکے، وزرائے سلطنت بھی جو اس موقع پر موجود تھے اشکبار آنکھوں سے اس خونی تماشے کو دیکھ رہے تھے، جونہی حافظ پاشا آگے بڑھا باغی خونخوار درندوں کی طرح اس پر چھپٹے، حافظ پاشا نے پہلے حملہ آور کو ایک ہی وار میں ختم کر دیا، یہ دیکھ کر بقیہ سپاہی اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے خنجروں سے ہلاک کر ڈالا ایک ینی چری سپاہی نے اس کے سینے پر چڑھ کر اس کا سرکار ڈالا اور جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو گیا تو سلطان مراد نے بلند آواز میں کہا:۔
"خدا کی مرضی پوری ہو، لیکن اے خوں خوار انسانوں جو وقت اس نے مقرر کر دیا ہے اس وقت ضرور تم سے اس کا انتقام بھی لیا جائے گا، تمہیں نہ تو اللہ کا خوف ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا احترام"
لیکن باغیوں پر اس دھمکی کا کچھ بھی اثر نہ ہوا 2 مہینے کے اندر بہت سے دوسرے بے گناہ باغیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے، خود سلطان مراد کی معزولی کے مسئلے پر بھی فوج میں اعلانیہ گفتگو ہوتی تھی اور مراد کو اچھی طرح اندازہ ہو گیا کہ اس کے سامنے صرف دو ہی صورتیں ہیں، یا تو اپنے قتل کے لیے تیار ہو جائے، یا پھر باغیوں کی بیخ کُنی کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑے۔ خوش قسمتی سے فوج میں بھی کچھ لوگ ایسے تھے، جو اپنے ساتھیوں کی سرکشی اور بیرا روی سے نہایت بیزار تھے۔ ان لوگوں نے سلطان کی خدمت میں حاضر ہو کر اس بات کا وعدہ کیا۔ چنانچہ خفیہ طور پر ایک دلیر اور جانباز دستہ جس میں ہر حال میں اعتماد کیا جا سکتا تھا۔ رفتہ رفتہ تیار کر لیا گیا۔ ینی چری اور سپاہی دستے کا باہمی حسد بھی سلطان کے مقصد میں بہت کچھ مددگار ثابت ہوا اور سلطان نے ان کی نزاع سے کافی فائدہ اٹھایا۔ سلطان نے پہلا کام تو یہ کیا کہ اس بغاوت کے اصلی بانی رجب پاشا کو اچانک خفیہ طور پر قتل کرا دیا اور اس کے بعد پھر وہ باغیوں کی سرکوبی کے لیے آگے بڑھے۔
29 مئی 1632ء کو سلطان نےایک دیوانِ عام منعقد کیا جس میں مفتی اعظم، وزرائے سلطنت، اکابرعلماء اور دو فوجی سردار جنہوں نے باغیوں کے خلاف سلطان کی اطاعت کا حلف لیا تھا حاضر تھے۔ سواروں کے 6 دستے بھی جن کی وفاداری پر اعتماد کیا جا سکتا تھا، باہر کھڑے تھے۔ سلطان مراد نے پہلے ینی چری دستوں کو سامنےبلا کر انکی وفاداری پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ مجھے یقین ہے کہ تم باغیوں کی سرکوبی کے لئے میرا ساتھ دو گے۔ ینی چری دستوں نے باآواز بلند کہا کہ بادشاہ کے دشمن ہمارے دشمن ہیں اور قران پاک ہاتھ میں لے کر قسم کھائی کہ ہم سلطنت کی کامل اطاعت کریں گے۔ اس کے بعد سلطان مراد سپاہیوں کے وفد کی طرف متوجہ ہوئے جو ینی چری فوج کی اس جوش کو بڑی تشویش کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔
اس نے ان کی سرکشی پر ملامت کی، سپاہیوں نے ادب کے ساتھ معذرت پیش کی، کہ گو سلطان کی شکایتیں بجا ہیں، تاہم وہ خود ذاتی طور پر سلطنت عثمانیہ کے مطیع اور وفادار ہیں البتہ اپنے ماتحتوں کی اطاعت پر قابو نہیں رکھتے۔ سلطان مراد نے جواب دیا کہ اگر تم وفادار ہو تو وہی حلف لو جو تمہارے بھائی ینی چری دستوں نے ابھی لیا ہے اور اپنے دستوں سے باغیوں کے سرداروں کو گرفتار کر کے میرے حوالے کر دو، سپاہی افسروں نے خوفزدہ ہو کر اطاعت کا حلف لے لیا۔
اس پر ایشیاءکے ایک عربی النسل قاضی نے کھڑے ہو کر نہایت بے خوبی کے ساتھ عرض کیا:۔
" میرے سلطان ان تمام باتوں کا علاج صرف تلوار کی دھار ہے"
اس قاضی کا یہ اعلان لکھ لیا گیا اور پھر سلطان وزرائے سلطنت، مفتی اعظم اور تمام حاضرین نے متفقہ طور پر ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مضمون یہ تھا کہ وہ بدامنی اور بغاوت کو ختم کرنے کی حتی الوسع پوری کوشش کریں گے۔
سلطان مراد نے اسی روز سے اپنی آزاد حکومت شروع کر دی تھی، باغیوں کے تمام سردار اور وہ لوگ جن کو سلطان مراد اس بغاوت میں شریک سمجھتا تھا قتل کر دیے گئے۔ قسطنطنیہ کے علاوہ صوبوں میں بھی باغیوں کا استحصال یوں ہی کیا جانے لگا اور مہینوں تک قتل و خونریزی کا سلسلہ جاری رہا، خفیف سے شبہ پر بھی بڑے بڑے عہدے دار فوراً قتل کر دیے جاتے، نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں کے اندر سلطنت کے ہر شعبے کی تمام خرابیاں دور ہو گئیں اور فوج کی سرکشی کا خاتمہ ہو گیا۔ سلطنت کے طول و عرض میں امن و امان قائم ہو گیا اور عدل انصاف کی حکومت نظر آنے لگی اور یوں تقریباً 10 سال سے جاری خانہ جنگی اور شورش کا سلطان مراد کے ہاتھوں خاتمہ ہو گیا اور اب سلطان مراد کا حقیقی دور حکومت شروع ہو چکا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ علم و فن کے میدان میں بھی ترقی ہونے لگی۔
اس عرصے میں علم و فن سے لبریز ایک نوجوان عثمانی سائنس دان، احمد چلبی، ہواؤں کو چیرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ اس کا خواب صرف ایک نظریہ نہ تھا بلکہ سائنس، مشاہدے اور تجربے پر مبنی ایک مشن تھا۔ اُس نے مختلف پرندوں، خاص طور پر عقاب کی پرواز کا مطالعہ کیا اور اپنے ہاتھوں سے ایک پر نما اڑنے والا آلہ تیار کیا، جسے وہ "عقاب کے پر" (Kartal Kanatları) کہتا تھا۔
کئی دنوں تک وہ اپنے پرزوں کو آزمانے کے لیے خفیہ طور پر استنبول کے باہر کی پہاڑیوں پر تجربات کرتا رہا۔ آخرکار، جب وہ پوری طرح مطمئن ہوا، تو اُس نے ایک حیران کن اعلان کیا، کہ وہ گالاٹا ٹاور کی بلندی سے پرواز کرے گا۔
روایت کے مطابق، ایک دن تمام شہر کی نظریں اُس بلند و بالا مینار پر مرکوز تھیں جہاں احمد چلبی کھڑا تھا۔ اُس نے اپنے بازوؤں سے بندھے پرزے کھولے، اللہ کا نام لے کر خود کو فضا میں چھوڑ دیا — اور معجزانہ طور پر، وہ فضا میں تیرنے لگا!
کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً 3 کلومیٹر دور، بوسٹانچی (یا ڈوغان جلاری) کے علاقے میں بحفاظت اترا۔ سلطان مراد چہارم نے اُسے خوب انعام دیا، مگر ساتھ ہی اس کے "بےحد ذہین ہونے" سے خوف کھاتے ہوئے اُسے الجزائر بھیج دیا۔
سلطان مراد چہارم کے دورِ حکومت میں استنبول ایک ہولناک آفت کا شکار ہوا، جب 1633ء میں شہر کے گنجان آباد علاقوں میں ایک تباہ کن آگ بھڑک اٹھی۔ روایت کے مطابق، یہ آگ ایک تمباکو نوش دکاندار کی لاپرواہی سے لگی، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے گئی۔ اندازاً بیس ہزار سے زائد مکانات، بازار، مساجد اور دیگر عمارات راکھ کا ڈھیر بن گئیں، اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ اس سانحے نے مراد چہارم کو سخت ایکشن لینے پر مجبور کر دیا۔ سلطان نے فوری طور پر تمباکو نوشی، شراب نوشی، اور کافی خانوں پر پابندی عائد کر دی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سرِ عام سزائیں دلوائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر کی دوبارہ تعمیر کا آغاز ہوا، جہاں چوبی عمارات کی جگہ پتھروں سے مضبوط عمارتیں بنائی گئیں۔ یہ واقعہ نہ صرف عثمانی شہری نظم و نسق کے لیے ایک موڑ ثابت ہوا بلکہ سلطان مراد چہارم کی طاقتور اور آہنی حکمرانی کا مظہر بھی بن گیا۔
اس دوران پولینڈ کی روس کے ساتھ جنگ چھڑ گئی سلطان مراد نے پولینڈ پر بھی نظر رکھنے کا حکم دیا۔ بوسنیا کے بےلربے باظا محمد پاشا نے ودین میں گیران، افلاق اور ودین کے سپاہیوں کو جمع کرتے ہوئے وہ پولینڈ میں داخل ہوئے تو انہوں نے بہت سا مال غنیمت اور قیدی حاصل کیے۔ پولینڈ کا سفیر صلح کی التجا کے لیے دربار عالیہ میں حاضر ہوا اور اس نے سالانہ خراج دینے اور سرحد پر موجود مضبوط قلعوں کو مسمار کرنے کی شرط پرعثمانیوں سے صلح قبول کر لی۔ اسی دوران کچھ صفوی دستوں نے عثمانی سرحد پار کر کے وان شہر کا محاصرہ کر لیا تھا۔ جب یہ خبر سلطان مراد تک پہنچی تو انہوں نے وان طبان محمد پاشا کو حکم دیا کہ اسکودار میں فوج تیار کی جائے۔ سلطان مراد نے خود لشکر کا معائنہ کیا۔ جب صفیوں کو معلوم ہوا کہ سلطان مراد ان کے خلاف مہم پر روانہ ہونے والا ہے تو انہوں نے وان کا محاصرہ ختم کر دیا۔ اس سے پہلے کہ سلطان مراد مہم پر نکلتے کہ انہوں نے خفیہ طور پر بورصہ شہر کا معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا سلطان مراد ابھی نائیکو میڈیا سے تھوڑی ہی دور آگے بڑھے تھے، کہ انہوں نے وہاں کے قاضی کو کسی جرم کی سزا میں قتل کرا دیا۔ اس قتل سے دارالسلطنت کے علماء کی جماعت میں بڑی برہمی پیدا ہوئی۔ سلطان مراد نے پہلے ہی عہد کر لیا تھا کہ وہ نظم و نسق دوبارہ بحال کرنے کے لیے کسی پر بھی رحم نہیں کرے گا۔ اس دوران جب سلطان مراد بورسہ میں اپنے آباؤاجداد کے مزارات پر حاضری دے رہے تھے، تو ادھر دارالحکومت میں شیخ الاسلام حسین آفندی نے بھی ازنیک کے قاضی کو پھانسی دیے جانے پر علمائے کرام کا اجلاس بلایا اور کوسم سلطان کو ایک خط لکھا، اس خط میں انہوں نے سلطان مراد کے اقدامات کو غلط قرار دیا اور کہا کہ اگر وہ دوبارہ ایسی حرکت کرے گا تو اسے تخت سے اتار دیا جائے گا۔ کوسم سلطان نے یہ خط فوراً بورصہ میں سلطان مراد تک بھجوا دیا، یہ خط پڑھتے ہی سلطان مراد شدید غصے کے عالم میں استنبول واپس روانہ ہوئے، کیونکہ حسین آفندی نے سلطان کے اقتدار کو چیلنج کیا تھا۔ استمبول پہنچ کر سلطان نے اسے قبرص جلاوطن کرنے کا حکم دیا۔ لیکن جب جہاز روانہ ہو چکا تھا تو سلطان مراد چہارم کو خدشہ ہوا کہ اگر یہ بزرگ عالم قید سے بچ گئے یا عوامی حمایت حاصل کر لی تو یہ اس کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ سلطان نے بستانچی باشی یعنی کہ محل کے محافظوں کو حکم دیا کہ جہاز کو روک کر حسین آفندی کو ختم کر دیا جائے۔ چنانچہ استمبول کے قریب سمندر کے کنارے جہاز سے شیخ السلام کو اتار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ تاریخِ آلِ عثمان میں سلطان کے حکم سے کسی مفتی اعظم کے قتل کی پہلی اور آخری مثال تھی اس قتل کے بعد علماء کی شورش بالکل ختم ہو گئی۔
1634ء میں جب سلطان مراد کو پتہ چلا کہ پولینڈ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تو سلطان نے خود جنگ کا اعلان کر دیا۔ جیسا کہ کبھی ان کے بھائی سلطان عثمان ثانی نے کیا تھا۔ اب سلطان مراد بھی پولینڈ کی مہم پر روانہ ہونے والے تھے۔ 27 اپریل 1634ء کو سلطان مراد چہارم ادرنے پہنچے، جب پولینڈ کو معلوم ہوا کہ سلطان مراد ادرنے پہنچ چکے ہیں، تو اس نے معاہدے کی شرائط ماننے کی قسم کھائی۔ ناظرین چونکہ سلطان مراد کی نظریں مشرق پر جمی ہوئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے با آسانی پولینڈ کو معاف کر دیا اور استمبول واپس لوٹ آئے
1634ء میں سلطان مراد کو بوسنیا کے گورنر باظا محمد پاشا کے بارے میں ایک خبر موصول ہوئی، وہ خبر یہ تھی کہ آباظا محمد پاشا پر ایک الزام لگا کہ اس نے یونانیوں اورآرمینیوں کے درمیان جھگڑے کو ختم کرنے کے بدلے میں آرمینیوں سے رشوت وصول کی ہے یہ بات سلطان تک پہنچی تو سلطان نے نہ صرف انصاف کے خلاف اقدام سمجھا بلکہ سلطان نے اس کی ماضی کی بغاوتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے سخت خطرہ تصور کیا۔ چنانچہ 1634ء میں باظا محمد پاشا کو سلطان کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔
ان تمام حالات سے نبٹنے کے بعد سلطان نے اپنی اصل مہم کا اعلان کیا جس کا وہ برسوں سے ارادہ کیے ہوئے تھے وہ مہم تھی صفویوں کے خلاف لشکر کشی، کیونکہ اب سلطان نے پوری طرح ریاستی نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اس لیے وہ اطمینان سے استنبول سے باہر نکل سکتے تھے۔
جب سلطان مراد قونیہ پہنچے تو انہوں نے مولانا روم کے مزار پر حاضری دی۔ اس کے بعد سلطان اپنے سفر پر نکل کھڑے ہوئے 17 جون کو سلطان مراد اور صدر اعظم کی فوجیں آپس میں بائے بروت کے مقام پر مل گئیں، یہاں تک آتے آتے سلطان مراد نے ایک وزیر، 3 بیلر بے اور ایک سجاق بے کو رشوت لینے کی سزا کے طور پر انہیں سزائے موت دے دی تھی۔
27 جولائی کو ایریوان کا محاصرہ شروع ہوا یہاں صرف 12 ہزار سپاہی موجود تھے، اگرچہ صفوی سلطنت کی فوج قریب تھی۔ لیکن انہوں نے میدان جنگ میں آنے کی ہمت نہ کی، یوں صفوی مدد نہ ملنے پر اہلِ شہر نے 11 دن تک عثمانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لیکن آخر کار 8 اگست 1635ء کو ایریوان عثمانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ یوں 31 سال اور دو ماہ بعد ایریوان دوبارہ عثمانی کنٹرول میں آگیا۔ اس شہر میں کسی ایک شخص کا بھی خون نہ بہا سپاہی مکمل نظم و ضبط کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔ شیخ الاسلام یحییٰ آفندی نے جمعہ کی نماز پڑھائی اس کے بعد سلطان مراد نے اپنی فوج کے ساتھ صفیوں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ مگر صفوی بھاگ کھڑے ہوئے۔ جلد عثمانی فوج نے جنوب کی طرف رخ کیا اور سلطان مراد 11 ستمبر کو تبریز میں داخل ہوئے 55 ہزار آبادی والے شہر میں کسی نے بھی عثمانیوں کے سامنے مزاحمت نہ کی۔ یوں چوتھی بار تبریز عثمانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ سلطان مراد اصفہان تک پیش قدمی کرنا چاہتے تھے مگر بیماری کے سبب وہ اس ارادے سے دست بردار ہو کر دیارِ بکر واپس چلے گئے۔ 5 دن وہیں قیام کیا اور 9 ماہ کی طویل مہم کے بعد وہ واپس استنبول چلے گئے۔ جب سلطان مراد استنبول واپس پہنچے تو صفوی افواج نے ایریوان پر چڑھائی کر دی اور صرف 13 ماہ اور سات دن کی قلیل مدت کے بعد صفیوں نے دوبارہ ایریوان پر قبضہ کر لیا۔ اس پر سلطان مراد جلد ایریوان کی طرف ہ روانہ ہوئے اور انہوں نے صفویوں سے "ایریوان" کو واپس حاصل کر لیا
اور یہیں سے 1638ء میں سلطان مراد اپنے عہد کی آخری اور سب سے بڑی مہم پر روانہ ہوئے۔
جب سلطان موصل پہنچے تو ہندوستان کے بادشاہ کا سفیر سلطان کے پاس حاضر ہوا اور اس نے سلطان کو قیمتی تحفے اور سلام پہنچایا ان میں سے ہاتھی کی کھال سے بنا ایک ڈھال بھی تھا جس کے بارے میں دعویٰ تھا کہ کوئی ہتھیار اسے کاٹ نہیں سکتا۔ لیکن سلطان مراد نے صرف ایک ہی وار میں ڈھال کو چیر دیا جس پر سفیر سمیت تمام درباری حیرت میں مبتلا ہو گئے۔ سلطان نے ہندوستان سے دوستانہ تعلقات کی خواہش ظاہر کی اور سفیر کو رخصت کر دیا۔
ناظرین بغداد 15 سال سے ایرانیوں کے قبضے میں تھا اور باوجود کئی محاصروں کے ترکوں سے واپس لینے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے۔ اسے شروع میں سلطان سلیمان اعظم نے فتح کر کے سلطنت عثمانیہ میں شامل کیا تھا۔ لیکن مراد کی تخت نشینی کی پہلے ہی سال جبکہ بغاوتوں اور بدامنیوں کے باعث شاہ عباس نے فائدہ اٹھا کر اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب 1638ء میں مراد اس سابق مقبوضے کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ 15 نومبر 1638ء کو 5 ماہ 8 دن کی طویل مہم کے بعد بالاخر سلطان 15 نومبر کی رات بغداد کے سامنے جا پہنچے اور سلطان نے محاصرہ شروع کر دیا۔ محصورین جن کی تعداد 30 ہزار تھی نہایت دلیری اور جانبازی سے مقابلہ کرتے رہے۔ لیکن ترکوں کی تعداد ان کی فوجی تنظیم اور سب سے بڑھ کر خود سلطان مراد کی غیر معمولی شجاعت کی وجہ سے غالب رہی، اس دوران محاصرہ میں سلطان مراد نے معمولی سپاہیوں کے شانہ بشانہ کھائیوں میں کام کیا اور ان کی ہمت قائم رکھنے کے لیے وہ ہر کام میں ان کے برابر شریک ہوتے رہے۔ جب ایرانیوں نے دیکھا کہ وہ کامیابی کے ساتھ مقابلہ نہ کر سکیں گے تو ایک روز انہوں نے اپنے سب سے بڑے پہلوان اور بہادر کو باہر نکال کر ترکوں کو چیلنج دیا کہ وہ بھی دست بدست لڑائی کے لیے اپنی فوج کے سب سے بڑے بہادر کو میدان میں اُتاریں، یہ چیلنج سن کر سلطان مراد خود اس ایرانی پہلوان کے مقابلے کے لئےآگے بڑھے اور دیر تک شمشیر زنی کے جوہر دکھا کر ایک تیغا ایسا مارا کہ ایرانی کا سر کٹ کر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔
سلطان مراد اپنی جسمانی قوت اور حربی قابلیت کے لحاظ سے تمام عثمانی لشکر میں کوئی حریف نہیں رکھتے تھے۔ بہرحال 22 دسمبر 1638 کو ترک توپوں نے فصیل شہر میں 800 گز جوڑا ایک رخنہ پیدا کر دیا اور اس وقت سے دونوں فوجوں کا اصل مقابلہ شروع ہوا، ترک شہر میں داخل ہونے کے لیے دوڑے لیکن ایرانیوں نے اپنی قابل داد جانبازی سے دو روز تک انہیں اندر قدم رکھنے سے روکے رکھا۔ بالاخر 25 دسمبر 1638ء کو تیسرے روز وزیراعظم طیار محمد پاشا فوج لے کر آگے بڑھے، گو وہ خود گولی کھا کر گرا،تا ہم ترک گولیوں کی باڑ سے بے خوف ہو کر لڑتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے۔
1200 سواروں کا ایک دستہ بغداد کی حفاظت کے لیے سلطان مراد چھوڑ کر فروری 1639ء میں استمبول کی طرف روانہ ہوئے اور 10 جون 1639ء کو نہایت شان و شوکت کے ساتھ وہ دارالسلطنت میں داخل ہوئے۔ استمبول اس سے قبل سلاطینِ عثمانیہ کی ایسی فاتحانہ واپسی بارہا دیکھ چکا تھا، لیکن سلطان مراد چہارم کا یہ داخلہ اس قسم کا آخری داخلہ تھا۔ اس کے بعد پھر کوئی سلطان فتوحات حاصل کر کےپایہ تخت میں نہیں آیا تھا۔
15 ستمبر 1639ء کو ایران اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان ایک صلح نامہ مرتب ہوا جس کی رو سے ایریوان ایرانیوں کو واپس کر دیا گیا، لیکن بغداد اور اس کے ملحق علاقوں پر عثمانیوں کا قبضہ باقی رہا۔
9 فروری 1640ء کو سلطان مراد نے 28 سال کی عمر میں وفات پائی ، بغداد سے واپس آنے کے بعد سب سے پہلے اس نے سلطنت کی بحری قوت کو جو بہت کچھ کمزور ہو گئی تھی ، درست کرنے کی کوشش کی اور البانیا اور اس کے قریبی اضلاع میں بغاوت کی جو شورش اس کی ایشیائی مہم کے زمانہ میں پیدا ہوگئی تھی ، اسے دور کیا، لوگوں کا خیال تھا کہ اس کی آئندہ جنگ وینس سے ہوگی اور اس نے اس جنگ کے لیے تیاریاں شروع بھی کر دی تھیں، لیکن اسی دوران میں وہ بخار میں مبتلا ہو گیے جس سے جاں بر نہ ہو سکے، موت سے پہلے اس نے اپنے بھائی ابراہیم کے قتل کا حکم دیا، ابراہیم مراد کے بعد سلطنت کا تنہا وارث تھا، سلطانہ والدہ نے اس کی حکم کی تعمیل نہ ہونے دی اور مراد کے پاس کہلا بھیجا کہ ابراہیم اس کی خواہش کے مطابق قتل کر دیا گیا، مراد اس وقت حالت نزع میں تھا، قتل کی اطلاع پا کر وہ مسکرایا اور پھر فوراً ہی ختم ہو گیا۔
ذاتی اوصاف
سلطان مراد چہارم آل عثمان کا آخری جنگجو اور فاتح فرماں روا تھا ، اس نے صرف 8 سال حکومت کی اور صرف 28 سال کی عمر میں وفات پا گیا۔ لیکن اس قلیل مدت اور نوعمری میں اس نے سلطنت عثمانیہ کو، جس کا شیرازہ درہم برہم ہو چکا تھا اور جو فوج کی بغاوت ، صوبے داروں کے انتشار کے باعث تباہی اور بربادی سے بالکل قریب پہنچ گئی تھی ، تمام خرابیوں اور فسادات سے پاک کر کے از سر نو ایک تازہ زندگی بخش دی، وہ حد درجہ متشدد اور سخت گیر تھا۔ لیکن اس کا تشدد اور اس کی سخت گیری سلطنت کی بقا کے لیے ضروری تھی ، اس کا احتساب بعض اوقات ظلم کی حد تک پہنچ جاتا تھا، اور سیکڑوں بے گناہ محض شبہ کی بنا پر اس کے حکم سے قتل کر دیے گئے۔ لیکن ایسی حالت میں کہ تمام سلطنت میں بدامنی پھیلی ہوئی تھی اور چھوٹے سے لے کر بڑے تک حکومت کا کوئی شعبہ فساد سے پاک نہ تھا، ان بے گناہوں کا خون بھی بہر حال مفید ہی ثابت ہوا، یہ اس سختی کا نتیجہ تھا کہ فوج کی باغیانہ سرکشی یک قلم موقوف ہوگئی ، عدالتوں میں انصاف ہونے لگا، رعایا کولگان وصول کرنے والوں کی تعدی کی شکایت باقی نہ رہی اور سلطنت میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک امن عام اور خوش حالی ہی کے مناظر نظر آنے لگے۔
History In Urdu