سلطان سلیم ثانی کی اچانک موت کی خبر جب پھیلی تو ان کا بڑا بیٹا مراد جو کہ اس وقت مغنیسا کی حکومت پر مامور تھا، وہ 21 دسمبر 1574ء کو استمبول پہنچا اور 28 سال کی عمر میں تخت نشیں ہوا۔ سلطان محمد فاتح کے قائم کردہ دستور کے مطابق اس نے عنانِ سلطنت کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد اپنے تمام بھائیوں کو قتل کرا دیا اور اس کے بعد سب سے پہلا فرمان اس نے شراب کی ممانعت میں صادر کیا جس کا رواج سابق سلطان یعنی کہ اس کے والد کے طور میں بہت زیادہ ہو گیا تھا۔
سلطان مراد ثالث کے عہد کی ابتدائی 4 برس "سوقلولی پاشا" کی صدارت کے تھے۔ پھر بھی سلطان پر حرم کا اثر روز بروز زیادہ ہوتا جا رہا تھا۔ حرم کی چار خواتین کا اثر خصوصیت کے ساتھ اس پر بہت زیادہ تھا اور امور سلطنت کا تمام انتظام حقیقتً انہی خواتین کی خواہش کے مطابق ہوتے تھے۔ ان میں سے ایک سلطانہ والدہ "نوربانو" تھی۔ دوسری مراد کی محبوبہ سلطانہ صفیہ تھی، جو وینس کے مشہور اور طاقتور خاندان بفوbaffo کی رئیس زادی تھی اور اپنے حسن اور زکاوت کے باعث مراد پر حد درجے حاوی تھی۔ صفیہ کو سلطنت کی جنگ و صلح میں خاص دخل تھا چنانچہ باوجود اس کے کے وینس نے ایک سے زائد بار سلطان کو غصہ دلایا مخص صفیہ کی کوششوں سے جنگ کی نوبت نہ آئی۔ تیسری ایک ہنگیرین خاتون تھی جس نے کچھ دنوں کے لیے صفیہ کی محبوبیت کو زائل کر دیا تھا اور سلطان مراد کی توجہ کا مرکز بنی رہی چوتھی خاتون جان فدا حرم سلطانی کی خاص محتمم تھی اور وہ بھی اپنی لیاقت اور کی وجہ سے سلطان مراد کی مزاج میں بہت کچھ دخل اندازی کر چکی تھی یہی چار خواتین سلطان کی خاص مشیر کار اور انتظام حکومت کی حقیقی نگران تھیں۔
سلطان مراد ثالث جب تخت نشین ہوئے تو اس وقت ان کی عمر تقریباً 28 سال تھی۔ انہوں نے صدرِاعظم "سوقلولی پاشا" کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائیض رکھا۔ اس کے علاوہ دوسرے وزیروں میں پیالے پاشا، احمد پاشا، محمود بادشاہ، لالہ مصطفیٰ پاشا،اور کوجا سنان پاشا تھے۔ جبکہ بحری بیڑے کے سربراہ علی پاشا تھے اور شیخ الاسلام مفتی حامد آفندی تھے۔ سلطان مراد ثالث کا دورِ حکومت تقریباً جنگ و جدل کا ہی تھا۔ سلطنت کے تقریباً ہر حصے اور ہر سرحد میں اہم واقعات رونما ہو رہے تھے۔ شمال میں روس اور پولینڈ کا معاملہ، مغرب میں آسٹریا، افریقہ میں "چارڈ" تک فوجی مہمات اور مشرق میں صفویوں کے ساتھ طویل جنگیں شامل ہیں۔
سلطان سلیم ثانی کے دور میں مشہور عثمانی بحری کمانڈر "الوج علی پاشا" نے تیونس کو فتح کیا، جس کے بعد بحیرہ روم میں صرف مراکش ایسا علاقہ بچا تھا، جو عثمانی سرپرستی میں نہ تھا۔
الجزائر کے والیان ہمیشہ مراکش کی سلطنت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہے،یہاں تک کہ انہوں نے افریقہ میں کئی ایک مپمات بھی کیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مراکش کے مسلمان سلطان عثمانیوں کے خلاف اسپین اور پرتگال سے مدد لے رہے تھے اور عثمانی یہ نہیں چاہتے تھے کہ عیسائی اثرواسوخ وہاں بڑھنے لگے۔ اسپین اور پرتگال ہر وقت مراکش پر قبضہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ مراکش میں اس وقت کے سلطان ابو محمد عبداللہ برسر اقتدار تھے۔ ان کے عثمانی سلطان سلیم ثانی کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات قائم تھے۔ وہ ایک دوسرے کو تحفے اور تحائیف بھیجتے رہتے تھے۔ سلطان سلیم ثانی کا انتقال 1574ء میں ہوا اور اسی سال مغربی افریقہ کی مشہور سعدی سلطنت کے سلطان "محمد الشیخ غالب" جو عام طور پر سلطان عبدالملک غالب کے نام سے جانے جاتے تھے کا بھی انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے بعد تخت ان کے بیٹے محمد غالب نے سنبھالا، لیکن تخت سنبھالنے کے بعد ان کے چچا عبدالملک اور احمد نے اپنے بھتیجے کی سلطنت کو تسلیم نہ کرتے ہوئے تخت کی جنگ چھیڑ دی، عثمانی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ اگر اسپین یا پھر پرتگال سے مدد مانگی جاتی تو عثمانی فوج مداخلت کے لیے بالکل تیار بیٹھی تھی۔ عبدالملک استنبول آیا اور اس نے سلطان مراد ثالث سے ملاقات کی۔ اس نے سلطان کو یقین دلایا کہ وہ عثمانی سلطان کا تابع ہو کر مراکش کا سلطان بننا چاہتا ہے۔ اولوج علی پاشا چونکہ مغرب پر قابض تھے اس لیے انہوں نے اس پیشکش کی حمایت کی کیونکہ عبدالملک عثمانیوں کی طرح سوچتا تھا اسے اسپین اور پرتگال سے نفرت تھی وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے عثمانیوں کی حمایت حاصل نہ کی تو اسپین اس پر ضرور قبضہ کر لے گا اس پر عثمانی سلطان نے مراکش کے سلطان کو خط لکھا کہ وہ شمالی مراکش کی حکمرانی اپنے چچا عبدالملک کو سونپ دے، کیونکہ یہ علاقہ عیسائیوں کے حملے کے خطرے میں ہے اور عثمانی بحری و بری افواج سے اس کی حفاظت کی جائے گی۔ محمد غالب نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔
اس پر الجزائر میں موجود عثمانی فوج رمضان پاشاہ کے حکم پر حرکت میں آئی۔ یوں 8 ہزار کی فوج کے ساتھ وہ الجزائر سے روانہ ہوئے، راستے میں بربر قبائل بھی عثمانی فوج سے جا ملے، جس سے فوج کی تعداد 15 ہزار تک پہنچ گئی۔ جب رمضان پاشا مراکش میں داخل ہوا تو عبدالملک کے حمایتی بھی عثمانی فوج میں شامل ہو گئے اور اب فوج کی مجموعی تعداد 20 ہزار تک جا پہنچی۔ رمضان پاشا نے "فاس" شہر کو عبور کیا اور پھر وہ "مکناس" کی طرف بڑھے۔ محمد ثالث کے بہت سے فوجی عثمانیوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اب محمد ثالث کے پاس صرف60 ہزار کی فوج تھی، لیکن رمضان پاشا نے بغیر کسی بڑی مزاحمت کے مارچ 1576 ء میں اس نے محمد ثالث کی فوج کو شکست دی، محمد ثالث فرار ہو گیا اور عبدالملک کو مراکش کا نیا سلطان بنا دیا گیا۔ اب ظاہر تھا کہ محمد ثالث عیسائیوں سے مدد مانگے گا، سو عیسائیوں سے نمبرد آزما ہونے کے لیے عروج علی پاشا اپنی بحری فوج کے ساتھ بحیر روم کے مغرب میں تیار کھڑا تھا۔ جیسے عثمانی سالاروں نے سوچا تھا ویسا ہی ہوا، محمد ثالث نے اسپین اور پرتگال سے فوجی مدد طلب کی اور وہ عبدالملک کے خلاف مراکش پر چڑھ دوڑا اور مراکش شہر پر قبضہ کر لیا۔ پرتگال کے بادشاہ "سبیسٹین" اور اسپین کے بادشاہ "فلپ" نے ایک متحدہ فوج جمع کی اور یوں50 بحری جنگی جہاز اور تقریباً 5600 بری فوج روانہ ہوئی اگر پرتگالی اور اسپینی کامیاب ہو جاتے تو مراکش کا بحر اوقیانوس والا حصہ پرتگال اور بحیر روم والا حصہ اسپین کے پاس چلا جاتا، یوں جون 1578ء میں پُرتگال کے بادشاہ سبیسٹین نے "ارضیلہ" پر حملہ کیا، رمضان پاشا فوراً اپنی کمان میں دی گئی فوج کے ساتھ پرتگالیوں پر حملہ آور ہوا، محمد ثالث کے حمایتی بھی پرتگالی فوج سے جا ملے۔ لیکن اس کے باوجود رمضان پاشا نے دشمن کی فوج کو صرف چند گھنٹوں میں ہی مکمل تباہ و برباد کر دیا۔اس جنگ میں 20 ہزار فوجی مارے گئے جبکہ بے شمار قیدی بنا لیے گئے۔ اس جنگ میں پرتگالی بادشاہ سبیسٹین بھی مارا گیا۔ رمضان پاشا نے عیسائیوں کو بلانے والے محمد ثالث کو سزائے موت دے دی۔ اس دوران عبدالملک جسکی کی عمر کافی زیادہ ہو چکی تھی، جب اسے پتہ چلا کہ پرتگالی ہار گئے ہیں اور ان کا بادشاہ بھی مارا گیا ہے تو وہ خوشی کے مارے فوت ہو گیا۔ جس پر رمضان پاشا نے عبدالملک کے بھائی احمد کو نیا سلطان بنا دیا۔ احمد کا دور مراکش کے سنہری ادوار می سے ایک تھا اس نے اپنے ملک میں خلافت عثمانیہ کے نام کا خطبہ پڑھوایا اور ریاستی نظام کو عثمانی ڈھانچے میں تبدیل کیا۔ اس دور میں سلطنت عثمانیہ کا اثر و اسوخ افریقہ کے وسط تک پھیل چکا تھا۔ اسپین نے اب مان لیا کہ مغرب اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور وہ اب بحیرہ روم میں افریقی ساحلوں پر بھی گرفت کھو چکا ہے۔
سلطان مراد سوم کے دورَ حکومت کا سب سے اہم واقعہ صفیوں کے ساتھ ہونے والی 14 سالہ طویل جنگ تھی۔ جس کا سلسلہ985ھ بمطابق 1570ء سے 998 ہجری بمطابق 1590 عیسوی تک قائم رہا۔ جب سلطان مراد تخت نشین ہوئے تو صفوی بادشاہ طہماسپ نے 150 سو افراد پر مشتمل اپنا وفد بے شمار تحائف اور 500 اونٹوں کے ساتھ سلطان کو مبارکباد پیش کرنے کے لیے روانہ کیا، لیکن جلد 1576 عیسوی میں صفوی بادشاہ طہماسپ 52 سالہ طویل دور حکومت کے بعد وفات پا گیا اور اب اس کی جگہ اس کا بیٹا شاہ اسماعیل ثانی تخت نشین ہوا، اس نے فرقہ واریت کی مذمت کرتے ہوئے اہل تشیع کے خلاف اقدامات کیے اور اس نے خود سنی عقائد کی طرف رجوع کیا۔ جس پر 24 نومبر 1570 عیسوی کو اسے زہر دے کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس کا بھائی محمد خدا بندہ تخت نشین ہوا۔ اس دوران عثمانی سرحد کے مشرق میں آباد کُرد عثمانیوں کو صفویوں کے خلاف جنگ کے لیے اکسانے لگے، اس کے علاوہ شیروان کے سنی مسلمان بھی عثمانیوں کی حکمرانی چاہتے تھے۔ جبکہ سوائے وزیراعظم سوقلولی محمد پاشا کے تمام اُمرا اور وزراء بشمول سلطان سلیم کی سوچ کے حامل سلطان مراد وہ چاہتے تھے کہ صفوی حکومت کو جلد از جلد ان علاقوں سے نکال دیا جائے۔ جس پر کافی بحث و مباحثے کے بعد بالاخر 5اپریل 1578ءکو سلطنت عثمانیہ نے صفویوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا، اس دوران سلطان نے شمالی محاذ پر قبرس کے فاتح لالہ مصطفیٰ پاشا کو اور جنوبی محاذ پر کوچہ سنان پاشا کو مقرر کیا۔ لالہ مصطفیٰ پاشا عثمانی فوجوں کے ساتھ جارجیا پر حملہ آور ہوئے جو ایران کی حلیف ریاست تھی۔ انہوں نے اس کے پائے تخت "تفلیس" کو فتح کر کے پورے جارجیا پر قبضہ کر لیا اور انہوں نے چارجیا کو چار حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے پر ایک ترک افسر مقرر کر دیا۔
عثمانی اور صفوی سرحد پر جھڑپیں شروع ہو چکی تھی ازدمیر اوغلو عثمان پاشا پیش قدمی کرتے ہوئے چالدر جا پہنچے، جہاں 9 اگست 1578ء کو عثمانی اور صفوی سلطنت کے درمیان ایک خون ریز جنگ لڑی گئی۔اس جنگ میں عثمانی فوج کی قیادت اوزدمیر اوغلو عثمان پاشا نے کی،
جبکہ صفوی فوج کی قیادت تومقان خان کر رہا تھا، جس کے ساتھ تقریباً 30 ہزار گھڑسوار موجود تھے۔
یہ جنگ قفقاز کے علاقے میں لڑی گئی اور اس کا مقصد جارجیا اور ایران کے شمالی علاقوں پر قبضہ حاصل کرنا تھا۔
یہ جنگ عثمانی و صفوی جنگوں کا ابتدائی حصہ تھی۔
اس معرکے میں اوزدمیر اوغلو عثمان پاشا صفوی لشکر کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔
تومقان خان کے پانچ ہزار سپاہی اس جنگ میں مارے گئے،
پانچ سو کو قیدی بنا لیا گیا، اور ہزاروں صفوی سپاہی زخمی ہو کر پسپا ہونے پر مجبور ہوئے۔
عثمانی فوج میں آق قویونلو دستے نے نمایاں بہادری دکھائی، جبکہ عثمانی لشکر کے تقریباً 7 بڑے کمانڈر اور 200 کے قریب سپاہی شہید ہوئے۔
جارجیا کے دارالحکومت تفلیس کی فتح کے بعد
لالا مصطفیٰ پاشا کا اگلا هدف شمالی آذربایجان تھا۔
اوزدمیر اوغلو عثمان پاشا اس فتح کے بعد جنوب کی طرف بڑھا، تو تومقان خان نے 20 ہزار گھڑسواروں کے ساتھ عثمان پاشا کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔
اسی دوران 19 ستمبر 1578ء کو صفویوں کے ساتھ ایک اور معرکہ ہوا، جسے تاریخ میں "کویون گچی دی کی جنگ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ معرکہ چالدر کی جنگ کے بعد عثمانیوں کی اگلی بڑی کامیابی تھی۔ اس فتح کے نتیجے میں عثمانی سلطنت کو قفقاز کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے میں آسانی ہوئی، خاص طور پر شیروان، داغستان اور جارجیا کے علاقوں میں۔
جب سنی آبادی نے سنا کہ عثمانی افواج شیروان تک پہنچ چکی ہیں، تو باکو کے علاقوں کے سنی لوگ بھی عثمانی فوج کی مدد کے لیے نکل آئے۔ یوں عثمانی افواج با آسانی بحیرہ خزر تک پہنچ گئیں۔لالا مصطفیٰ پاشا نے اگلا ہدف داغستان مقرر کیا۔
ادھر سائمن لورسب، جو جارجیا کا سابق حکمران تھا،
نے اپنے قدیم دارالحکومت تفلیس کا محاصرہ کر لیا،
مگر ترک محصورین نے بڑی دلیری سے مقابلہ کیا۔یہاں تک کہ حسن پاشا، جو محمد سوقلو پاشا کا بیٹا تھا، مدد لےکر پہنچ گیا اور سائمن کو محاصرہ اٹھانا پڑا۔اس کے بعد 1583ء میں عثمان پاشا نے داغستان پر حملہ کیا اور مکمل قبضہ حاصل کر لیا۔اسی فتح کے بعد،
عثمان پاشا نے عین موسمِ سرما میں کوہِ قاف کو عبور کیا
اور قافہ (کافہ) جا پہنچا۔ وہ محمد گِرائی خان کو، جوکریمیا کا حکمران تھا، تخت سے معزول کرنا چاہتا تھا، کیونکہ خان نے عثمانی افواج کو مدد دینے سے انکار کر دیا تھا۔
جب محمد گِرائی کو اس منصوبے کی خبر ہوئی، تو اس نے علمِ بغاوت بلند کیا اوراس نے 40,000 سواروں کے ساتھ قافہ میں عثمان پاشا کا محاصرہ کر لیا۔
عثمانی سلطان نے محمد گِرائی کے بھائی اسلام گِرائی سے وعدہ کیا کہ اگر وہ مدد کرے، تو اسے کریمیا کے تخت پر بٹھا دیا جائے گا۔چنانچہ اسلام گِرائی نے اپنے بھائی کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور 1584 عیسوی میں محمد گِرائی کو قتل کر دیا۔عثمان پاشا، محمد گِرائی کا سر لے کر
قسطنطنیہ (استنبول) پہنچا، جہاں اس کا نہایت شاندار استقبال کیا گیا۔سلطان نے عثمان پاشا کو اپنی خاص تلوار،
اپنا امامہ، اور اپنا قیمتی جبہ بطور تحفہ عطا کیا۔
ادھر مشرق میں، عروس خان کی قیادت میں 25 ہزار سپاہیوں پر مشتمل صفوی فوج نے شیروان پر حملہ کیا۔
اس کے علاوہ 15 ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک اور صفوی لشکر بھی عثمانیوں پر حملہ کرنے نکلا۔
عثمان پاشا کے پاس صرف 14 ہزار عثمانی سپاہی موجود تھے، مگر اس مرتبہ وہ صفوی حملہ روکنے میں ناکام ہو گئے۔ صفوی افواج شیروان میں داخل ہو کر سنی عوام کا قتل عام کرنے لگیں۔
اسی دوران کریمیا کا نیا خان اپنی تاتاری فوج کے ساتھ
عثمانیوں کی مدد کو پہنچا۔عثمان پاشا نے اپنی افواج کو دوبارہ منظم کیا اور فوری طور پر بلط خان پر حملہ کر دیا۔
یوں 11 نومبر 1578ء کو
پہلی شَمَاخی کی جنگ لڑی گئی، جس میں عثمانیوں نے صفویوں کو عبرتناک شکست دی۔عثمان پاشا نے بلط خان کو اس کے بیٹے سمیت زندہ گرفتار کر لیا۔ بلط خان کی گرفتاری صفوی سلطنت کے لیے بہت بڑا دھچکہ ثابت ہوئی۔عثمان پاشا نے بلط خان اور اس کے بیٹے دونوں کو
سنی مسلمانوں کے قتل عام کے جرم میں سزائے موت دے دی۔
اس کے بعد، 27 نومبر 1578ء کو دوسری شَمَاخی کی جنگ لڑی گئی۔اس جنگ میں عثمانیوں کو 10 ہزار سپاہیوں کی شہادت کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ صفویوں کے تقریباً 20 ہزار سپاہی مارے گئے۔ یہ جنگ کسی حتمی اور قطعی نتیجے پر نہیں پہنچی، جس کی وجہ سے عثمان پاشا کو اپنی کمزور فوجی حالت کے سبب داغستان سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ یوں صفوی دوبارہ شیروان میں داخل ہو گئے۔
گرمیوں کے آغاز پر نئی کمک کے ساتھ عثمان پاشا دوبارہ
شیروان اور باکو کی طرف روانہ ہوئے۔اسی دوران انہیں دارالحکومت قسطنطنیہ میں صدرِ اعظم محمد سوقلو پاشا کے قتل کی خبر موصول ہوئی۔
ناظرین، جیسا کہ ہم ابتدا میں بتا چکے ہیں کہ سلطان مراد سوم کی حکومت کے ابتدائی چار سالوں میں ملک کا نظم و نسق صدرِ اعظم محمد سوقلو پاشا کے ہاتھ میں تھا۔مگر وقت کے ساتھ سلطان مراد کے دوسرے درباریوں، جیسے شمسی پاشا، خواجہ سعد الدین محقق، خواجہ غزنفر آغا،
اور اویس خواجہ کا اثر بڑھتا چلا گیا۔ یہ تمام افراد صدرِ اعظم محمد سوقلو پاشا کے مخالف تھے۔
بدقسمتی سے سلطان مراد سوم پر حرم کے اثرات بھی بہت زیادہ تھے۔ چنانچہ شمسی پاشا، اویس خواجہ، سعد الدین محقق، خواجہ غضنفر آغا اور حرم کی سازشوں کی وجہ سے صدرِ اعظم محمد سوقلو پاشا کا اقتدار روز بروز کم ہوتا گیا۔پہلے اس کے قریبی ساتھیوں کو دارالحکومت سے نکالا گیا، اور پھر سازش کی تکمیل کے بعد خود محمد پاشا کو 11 اکتوبر 1578ء کو قتل کر دیا گیا۔ صدرِ اعظم محمد سوقلو پاشا کے بارے میں ایک انگریز مؤرخ لارڈ ایورسلے یوں لکھتا ہے کہ:
"سلطنتِ عثمانیہ اپنے کمالِ عروج کو سلطان سلیمان اعظم کے آخری سالوں میں نہیں، بلکہ وزیرِ اعظم محمد سوقلو پاشا کے عہدِ وزارت کے آخری سالوں میں پہنچی۔ کیونکہ سلطان سلیمان کے بعد بھی، سوقلو کے بارہ سالہ اقتدار کے دوران سلطنتِ عثمانیہ نے اہم فتوحات حاصل کیں جن میں جزیره قبرص، صوبہ تیونس، مملکتِ جارجیا، اور سلطنتِ ایران کے زرخیز صوبے اور یمن شامل تھے۔"
یہی فتوحات سلطنتِ عثمانیہ کی آخری بڑی فتوحات تھیں۔
اس کے بعد صرف کریٹ، جو 1668ء میں فتح ہوا، شامل ہے۔
ورنہ ہر طرف مسلمانوں کی اس عظیم خلافت کے زوال کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے تھے اور عثمانی مقبوضات پر عیسائی حکومتوں کے حملے اور قبضے بڑھنے لگے۔
سوقلو پاشا کے قتل کے وقت سلطنتِ عثمانیہ شمال میں وسطی ہنگری سے لے کر جنوب میں خلیج فارس اور سوڈان تک، اور مشرق میں بحیره کسپین اور سرحدِ ایران سے مغرب میں افریقہ تک پھیلی ہوئی تھی۔اس میں مراکش کے سوا بحیرہ روم کا تقریباً تمام جنوبی ساحل، بحیرہ اسود اور بحیرہ احمر کے تمام ساحل شامل تھے۔ بحیرہ ایجیئن کے تمام جزائر، سوائے کریٹ کے، عثمانیوں کے زیرِ نگیں تھے۔ان علاقوں میں بیس مختلف نسلوں کے لوگ آباد تھے اور آبادی کا تخمینہ تین کروڑ سے زائد تھا۔
صفوی سلطنت کے خلاف جنگ کے دوران یہ خبر ملی
کہ قبرص کے فاتح، لالا مصطفیٰ پاشا، جولائی 1580ء میں وفات پا گئے ہیں۔ان کی وفات کے بعد دارالحکومت میں افراتفری پھیل گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صفویوں کو سنبھلنے کا موقع مل گیا۔1581ء کا سال نسبتاً پُرسکون گزرا۔
عثمان پاشا نے اپنا مرکز باکو منتقل کر دیا اور قلعہ بندی اور بحری بیڑے کی تعمیر پر توجہ دینے لگے۔اسی دوران، 1581ء میں، صفویوں نے ایک مرتبہ پھر عثمانی علاقوں پر حملہ کیا، اور ان کی تعداد 18 ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ مگر کریمیا کے تاتاریوں نے صفوی لشکر کو مکمل طور پر شکست دے دی۔اسی دوران صفویوں نے عثمانیوں کو ایک پیشکش کی کہ اگر عثمانی شیروان واپس کر دیں،
تو وہ گرجستان، قفقاز، اور آذربائیجان میں عثمانی فتوحات کو تسلیم کر لیں گے۔ سلطان مراد سوم نے یہ پیشکش سخت غصے میں مسترد کر دی۔ اس کے بعد 15 ہزار صفوی سپاہی شیروان میں داخل ہو گئے۔عثمان پاشا نے سلطان مراد کو ایک خط لکھا،
جس میں درباری وزراء کی نااہلی، مدد کے بغیر سالہا سال دشمن کے خلاف جنگ لڑنے اور قیمتی مواقع ضائع ہونے کا شکوہ کیا۔
دربارِ عالی نے عثمان پاشا پر شاہِ ایران سے خفیہ تعلقات کا الزام لگا دیا اور ناراضی کا اظہار کیا۔لیکن سلطان مرادسوم نے درباریوں کی بات کو نظر انداز کر کے کریمیا سے ایک بڑی فوج عثمان پاشا کی مدد کے لیے روانہ کر دی۔
یوں عثمان پاشا کو وہ دیرینہ مدد میسر آ گئی جس کا وہ شدت سے انتظار کر رہا تھا۔اسی دوران، فرحت پاشا 60 ہزار عثمانی فوجیوں کے ساتھ استنبول سے روانہ ہوا
اور صفویوں کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔قسطنطنیہ سے روانہ ہونے والی یہ فوج ارض روم میں عثمانی فوج سے ملنے والی تھی، مگر اس سے پہلے گنجه کے گورنر امام قلی خان 50 ہزار سپاہیوں کے ساتھ عثمانی فوج پر حملہ آور ہو گیا۔
عثمان پاشا کو کریمیا سے ملی کمک کی بدولت صفویوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا حوصلہ ملا اور اس نے 50 ہزار صفوی سپاہیوں کو شکست دے دی۔8 مئی 1583ء کو مشالق کے میدان میں جنگ کا آغاز ہوا اور تین دن بعد 11 مئی کو عثمانیوں نے صفوی فوج کو مکمل شکست دے دی۔
اس عظیم فتح کے بعد عثمان پاشا دوبارہ شیروان میں داخل ہوا، اور ارض روم میں موجود عثمانی فوج سے آ کر ملا۔
جب فرحت پاشا نے عثمان پاشا کی فتح کی خبر سنی تو اس نے (یروان) کی طرف پیش قدمی کی۔15 اگست کو فرحت پاشا 1 لاکھ فوج کے ساتھ یروان میں داخل ہوا، جہاں اس نے ایک عظیم قلعہ تعمیر کروایا، جس میں 51 بلند و بالا برج بنائے گئے۔اس کے بعد عثمان پاشا کو دارالحکومت استنبول واپس بلایا گیا۔عثمان پاشا نے چھ سالوں میں
صفویوں کے خلاف چار بڑی جنگیں جیتیں اور کئی لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کر کے خاطر خواہ شہرت حاصل کی۔چند ہی دنوں بعد اسے دوسرا وزیر بنایا گیا، اور پھر 25 جولائی 1584ء کو عثمانی سلطنت کا وزیرِ اعظم مقرر کر دیا گیا۔
تاہم عثمان پاشا زیادہ عرصہ استنبول میں قیام نہ کر سکا
اور دوبارہ عثمانی لشکر کے ساتھ مہم پر روانہ ہو گیا۔
یمن، سوڈان اور بصرہ جیسے گرم علاقوں میں زندگی گزارنے والے عثمان پاشا کو6 سال قفقاز کی سخت ترین سردی نے بیمار کر دیا تھا۔وہ گھوڑے پر سوار ہونے کے قابل نہ رہا، مگر پھر بھی اس نے مہم جاری رکھی۔
عثمان پاشا نے دو لاکھ فوجیوں کو جمع کیا،
جن میں سے 40 ہزار کو مختلف محاذوں پر تقسیم کر کے
ایک لاکھ ساٹھ ہزار کی فوج کے ساتھ پیش قدمی شروع کی۔عثمان پاشا آگے بڑھتے ہوئے اس مقام پر پہنچا جہاں 71 سال قبل سلطان سلیم نے چالدران کی جنگ میں صفویوں کو شکست دے کر عظیم فتح حاصل کی تھی۔
عثمانی لشکر کی آمد کا سن کر صفوی شاہ میدان چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ صفوی فوج نے تبریز کا دفاع کرنے کی کوشش کی، مگر اوزدمیر اوغلو عثمان پاشا یَوُوز سلطان سلیم، سلطان سلیمان قانونی، اور ابراہیم پاشا کے بعد
تبریز میں داخل ہونے والے چوتھے عثمانی کمانڈر بن گئے۔
عثمان پاشا 25 ستمبر 1585ء کو تبریز میں داخل ہوئے۔
صفویوں نے تبریز کو دوبارہ حاصل کرنے کی کئی کوششیں کیں، مگر ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔عثمان پاشا 29 اکتوبر 1585ء کو 58 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
صفویوں نے تبریز کا محاصرہ کر لیا۔ عثمانی افواج نے جعفر پاشا کی سربراہی میں طویل مزاحمت کی۔جب فرحت پاشا اپنی 80 ہزار کی فوج کے ساتھ ارض روم سے روانہ ہوئے، تو صفوی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ یوں تبریز سے لے کر بصرہ تک عثمانی اور صفوی افواج مسلسل ٹکراؤ میں رہیں۔1588ء میں صفوی تخت پر شاہ عباس بیٹھا،
جو اس وقت خراسان اور ترکستان میں جنگوں میں مصروف تھا۔سلطان مراد سوم نے سردارِ اعظم فرحت پاشا کو گنجه پر قبضہ کرنے کا حکم دیا۔ جب گنجه کے صفوی گورنر نے سنا کہ فرحت پاشا لشکر کے ساتھ آ رہا ہے،
تو وہ بغیر جنگ کے پسپا ہو گیا، اور گنجه عثمانیوں کے قبضے میں آ گیا۔ یہاں ایک عظیم قلعہ تعمیر کیا گیا۔ صفوی شکست تسلیم کر چکے تھے۔ شاہ عباس نے صلح کی درخواست کی۔
چناچہ شہزادہ حیدر مرزا، فرحت پاشا کے ساتھ استنبول آیا
اور اس نےسلطان مراد سوم سے ملاقات کی۔ شاہ طہماسب کے بیٹے، صفوی شہزادے، نے سلطان مراد کا ہاتھ چوم کر عثمانی برتری کو تسلیم کر لیا۔یہ عثمانی سلطنت کی سب سے بڑی کامیابی تھی، کیونکہ صفویوں نے نہ تو سلطان سلیم کے دور میں اور نہ ہی سلطان سلیمان کے دور میں عثمانی برتری کو کبھی تسلیم کیا تھا۔وہ ہمیشہ برابری کا دعویٰ کرتے تھے۔
بالآخر 14 سالہ طویل جنگ کے بعد 21 مارچ 1590ء کو، بعض روایات کے مطابق "فرحت پاشا معاہدہ"، اور کچھ میں "استنبول معاہدہ" کے نام سے صفویوں اور عثمانیوں کے درمیان صلح طے پائی۔
اس صلح نامے کے مطابق صفوی سلطنت نے اپنے کئی اہم علاقے عثمانیوں کے حوالے کر دیے، جن میں ریوان، تبریز، داغستان، گرجستان، شیروان، اور باکو شامل تھے۔
صفویوں نے وقتی طور پر عثمانیوں کی سیاسی اور مذہبی برتری کو قبول کیا۔ یوں عثمانیوں کا اثر و رسوخ
مشرقی اناطولیہ سے لے کر بحیرہ کیسپین تک پھیل گیا۔
ناظرین!
آپ کو بتاتے چلیں کہ اس معاہدے کی ایک خاص شق یہ بھی تھی کہ آئندہ اہلِ ایران خلفائے ثلاثہ (ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) کے خلاف تبرا بازی سے باز رہیں گے۔اگرچہ عثمانیوں نے صفویوں کے خلاف شاندار فتوحات حاصل کی تھیں، لیکن سوقلو پاشا کے قتل کے بعد سلطنت میں بد نظمی کا دور شروع ہو چکا تھا۔ یکے بعد دیگرے
دس وزرائے اعظم مقرر کیے گئے۔ سنان پاشا تین بار صدرِ اعظم بنے۔ اوزدمیر اوغلو عثمان پاشا کی واپسی کے بعد 993 ہجری بمطابق 1585ء میں سنان پاشا دوبارہ صدرِ اعظم مقرر ہوا، لیکن آٹھ ہی مہینے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔
وزارتِ عظمیٰ میں ان تیز رفتار تبدیلیوں میں حرم کا بڑا کردار تھا۔ صرف وہی وزراء ترقی پا سکتے تھے۔ جنہیں حرم کی سرپرستی حاصل ہوتی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ
رشوت ستانی کا بازار گرم ہو گیا۔ اور صرف وہی امیدوار مناصب پر فائز ہونے لگے جو بڑی بڑی رقمیں پیش کرتے تھے۔رشوت ستانی کی اس مہلک وبا سے حکومت کا کوئی شعبہ محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ فوج، عدالتوں اور انتظامی عہدوں میں بھی امیدوار کی قابلیت کے بجائے اس کی پیش کردہ رقم کو ترجیح دی جانے لگی۔ خود سلطان کو بھی
اپنے ذاتی اخراجات پورے کرنے کے لیے زیادہ روپیہ درکار ہونے لگا، اور آخرکار اس نے بھی اس لوٹ مار میں اپنا حصہ لینا شروع کر دیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سلطنتِ عثمانیہ کے اندرونی زوال کی بنیاد پڑی، اور اس کی جڑیں ہلنا شروع ہو گئیں۔
ان خرابیوں کے اثرات فوج پر بھی پڑنے لگے۔اس کا سبب یہ تھا کہ نااہل افراد کو بڑے بڑے فوجی عہدے دیے جانے لگے، اور فوج کے جاگیری نظام میں بدعنوانی عام ہو گئی۔
وہ جاگیریں، جو محض فوجی خدمات کے معاوضے میں دی جاتی تھیں،اب خرید و فروخت کا مال بن چکی تھیں۔
ان حالات کے ساتھ ساتھ فوج بھی بے قابو ہوتی جا رہی تھی، اور بالآخر 1589ء میں ینی چری نے اعلانیہ بغاوت کر دی۔ انہوں نے قصرِ سلطانی کے سامنے جمع ہو کر
محمد پاشا، حاکمِ رومیلیا، کا سر طلب کیا۔ فوج کو شکایت تھی کہ محمد پاشا کی وجہ سے فوجیوں کو ایسی تنخواہیں دی گئیں جن میں چاندی کی مقدار بہت کم تھی۔
مراد سلطان کو ان کی دھمکیوں کے آگے جھکنا پڑا،
اور اس نے حکم جاری کیا کہ محمد پاشا کا سر قلم کر کے
ینی چری کے حوالے کر دیا جائے۔مراد کے اس طرح دب جانے سے ینی چری کو اپنی طاقت کا بھرپور اندازہ ہو گیا۔
چنانچہ صرف چار سال کے اندر انہوں نے دوبارہ دو مرتبہ بغاوت کی اور سلطان کو مجبور کیا کہ وہ موجودہ صدرِ اعظم کو معزول کر کے نیا صدرِ اعظم مقرر کرے۔
پھر999 ہجری بمطابق (1591ء) میں انہوں نے سلطان مراد کو مجبور کر کے مولدووا کی باج گزار مملکت کے تخت پر اس امیدوار کو بٹھایا جس نے رشوت دے کر ینی چری کی حمایت حاصل کر لی تھی۔ خود قسطنطنیہ میں
ینی چری اور سپاہی فوجوں کے درمیان آپس میں جنگ چھڑ گئی۔ صوبوں کی حالت بھی
مرکزی حکومت کی بدانتظامی کے باعث نہایت خراب ہو چکی تھی۔رشوت کا بازار صوبوں میں بھی گرم تھا اور جو حکام رشوت دے کر مقرر ہوتے تھے وہ رعایا پر ظلم کر کے اپنے سرمائے کی تلافی کرتے تھے۔1589ء سے 1592ء تک سلطنت میں ہر قسم کی بدانتظامی اور بدامنی پھیلی رہی۔
مصر کی ملیشیا نے اپنے صوبہ دار کے خلاف بغاوت کر دی۔ تبریز کی فوج نے بھی بغاوت کر دی اور قسطنطنیہ سے بھیجا گیا نیا سکہ لینے سے انکار کر دیا۔ بودا کے فوجی دستے نے، جس کی تنخواہ چھ مہینے سے رکی ہوئی تھی، اپنے پاشا کو قتل کر دیا۔ ایران میں ایک شخص نے
شاہ طہماسب کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کر کے تخت پر قبضے کی کوشش کی، مگر ارض روم کے والی نے اسے گرفتار کر لیا۔ لبنان (شام) میں دروزی فرقے نے مقامی حکام کی سختیوں سے تنگ آ کر بغاوت کر دی۔اس فتنہ کو دبانے کے لیے سلطان مراد نے ابراہیم پاشا کو شام روانہ کیا،
جس نے دروزیوں کو شکست دے کر انہیں قابو میں کر لیا۔
سب سے زیادہ انتشار ینی چری کی خودسری سے پیدا ہو رہا تھا۔ اتفاق سے اسی زمانے میں ہنگری اور آسٹریا سےجنگ چھڑ گئی، اور ینی چری کو سلطنت کے باہر بھیجنے کا موقع ہاتھ آ گیا۔ ابتدا میں عثمانیوں کو کامیابی حاصل ہوئی، مگر سیسک کے محاصرے میں حسن پاشا، والیِ بوسنیا، شکست کھا کر دریا عبور کرتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ یہ خبر سن کر سنان پاشا فوراً ادھر روانہ ہوا۔اسی دوران بودا کے پاشا کو آسٹریا کی افواج سے شکست ہوئی اور چند عثمانی قلعے آسٹریا کے قبضے میں آ گئے۔ تاہم، دونوں فریقین کی فتوحات کا پلڑا اب تک تقریباً برابر تھا۔
لیکن 1594ء میں مولدووا، ولاچیا اور ٹرانسلوانیا نے بغاوت کر کے آسٹریا کے ساتھ اتحاد کر لیا اور اپنی ریاستوں میں موجود تمام مسلمانوں کا قتل عام کر ڈالا۔
ابھی آسٹریا کے ساتھ جنگ جاری تھی کہ ایران سے بھی ایک نئی جنگ کا آغاز ہو گیا، جس میں ابتدا میں عثمانی فوجوں کو خاص کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔اسی دوران،
16 جنوری 1595ء کو سلطان مراد سوم کا انتقال ہو گیا۔
وہ فطرتاً بہت نیک اور صلح پسند حکمران تھا۔ جب وہ تخت پر بیٹھا، تو سلطنتِ عثمانیہ عظمت و شوکت کی بلند ترین منزل پر تھی۔ لیکن مراد میں اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت نہ تھی، اور حرم کی مداخلت نے نظامِ سلطنت میں بے شمار خرابیاں پیدا کر دی تھیں۔
تاہم ان خرابیوں کی مکمل ذمہ داری سلطان مراد کی ذات پر نہیں ڈالی جا سکتی۔سلطنتِ عثمانیہ کا زوال سلطان سلیمان کے عہد ہی میں شروع ہو چکا تھا، اور اگرچہ سوقلو پاشا کی تدبیر اور اقتدار نے سلیمان کے بعد کچھ عرصہ اسے دبائے رکھا، مگر اندرونی چنگاریاں سلگتی رہیں، جو سلطان مراد کے دور میں شعلہ بن کر بھڑک اٹھیں۔ سلطان مراد ایک صوفی منش سلطان تھا۔ اسے تصوف سے خاص شغف تھا۔ وہ بھی اکثر عثمانی سلاطین کی طرح شاعر تھا اور "مراد" تخلص سے شاعری کرتا تھا۔ تصوف میں اس کی ایک مشہور تصنیف "فتوحات الصیام" ہے۔
History In Urdu