۲۱۵
محمد رابع
1058 تا 1099 ھ بمطابق 1648ء تا 1687ء
سلطان ابراہیم کی معزولی کے بعد انکے بیٹے محمد رابع 1058ھ/بمطابق 21 اکتوبر1648ء کو19ویں عثمانی سلطان کے طور پر تخت نشین ہوئے۔ تخت نشینی کے وقت سلطان محمد رابع کی عمر صرف 7 سال تھی ، انہوں نے انتالیس سال حکومت کی ، ابتدائی آٹھ سال سلطنت کے لیے ہرطرح کے اندرونی اور بیرونی خطرات سے بھرے ہوئے تھے۔ سلطان کی نو عمری کے زمانہ میں عنان حکومت حرم کے ہاتھ میں تھی، اس سے بڑھ کر بد قسمتی یہ تھی کہ خود حرم میں دو جماعتیں ایک دوسرے کی حریف تھیں، ایک کی سردار سابق سلطان ابراہیم کی والدہ تھی ، جماعت کی سیادت سلطانِ وقت کی والدہ کو حاصل تھی۔ سلطنت کا شیرازہ ان حریفوں کی کشمکش سے بکھر رہا تھا، فوج میں دونوں جماعتوں کے حامی موجود تھے اور قسطنطنیہ کی سڑکوں پر اکثر بدامنی اور کشت و خون کے مناظر پیش آتے رہتے تھے، سلطنت کے مختلف صوبوں می بھی تقریباً یہی حالت تھی، بغاوت اور سرکشی کے آثار ہر طرف نمایاں تھے، 1649ء میں ایک شخص قاطر جی اوغلی نے ایشیائے کوچک میں علم بغاوت بلند کیا،اس نے اناطولیہ میں ٹیکس جمع کرنے والوں اور جاگیردار طبقے کے خلاف غصے کو ہتھیار بنایا۔ عوام شدید ٹیکسوں، بدعنوانی اور معاشی بحران کا شکار تھی۔ جس کی وجہ سے لوگ اس کے گرد جمع ہونے لگے۔ 1649ء میں اس نے اپنا ایک چھوٹا لشکر تیار کیا، اور اس نے اناطولیہ کے کئی علاقوں پر حملے کیے، ٹیکس کلیکٹرز کو قتل کیا، اور عثمانی حکام کو چیلنج کیا۔اس کا اثر اناطولیہ کے وسطی اور مشرقی علاقوں تک پھیل گیا۔
"کورجی ینی" نامی ایک دوسرا باغی کُرد بھی اس کے ساتھ شامل ہو گیا اور دونوں نے مل کر احمد پاشا والی اناطولیہ کو شکست دے دی، اس کے بعد وہ قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوئے ، لیکن اثنائے راہ میں باہم اختلاف پیدا ہو گیا اور دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے، عثمانی فوج نے کورجی ینی کو شکست دے کر اسے قتل کر دیا ، قاطر جی اوغلی نے بھی شکست کھائی، لیکن سلطان نے اسے معاف کر کے کرمانیہ کا والی بنا دیا اور یہ بغاوت ختم ہوگئی۔ تاہم سلطنت کے اور حصوں میں جو شورش پیدا ہوگئی تھی وہ بدستور جاری رہی،آخر کار حرم کی سازشیں سابق سلطانہ والدہ کے قتل پر ختم ہوئیں۔
اس خانہ جنگی کے دور میں آسٹریا کا سلطنتِ عثمانیہ پر حملہ کرنا نہایت مفید تھا اور وہ عثمانیوں کی اس کمزوری سے فائیدہ اٹھا کر بآسانی ہنگری کو واپس لے سکتا تھا، لیکن 30سالہ جنگ نے اس کو اتنا زیادہ چکنا چور کر دیا تھا، کہ وہ اس اقدام کی جرات ہی نہ کر سکا، البتہ جمہور یہ وینس سے جنگ کا سلسلہ جس کا آغاز کریٹ کے حملے سے ہواتھا، برابر جاری رہا اور وینس کے ایک جنگی بیڑے نے درہ دانیال کے قریب ایک عثمانی بیڑے کوشکت دے کر جزائر لیمیناس اور ٹینیڈاس پرقبضہ کر لیا، اس نے درہ دانیال کی ناکہ بندی بھی کر دی جس کی وجہ سےقسطنطنیہ کے سامان رسد کا راستہ بند ہو گیا۔ دارالسلطنت میں سخت افراتفری پھیل گئی، ان بیرونی حملوں کے علاوہ سلطنت کے اندرونی حصہ میں ہر طرح کی بدامنی اور بد نظمی پھیلی ہوئی تھی ، خوش قسمتی سے عین اس وقت جب کہ سلطنتِ عثمانیہ ایک نہایت نازک دور سے گزر رہی تھی اور بظاہر اس کی اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ، سلطانہ والدہ نے صدر اعظم کے عہدہ پر ایک ایسے شخص کو مقرر کیا جس نے پانچ ہی سال کے اندر تمام فوجی اور ملکی شعبوں کی کامل اصلاح کر کے سلطنت کو نہ صرف تباہی سے بچالیا بلکہ اس میں از سرنووہ طاقت وسطوت بھی پیدا کر دی جسے سلطان مراد چہارم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ تقریباً تمام تر کھو چکی تھی۔
محمد کو پریلی:۔
یہ صدرِ اعظم کون تھے؟
دراصل صدراعظم محمد کو پریلی کا آبائی وطن "البانیا" تھا۔ مگر ان کے دادا ، ایشیائے کو چک میں اماسیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں "کوپری" میں آکر آباد ہو گئے تھے، محمد کو پریلی کو ابتدائی تعلیم بھی نصیب نہ ہوئی اور ابھی وہ لڑکا ہی تھا کہ اپنا پیٹ پالنے کے لیے اسے گھر سے لکھنا پڑا، حسن اتفاق سے اس کو سلطان کے مطبخ میں نوکری مل گئی ، وہاں اپنی فطری ذہانت کی وجہ سے اس نے بہت جلد ترقی کر لی اور کچھ عرصہ کے بعد شاہی مطبخ کا باورچی ہو گیا۔ لیکن حکومت کے بعض اہل نظر نے اس نوجوان کی قابلیت کا اندازہ کر کے اسے باورچی خانہ سے نکالا اور زیادہ معزز خدمات اس کے سپرد کیں ، ہر جگہ اس نے اپنی غیر معمولی لیاقت کا ثبوت دیا، چنانچہ آخر میں وہ یکے بعد دیگرے دمشق ، طرابلس اور یروشلم کا والی مقرر ہوا اور ان میں سے ہر صوبہ میں اس نے ایک عادل ، مضبوط اور نرم دل حاکم کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ پھر جب سلطان محمد رابع کی تخت نشینی کے بعد سلطنت کے ہر حصہ اور حکومت کے ہر شعبہ میں شورش اور ابتری بڑھنے لگی تو صدارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریوں کو تفویض کرنے کے لیے سلطانہ والدہ کی نظر انتخاب محمد کو پر یلی ہی پر پڑی۔
چنانچہ 1067ھ بمطاق1656ء میں محمد کوپریلی نے سلطنتِ عثمانیہ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی ، تو اس وقت انکی عمر70 سال ہو چکی تھی، چونکہ وہ بوڑھا اور لکھنے پڑھنے سے بالکل نابلد تھے، اس لیے علما اور اعیان سلطنت نے انکے تقرر کے خلاف احتجاج کیا، لیکن دمشق، طرابلس اور یروشلم کی ولایت کے زمانہ میں کو پریلی نے اپنی قابلیت کا جو ثبوت دیا تھا وہ سلطانہ والدہ کے انتخاب کی پر زور تائید کر رہا تھا، تاہم اس جلیل القدر عہدہ کی ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے پہلے محمد کو پر یلی نے سلطانہ والدہ سے جو نو عمر سلطان کی نمائندہ تھیں، چند شرطیں بہ حلف منظور کرالیں۔
پہلی شرط یہ تھی کہ سلطان انکی تمام کارروائیوں کو جو وہ بہ حیثیت صدراعظم عمل میں لائیں گے، بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا کرے گا، دوسری شرط یہ تھی کہ انہیں تمام عہدوں کے تقرر اور امتیازات کے عطا کرنے میں پورا اختیار حاصل ہوگا، تیسری شرط یہ تھی کہ سلطان کو ان پر کامل اعتماد رہے گا اور اس کے خلاف ہر شکایت کو وہ فورا مستر د کر دے گا۔
ان غیر محدود اختیارات کے ساتھ محمد کو پر یلی نے سلطنت کی اصلاح کا کام شروع کیا اور ہر شعبہ کی خرابیوں کو اس سختی کے ساتھ دور کیا جو سلطان مراد رابع کے طریق اصلاح کی نمایاں خصوصیت تھی.
فوج کے سرکش سردار و سپاہی سب کے سب فوراً قتل کر دیے گئے ، یہی حشر ان لوگوں کا ہوا جو کو پریلی کے خلاف سازش کرتے ہوئے پائے گئے، یا جن پر اس سازش کا شبہ بھی ہوا۔
قسطنطنیہ میں درویشوں کی ایک جماعت نے شورش برپا کر رکھی تھی ، کو پریلی نے ان سب کو گرفتار کر کے جلا وطن کر دیا، ان میں سے ایک درویش نے جس کا اثر عوام پر بہت زیادہ تھا، کوپریلی کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا چاہا، اس نے اسے پھانسی پر لٹکا دیا۔ اسی طرح اس نے کلیسائے یونان کے بطریق اعظم کو بھی جو در پردہ امیر ولا چیا کو بغاوت کے لیے اُبھارنا چاہتا تھا، گرفتار کر کے سولی پر چڑھا دیا، اس کی باریک بیں نگاہ سے کوئی بے عنوانی اور کسی سازش کی خفیہ سے خفیہ تیاری بھی چھپی نہ رہتی، اس کے جاسوس سلطنت کے ہر حصے میں نہایت سرگرمی سے کام کرتے رہتے تھے، جس کی وجہ سے صدرِ اعظم کی ہبیت صوبے داروں اور فوج کے بڑے بڑے عہدہ داروں سے لے کر حکومت کے ادنیٰ ملازموں تک کے دلوں میں یکساں طور پر بیٹھی ہوئی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ:۔
محمد کوپریلی کی پنج سالہ صدارت میں چھتیس ہزار آدمی اس کے حکم سے قتل کیے گئے ، سلطان کے خاص جلاد ذوالفقار کا بیان ہے:۔
کہ خود اس کے ہاتھ سے چار ہزار سے زیادہ آدمی پھانسی پا کر باسفورس میں پھینک دیے گئے ۔
محمد کو پریلی کا یہ تشدد بظاہر نہایت ظالمانہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن سلطنت میں جو شورش اور بغاوت پھیلی ہوئی تھی اس کا تدارک تشدد کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔ یہ اسی سختی کا نتیجہ تھا، کہ صرف پانچ سال کی مدت میں ہر طرف امن و امان اور عدل و انصاف دکھائی دینے لگا، تمام بغاوتیں دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہوگئیں، فوج کی سرکشی جاتی رہی اور سلطنت کے ہر شعبہ کا نظام درست ہو گیا۔
محمد کو پر یلی نے نہ صرف سلطنت کے اندرونی نظم ونسق کو درست کیا، بلکہ بیرونی حملوں کو بھی روکا ، اس نے عثمانی بیڑے کو از سرنو درست کرایا ، جس کی وجہ سے بحر الجین میں سلطنتِ عثمانیہ کی ہیبت پھر سے قائم ہوگئی ، جس کے بعد عثمانیوں نے وینس کے جہازوں کو شکست دے کر جزائر لیمیناس وٹینڈاس واپس لے لیے اور کینڈیا کا محاصرہ جو سلطان محمد رابع کے ابتدائی عہد میں فوج کی سرکشی کے باعث کسی حد تک کمزور ہو گیا تھا، دوبارہ پھر پوری شدت کے ساتھ شروع ہوا۔
یوں سلطنتِ عثمانیہ کو دوبارہ عروج بخشنے کے بعد بلاآخر1072ھ / بمطابق 31 اکتوبر 1661ء میں محمد کو پریلی وفات پاگئے ، انتقال سے پہلے انہوں نے سلطان اور سلطانہ والدہ سے اپنے بیٹے احمد کو پر یلی کو اپنا جانشین نامزد کر لیا تھا، مرتے وقت بھی وہ سلطنت کی بہبودی سے غافل نہ تھے، چنانچہ انہوں نے سلطان سے مندرجہ ذیل چار نصیحتوں پر خاص طور سے کار بند رہنے کی تاکید کی ۔
عورتوں کا مشورہ کبھی نہ سنا جائے۔1
2 کسی بھی طبقے کو حد سے زیادہ دولت مند نہ ہونے دیا جائے ۔
سلطنت کا خزانہ ہمیشہ پر رکھا جائے۔3
4 سلطان خود ہمیشہ گھوڑے کی پیٹھ پر رہے اور فوج کو ہمیشہ حرکت میں رکھے۔
احمد کو پریلی
محمد کو پر یلی کی وفات کے وقت سلطان محمد رابع 20 سال کے ہو چکے تھے اور اب وہ عنان سلطنت اپنے ہاتھ میں لے سکتے تھے، لیکن سلطان کو شکار کا بے حد شوق تھا اور اسی میں وہ اپنا تمام وقت ضائع کرتے، اس نے سلطنت کا سارا انتظام نئے صدر اعظم احمد کو پریلی کے سپرد کر دیا تھا اور وہ اس پر پورا اعتماد رکھتے تھے۔ 1661ء سے لے کر اپنی وفات (1676ء) تک احمد کو پر یلی ہی دراصل سلطنت عثمانیہ کا حقیقی فرماں روا تھا، وہ اپنی لیاقت ، اپنے تدبر اور اپنی عظمت کے لحاظ سے سلطنتِ عثمانیہ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ ممتاز صدراعظم خیال کیا جاتا ہے، تمام عثمانی اورمسیحی مؤرخین اس کی حیرت انگیز قابلیت پر اتفاق رکھتے تھے، تقرر کے وقت اس کی عمر صرف 26 سال کی تھی۔ محمد کوپریلی نے اسے بہترین تعلیم دلوائی تھی اور انتظام سلطنت کی تعلیم خود اپنی نگرانی میں دی تھی، جبکہ اسے ایک صوبے کی ولایت پرمامور کر کے صدارتِ عظمٰی کی ذمہ داریوں کے لیے بھی اسے پہلے سے تیار کر دیا تھا ، ذاتی خوبیوں کے لحاظ سے بھی احمد کو پر یلی نہایت مشہور تھے، اس کی خوش خلقی اور منکسر مزاجی خاص طور پر لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی تھی ، وہ شرعی احکام کی پابندی نہایت سختی سے کرتا اور اس کی زندگی اسلامی زندگی کا ایک قابل تقلید نمونہ تھی ، جس کا اثر اس کے ہم عصر وزیروں اور عہدہ داروں پر بھی پڑا، اس کے ان ہی محاسن کی بنا پر ترک اسے فاضل احمد کہتے
تھے۔
احمد کوپریلی بھی اپنے والد کی طرح ایک مضبوط قوت ارادی اور پختہ عزم رکھتا تھا، تا ہم اس میں وہ تشدد نہ تھا، جو محمد کوپریلی کی وزارت کی خصوصیت تھی، احمد فطرتاً نرم دل تھا، تقرر کے بعد ایک سال تک تو اس نے سختی جاری رکھی، لیکن پھر اس کی ضرورت باقی نہ رہی اور سلطنت کا نظام بغیرکسی سختی کے ہوتا رہا، اسے عوام کا بہت زیادہ خیال تھا،اس نے خصوصاً محصولوں کا بار بہت ہلکا کردیا، سپای جاگیرداروں کی سخت گیری اور پاشاؤں، نیز مقامی عہدہ داروں کے مظالم سے رعایا بہت پریشان تھی، احمد نے ان مصیبتوں سے بھی عوام کونجات دلائی۔
بہت عرصہ سے مسیحی کلیساؤں کی تعمیر پر پابندی عائد کردی گئی تھی، احمد نے ان رکاوٹوں کو بالکل دور کر دیا، اس نے خزانہ کو ہمشہ پر رکھا، اس کی غیرمعمولی قابلیت کا اندازہ فوجی مہمات سے زیادہ اس کے ملکی انتظامات سے ہوتا ہے، اس کی حربی لیاقت بھی اعلیٰ درجہ کی تھی اور اس نے متعدد اہم فتوحات سے سلطنت کو وسعت دی تاہم اسے دو بار سخت شکست اٹھانی پڑی ، جس سے سلطنتِ عثمانیہ کی عظمت کو خاصہ صدمہ پہنچا، پہلی اہم شکست آسٹریا کے مقابلہ میں پیش آئی اور دوسری پولینڈ کے مقابلہ میں۔
آسٹریا سے جنگ
سنہ1663ء میں آسٹریا سے جنگ چھڑ گئی، یہ جنگ ان مناقشات کا نتیجہ تھی جو ڈیڑھ صدی سے ہنگری اور ٹرانسلوینیا میں جاری تھے، دو سال سے آسٹریا اور سلطنت عثمانیہ کے حامیوں کے درمیان صوبوں میں چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہو رہی تھیں، جن میں دونوں سلطنتوں کے فوجی افسر جو سرحدی علاقوں پر متعین تھے حصہ لیتے رہے ۔ 1663ء میں احمد کوپریلی ایک زبردست فوج لے کر آسٹریا کے مقابلہ میں روانہ ہوے، انہوں نے بلغراد پہنچ کر دریائے ڈینوب کو عبور کیا اور پھر وہ شمال میں نو ہزل کی طرف بڑھا،جو موجودہ سلوواکیہ میں واقع تھا۔ یہ علاقہ عثمانیوں اور ہابسبرگ سلطنت کے درمیان سرحدی کشیدگی کا مرکز بن چکا تھا۔ یہ قلعہ یورپ کے سنگین ترین قلعوں میں سے تھا اور آسٹریا کو اس کی مضبوطی پر پورا بھروسہ تھا، لیکن پانچ ہفتہ کے محاصرہ کے بعد 25 صفر 1074ھ بمطابق 28 ستمبر 1663ء کو محصورین نے ہتھیار ڈال کر قلعہ عثمانیوں کے سپرد کر دیا، نوہزل کی فتح کے بعد احمد کو پر یلی نے متعدد دوسرے قلعوں پر بھی قبضہ کر لیا، اس کے بعد وہ موسم سرما گزارنے کے لیے بلغراد واپس چلے گئے۔
دوسرے سال مئی میں وہ پھر نوہزل اور وہاں سے دریائے مور کو عبور کر کےوہ قلعہ سرینوار جا پہنچے ،7 جولائی 1664ء کو وزیرِ اعظم فاضل احمد کوپریلی کی قیادت میں تُرکوں نے اس قلعے کو کامیابی کے ساتھ فتح کر لیا۔ یہ قلعہ وسطیٰ یورپ میں ہابسبرگ سلطنت کا ایک مضبوط عسکری مرکز تھا اور آسٹریا کے لیے دفاعی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ عثمانیوں نے کئی ہفتوں کے منظم محاصرے، توپ خانے کی زبردست گولہ باری، اور میدان جنگ میں جارحانہ حکمت عملی کے ذریعے بالآخر اس قلعے کوفتح کر لیا۔
پھر 26 جولائی کو وہ کومورن پہنچے جو ہنگری اور آسٹریا کی سرحد پر دریائے راب کے لبِ ساحل واقع تھا، اگر وہ اس دریا کو عبور کر لیتے تو ویانا کا راستہ صاف ہو جا تا، لیکن آسٹریا اور ہنگری کی فوجیں ان کی راہ میں حائل تھیں، آسٹریا کی مدد کے لیے "کانٹ کولینی" کی سرکردگی میں فرانس کے مبارزین بھی آگئے تھے۔ مسیحی فوج کا یہ سالار "کانٹ مونٹے کوکوئی" تھا جو اپنے وقت کا نہایت ممتاز جنرل تھا، عیسائیوں کی تعداد عثمانیوں سے بہت کم تھی۔ لیکن جنگ سیر سٹیز(1596ء) کے بعد سے جب کہ عثمانیوں نے آسٹریا کو بُری طرح شکست دی تھی ، آسٹریا اور ہنگری کی فوجوں نے اپنی تنظیم اور اسلحوں میں بہت زیادہ ترقی کر لی تھی ، بر خلاف اس کے عثمانیوں کے فوجی نظام میں اندرونی کمزوریاں پیدا ہو گئی تھیں اور وہ اسلحوں کی ترقی میں عیسائی حکومتوں کا ساتھ نہ دے سکے تھے۔ جنگ سی سالہ کے دوران میں فن حرب میں بعض اہم اصلاحیں ہوگئی تھیں، جس سے عثمانی نا آشنا تھے، اس لحاظ سے اگرچہ مسیحی فوج کی تعداد عثمانی فوج سے بہت کم تھی تاہم فنی حیثیت سے وہ اپنے دشمن پر فوقیت رکھتی تھی۔
جنگ سینٹ کا تھرڈ
جنگ سینٹ گوتھارڈ (Battle of St. Gotthard) عثمانی و آسٹریائی جنگوں کی ایک فیصلہ کن اور تاریخی جنگ تھی، جو 8 محرم 1075ھ، بمطابق 1 اگست 1664ء کو لڑی گئی۔ یہ معرکہ خانقاہ سینٹ گوتھارڈ (St. Gotthard Abbey) کے میدان میں پیش آیا، جہاں فاضل احمد کوپریلی کی زیر قیادت عثمانی فوجیں، جو عددی لحاظ سے برتری رکھتی تھیں، آسٹریا، فرانس، اور ان کے اتحادیوں سے نبرد آزما ہوئیں۔ اگرچہ عثمانیوں کے پاس تعداد زیادہ تھی، مگر اتحادی افواج کی جنگی حکمت عملی اور دفاعی تیاری نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ عثمانیوں کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کے دس ہزار سے زائد سپاہی شہید ہوئے۔ اس کے باوجود آسٹریائی افواج بھی اتنے شدید نقصان سے دوچار ہوئیں کہ وہ عثمانیوں کا پیچھا نہ کر سکیں۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، فاضل احمد کوپریلی نے اپنی بچی ہوئی فوج کو منظم طریقے سے واپس نکال لیا۔
اس جنگ کی اہمیت
یہ جنگ سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتی ہے، یہ پہلی زبردست شکست تھی جو عثمانیوں کو آسٹریا کے ہاتھوں پہنچی، 1526ء میں ہونے والی جنگ موہاکز کے بعد سے اس وقت تک آسٹریا کی فوجوں پر عثمانیوں کی فوقیت مسلم تھی ، جنگ سینٹ کا تھرڈ نے سلطنتِ عثمانیہ کی اس دیرینہ فوقیت کو صدمہ پہنچایا اور یورپ کو پہلی بار معلوم ہوا کہ عثمانیوں کی فوجی قوت مائل بہ انحطاط ہے، ترک سپاہیوں کی ذاتی شجاعت میں اب بھی کوئی فرق نہ تھا، لیکن ان کے اسلحے اور جنگ کے طریقے اس وقت بھی وہی تھے جو سلطان سلیمان اعظم کے عہد میں رائج تھے۔ فن حرب میں وہ یورپ کی ترقی یافتہ فوجوں سے پیچھے پڑ گئے تھے، یہی ان کی شکست کا اصلی سبب تھا۔
صلح نامه و اسوار
سینٹ کا تھرڈ کی شکست کے بعد جو صلح نامہ 20 سال کے لیے واسوار میں مرتب ہوا، اس کی دفعات بہ حیثیت مجموعی سلطنتِ عثمانیہ کے موافق تھیں اور وہ دراصل صلح نامہ سیلوا تورک کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی تھیں، اس صلح نامہ کی رو سے طے پایا کہ اہل آسٹریا اور ترک دونوں ٹرانسلوینیا کو خالی کر دیں اور "اپافی" کو جس کی حمایت سلطنتِ عثمانیہ نے کی تھی ، وہاں کا فرماں روا بنایا جائے اور وہ سلطان کو خراج ادا کرتا رہے گا۔ یعنی ٹرانسلوینیا پر سلطان کی سیادت تسلیم کرلی گئی، سیریوار اور نوہزل کے قلعوں پر ترکوں کا قبضہ قائم رکھا گیا، ہنگری کی سات ولایتوں میں سے تین آسٹریا کو دے دی گئی اور چار سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لی گئیں ، اس کے علاوہ شہنشاہ آسٹریا نے دو لاکھ فلورن تاوان جنگ سلطان کو ادا کرنا منظور کیا، یہ صلح نامہ سلطنتِ عثمانیہ کے لیے ہر طرح قابل اطمینان تھا، احمد کو پریلی نے میدان جنگ میں زبردست شکست کھانے کے بعد بھی سلطنت کے مقبوضات میں اضافہ کر دیا تھا۔
کینڈیا کی فتح:۔
اس کے بعد احمد کوپریلی نے کینڈیا کی جانب اتوجہ مرکوز کی،اور1667ء میں وہ کینڈیا کی مہم پر روانہ ہوے ، جس کا محاصرہ 20 سال سے جاری تھا ، اہل وینس "موروسینی" کی قیادت میں جو بعد میں فاتح موریا کے لقب سے مشہور ہوا، نہایت جان بازی کے ساتھ کینڈیا کی مدافعت کر رہے تھے، احمد کو پریلی کے پہنچ جانے کے بعد محاصرے کی شدت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی، لیکن اس کے ساتھ محصورین کا جوش و استقلال بھی بڑھتا گیا، تاہم جب انہوں نے دیکھا کہ زیادہ دنوں تک وہ ترکوں کا مقابلہ نہ کر سکیں گے تو ایک بہت بڑی رقم احمد کو پریلی کے سامنے پیش کر کے درخواست کی کہ وہ محاصرہ اٹھا کر واپس چلا جائے، صدر اعظم نے جواب دیا:۔:
"ہم لوگ روپیہ کا کاروبار نہیں کرتے ، ہم کینڈیا کو فتح کرنے کی غرض سے جنگ کر رہے ہیں اور کسی قیمت پر اسے نہ چھوڑیں گے"
چنانچہ محاصرہ اس سختی کے ساتھ جاری رہا۔ 1669ء میں ایک فرانسیسی جنگی بیڑا جس میں چھ ہزار سپاہی اور فرانس کے طبقہ امرا کے بہترین مبارزین شامل تھے، کینڈیا کی مدد کے لیے پہنچا، اس کے بعد ہی پوپ اور مبارزین مالٹا کی کمک بھی آگئی، اس متحدہ بیڑے نے جس میں ستر جہاز تھے، عثمانیوں پر سمندر کی جانب سے گولے برسانا شروع کیے اور محصورین سامنے سے گولہ باری کرتے رہے، لیکن اس دو طرفہ حملے کے باوجود احمد کو پریلی نے کوئی قدم پیچھے نہ ہٹایا، آخر کار مجبور ہو کر موروسینی نے 6 ستمبر 1669 ء کو با عزت شرائط کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے اور یہ محاصرہ جو تقریباً اکیس سال سے جاری تھا، ختم ہوا ، کریٹ کے پورے جزیرہ پر ترکوں کا قبضہ ہو گیا ، چند دنوں کے بعد جمہور یہ وینس اور سلطنتِ عثمانیہ کے درمیان ایک صلح نامہ لکھا گیا ، جس کی رو سے وینس نے کریٹ کا سلطنت عثمانیہ میں شامل کیا جانا تسلیم کر لیا، البتہ اس کی تین چھوٹی چھوٹی بندرگاہوں پر تجارتی اغراض کے لیے وینس کا قبضہ باقی رکھا گیا ، فتح کے بعد احمد کو پریلی کئی ماہ تک کینڈیا میں مقیم رہے اور وہاں کی حکومت کا نظم و نسق درست کر کے قسطنطنیہ واپس چلے آئے۔
پولینڈ سے جنگ
احمد کو پر یلی کی تیسری مہم خاص توجہ کی مستحق ہے، کیونکہ اس سے اس نزاع کی ابتدا ہوتی ہے۔ جس کا سلسلہ سلطنتِ عثمانیہ اور روس کے درمیان ایک عرصہ تک قائم رہا، 1670ء میں اوکرین کے قزاقوں نے جو پولینڈ کی رعایا تھے، انہوں نے حکومت سے بعض حقوق کا مطالبہ کیا ، پولینڈ کے بادشاہ نے ان مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا اور ان کو زیر کرنے کے لیے اس نے ایک فوج جنرل سو بیسکی کی سر کردگی میں اوکرین روانہ کی، قزاقوں نے اپنے سردار "ڈور یسینسکو" کے علم کے نیچے اس فوج کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا، لیکن آخر کار انہوں نے محسوس کیا کہ سلطنتِ عثمانیہ کی مدد کے بغیر وہ کامیاب نہ ہو سکیں گے، چنانچہ ڈوریسینسکو 1672ء میں قسطنطنیہ آیا اور اپنی قوم کی طرف سے اس نے عثمانی دربار میں نذرانہ طاعت پیش کر کے سر پرستی کی درخواست کی ، سلطان نے اس کی درخواست قبول کی اور اوکرین کو سلطنت عثمانیہ کا ایک صوبہ قرار دے کر اسے وہاں کا سنجق بے مقرر کر دیا، ساتھ ہی خان کریمیا کو حکم بھیجا کہ قزاقوں کی مدد کی جائے اور 6 ہزار کا ایک ترکی دستہ بھی ان کی مدد کے لیے اوکرین روانہ کیا گیا ، سلطنتِ عثمانیہ کی ان کارروائیوں کے خلاف پولینڈ نے احتجاج کیا، زار روس نے بھی سلطان کو دھمکی دی کہ اگر اس نے قزاقوں کی مدد کی تو روس پولینڈ کی حمایت کرے گا، صدراعظم نے اس دھمکی کی پروانہ کی او پولینڈ اور روس دونوں کو یہ جوب دیا کہ اوکرین کی نسبت سلطان کا فیصلہ اپنی جگہ پر قائم رہے گا، احمد کوپریلی نے خود اپنی قلم سے ایک خط سفیرِ پولینڈ کولکھا جس میں اوکرین کے قزاقوں کی مظلومیت دکھا کر یہ بتایا کہ جب انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے دامن میں پناہ لی تو ان کی حمایت کرنا سلطنتِ عثمانیہ پر فرض ہو گیا، غرض 1672ء میں پولینڈ اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کا سلسلہ 4 سال تک قائم رہا۔
صلح نامه بوزاکس
اس مہم پر احمد کو پریلی کے ساتھ سلطان محمد رابع بھی روانہ ہوے، وہ فوج لے کر پوڈولیا میں داخل ہوے، جو پولینڈ کا ایک صوبہ تھا ، احمد کو پریلی نے پوڈولیا کے پایہ تخت "کمینیک" کا محاصرہ کر لیا، اس قلعہ کی تسخیر اس وقت تک ناممکن خیال کی جاتی تھی۔ لیکن صرف نو روز کے محاصرہ کے بعد 26 اگست 1672ء کو ترکوں نے اسے فتح کر لیا، 9 ستمبر کو دوسرا مشہور اور مضبوط شہر "لمبرگ" بھی فتح ہو گیا، ان فتوحات کے بعد مائیکل شاہ پولینڈ نے صلح کی درخواست کی اور صلح نامہ بوز اکس پر دستخط کر کے پوڈولیا اور او کرین کے صوبے سلطنت عثمانیہ کے حوالے کر دیے اور دولاکھ 20 ہزار دوکات سالانہ خراج دینا منظور کیا۔ صلح کے بعد سلطان محمد رابع ایک فاتح کی حیثیت سے ادرنہ واپس لوٹے۔
تجدید جنگ
لیکن یہ صلح بالکل عارضی ثابت ہوئی، سو بیسکی اور پولینڈ کے دوسرے امرا نے اس صلح کو یک قلم مسترد کر دیا اور از سرنو جنگ کی تیاریاں کرنے لگے، چنانچہ 1673ء میں احد کو پر یلی پولینڈ کی سرکوبی اور زار روس کی تنبیہ کے لیے جس نے گزشتہ جنگ میں پولینڈ کو مدد پہنچائی تھی ، پھر روانہ ہوے، لیکن 11 نومبر 1673ء کو سو بیسکی نے اچنک ترک لشکر پر جو خوزیم کے قریب خیمہ زن تھا چھاپا مارا، احمد کوپریلی کوسخت شکست ہوئی، ولا چیہ اور مولدیویا کے فرماں رواؤں نے عین وقت پر غداری کی اور اپنے اپنے دستے لے کر سو بیسکی کی فوج سے جاملے ، دوسرے سال سلطنتِ عثمانیہ نے پھر ایک فوج اوکرین کی مہم پر بھیجی، لیکن سو بیسکی کے مقابلہ میں جس کی حمایت سلطنت روس اب اعلانیہ طور پر کر رہی تھی ، اسے کامیابی حاصل نہ ہوئی اور پولینڈ اور روس کی متحدہ فوج کے سامنے اسے پسپا ہونا پڑا، 1674ء میں شاہ مائیکل کی وفات پر سو بیسکی پولینڈ کے تخت پر بیٹھایا گیا اور دوسرے ہی سال اس نے لمبرگ میں ترکوں کو ایک اور زبردست شکست دی، مگر اس شکست کے باوجود ترکوں کے عزم و استقلال میں کوئی فرقہ نہ آیا اور بالآخر سوبیسکی کو "زرانہ" میں شکست دے کر انہوں نے پوڈولیا کے پورے صوبے پر قبضہ کر لیا۔
صلح نامه زرانه
اب سوبیسکی کو مجبور ہو کر صلح کرنی پڑی، صلح نامہ زرانہ 27 اکتوبر 1676ء میں کمینیک اور پوڈولیا پر ترکوں کا قبضہ تسلیم کیا گیا اورتمام اوکراین علاوہ چند مقامات کے سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں آگیا۔
اس صلح کے تین ہی روز بعد احمد کو پریلی نے وفات پائی ، اگر چہ اسے آسٹریا اور پولینڈ کے مقابلہ میں سینٹ گا تھرڈ اور خوزیم میں شکستیں ہوئی تھیں، تاہم اس نے خوش انتظامی اور حسن تدبیر سے ان کی پوری تلافی کر دی اور پوڈولیا، کریٹ نو بزل اور سیر نورا (انگری) کو سلطنت عثمانیہ میں شامل کر کے اس کی وسعت میں اہم اضافے کئے، ان بیرونی فتوحات کے علاوہ اس نے سلطنت کی اندرونی بغاوتوں اور شورشوں کو بھی ختم کر دیا، جہاں تک سلطنت کے حسن انتظام عدل و انصاف نیز مالی اور فوجی قوت کا تعلق ہے کسی وزیر نے اس سے زیادہ کارنامے نہیں دکھائے اور یہ سب کچھ اس نے بغیر کسی ظلم و تشدد کے کیا ، اس نے رعایا کے تمام طبقوں کی سرپرستی کی اور ہر مذہب وملت کے پیرؤں کے ساتھ یکساں طور پر عدل و انصاف برتا۔ عہد و پیمان کی پابندی اس کا ایک مخصوص وصف تھا، اپنی بے نظیر لیاقت اور کارگزاریوں کے لحاظ سے وہ سلطنت عثمانیہ کا سب سے بڑاوزیر خیال کیا جاتا تھا۔
قره مصطفى
احمد کو پریلی کی وفات پر اُمید کی جاتی تھی کہ سلطان اس کے بھائی مصطفیٰ کو پریلی کو، جومختلف صوبوں کا حاکم رہ چکا تھا اور جس میں احمد کے بہت سے اوصاف پائے جاتے تھے، صدر اعظم مقرر کرے گا ، لیکن اس توقع کے خلاف اس نے اپنے داماد قرہ مصطفیٰ کو اس عہدے پر مامورکیا، یہ انتخاب سلطنت کے لیے حد درجہ نقصان دہ ثابت ہوا، قرہ مصطفیٰ کا نصب العین تمام تر اپنی ذاتی ترقی تھا۔ اس میں وہ اہلیت مطلق نہ تھی جو سلطنتِ عثمانیہ کے وزیر اعظم میں ہونی چاہئے تھی، اس میں دولت کی ہوس کی کوئی انتہانہ تھی ، دولت کا وہ بے حد حریص تھا، چنانچہ سلطنت کے بڑے بڑے عہدے اور امتیازات معمولی قیمتوں پر فروخت کر دیتا تھا، اس طرح اس نے بہت زیادہ دولت جمع کر لی تھوڑے ہی دنوں میں اس کی سختیوں کی وجہ سے رعایا پر یشان ہوگئی ، اسی ہوس عظمت کے ماتحت جو اس کے مزاج کی نمایاں خصوصیت تھی، وہ آسٹر یا پر حملہ کر کے ویانا کی فتح کا حوصلہ رکھتا تھا، کیونکہ ویانا کی فتح کے بعد وہ اپنے لیے دریائے ڈینوب اور دریائے رہائن کے درمیانی علاقوں کی فرماں روائی حاصل کرنا چاہتا تھا، لیکن آسٹریا کی طرف بڑھنے سے پہلے روس سے جنگ چھڑ گئی جس میں قرہ مصطفیٰ کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔
اوکرین
قرہ مصطفیٰ کی سختیوں کی وجہ سے اوکرین کے قزاق بہت عاجز آگئے تھے، یہاں تک کہ مجبور ہو کر انہوں نے فروری 1677ء میں علم بغاوت بلند کر دیا ، روس نے ان کی حمایت کی، یہ اطلاع پا کر قرہ مصطفیٰ ایک فوج لے کر اوکرین میں داخل ہوا، وہاں اسے باغیوں کے علاوہ روس اور پولینڈ کی فوجوں سے بھی مقابلہ پیش آیا اور اس کو شکست ہوئی ، دوسرے سال تازہ فوجوں کے ساتھ وہ پھر لوٹا اور 21 اگست 1678ء کو اس نے قلعہ سیز رائم فتح کر لیا ، تین سال تک مختلف معر کے پیش آتے رہے جس میں کبھی ایک فریق کو فتح ہوئی، کبھی دوسرے کو بالآخر 1681ء سلطنت عثمانیہ اور روس کے درمیان صلح ہو گئی اور سلطنتِ عثمانیہ اوکرین سے دست بردارہوگیا، پانچ سال بعد روس اور پولینڈ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسکی رو سے پورے او کرین پر روس کی سیادت تسلیم کر لی گئی۔
ویانا کا دوسرا محاصرہ
سنہ1682ء میں قرہ مصطفیٰ کو آسٹریا پر حملہ کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ، ہوا کچھ یوں کہ ہنگری کا جو حصہ آسٹریا کے زیر حکومت تھا، اس نے شہنشاہ "لیوپولڈ" کی مذہبی پابندیوں سے عاجز آ کر بغاوت کر دی، باغیوں کے سردار "تو کولی" نے آسٹریا سے آزادی کا اعلان کر کے خود کو ہنگری کا فرماں روا قرار دیا اور اس نے سلطان کی سیادت قبول کر لی ، " قرہ مصطفیٰ کے لیے یہ موقع نہایت اہم تھا، اس نے ایک بہت بڑی فوج جسکا تخمینہ 2 لاکھ 75 ہزار کیا جاتا ہے ادرنہ میں جمع کی اور 1683ء کے اوائل میں ویانا کے قصد سےروانہ ہوا ، راستے میں اسے کوئی مزاحمت پیش نہ آئی اور وہ آسانی کے ساتھ ویانا پہنچ گیا، شہنشاہ لیوپولڈ کے پاس اس زبردست فوج کے مقابلہ کے لیے کوئی سامان نہ تھا، اس کے سپاہیوں کی تعداد پینتیس ہزار سے زیادہ نہ تھی ، جن میں سے گیارہ ہزار ویانا کے اندر متعین تھے، اس نے سوبیسکی سے مدد کی درخواست کی ، پولینڈ اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان حال ہی میں ایک صلح نامہ ہو چکا تھا، لیکن سو بیسکی نے اس کی کوئی پروانہ کی اور شہنشاہ کی مدد کے لیے 50 ہزار سپاہیوں کو بھیجنے کا وعدہ کرلیا لیکن سوبیسکی کی فوج ویانا سے اس قدر دورتھی، کہ 2 ماہ سے پہلے وہ یہاں نہیں پہنچ سکتی تھی، اس میں شبہ نہیں کہ اگر قرہ مصطفیٰ پوری ہوشیاری سے کام لیتا اور دورانِ محاصرہ میں پوری قوت سے حملہ کرتا تو ویانا پولینڈ کی کمک آنے سے پہلے ہی فتح ہو جاتا، لیکن اسے اپنی طاقت اور دشمن کی کمزوری پر حد سے زیادہ بھروسہ تھا اور وہ یقین رکھتا تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت و یا نا کو اس کے پنجہ سے چھڑا نہیں سکتی ۔
غرض ویانا کا دوسرا محاصرہ 15 جولائی 1683ء کو شروع ہوا ، شہنشاہ لیوپولڈ اپنے خاندان کے ساتھ بھاگ کر بویر یا چلا گیا تھا۔ لیکن محصورین نے کانٹ اسٹارمبرگ کی سرکردگی میں نہایت دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا ، شہر کے 20 ہزار باشندے بھی سپاہیوں کے دستہ کے ساتھ شامل ہو گئے ، انہوں نے بھی فوج کے ساتھ جاں بازی کے جوہر دکھائے ، تاہم ترک توپ خانوں نے شہر کی دیواروں کو کئی مقام پر بالکل مسمار کر دیا ، اگر قرہ مصطفیٰ ایک عام حملہ کا حکم دے دیتا تو شہر کے فتح ہو جانے میں کوئی شبہ نہ تھا، لیکن اس کے حرص و ہوس نے یہ نادر موقع کھو دیا، وہ اس بات کا انتظار کرتا رہا کہ اہل شہر محاصرہ سے عاجز آ کر آخر میں خود ہتھیار ڈال دیں گے اور پھر شہر کی تمام دولت پر وہ تنہا قبضہ کرلے گا، جو ایک عام حملہ کی کامیابی میں ممکن نہ تھا۔ کیونکہ اس وقت مال غنیمت تمام فوج کا حق ہو جاتا، اسی توقع اور ہوس نے آخری حملے کو ملتوی رکھا ، اس درمیان میں سو بیسکی تیزی کے ساتھ ویانا کی جانب کوچ کرتا رہا اور آخر کار شہزادہ "چارلس آف لورین" سے آملا جو آسٹریا کی شاہی فوج کا سپہ سالار تھا اور ویانا سے کچھ فاصلہ پر اس کا انتظار کر رہا تھا، دونوں سپہ سالاروں نے متحد ہو کر "ٹولم" کے مقام پر دریائے ڈینوب کو عبور کیا اور پھر وہ نہایت دشوار گزار راستہ سے ہو کر تر ک لشکر کے عقب پر پہنچ گئے، قرہ مصطفیٰ آسانی کے ساتھ سو بیسکی اور شہزادہ چارلس کو دریا عبور کرنے یا اس دشوار گزار راستہ کے طے کرنے سے روک سکتا تھا، لیکن اپنی طاقت پر حد سے بڑھے ہوئے اعتماد نے اس کو غافل رکھا اور وہ اس وقت متنبہ ہوا جب دشمن اس کی پشت پر پہنچ کر قدم جما چکا تھا۔
ترکوں کی شکست
سوبیسکی کو عثمانی لشکر کی ترتیب دیکھ کر اپنی کامیابی کا یقین ہو گیا ، اس نے قرہ مصطفیٰ کی نسبت حقارت کے ساتھ اس خیال کا اظہار کیا کہ اس شخص نے لشکر کی ترتیب غلط طریقہ پر کی ہے، وہ جنگ کے متعلق کچھ نہیں جانتا ، ہم ضرور اسے شکست دیں گئے۔ پھراس نے اپنی فوج کو مخاطب کر کے بتایا کہ ویانا تمام یورپ کا قلب ہے، جس کی مدافعت ایک مقدس فرض ہے، ویانا کوترکوں سے چھڑا لینا در حقیقت سارے یورپ کو محفوظ کر لینا ہے، فوج کے دینی جوش کو برانگیختہ کرنے کے بعد اس نے حملہ اس قدر شدید کیا کہ عثمانی لشکر اس کی تاب نہ لا سکا، حملے کی شدت سوبیسکی کی موجودگی کے باعث اور زیادہ محسوس ہو رہی تھی ، اس کی فاتحانہ شہرت کا غلغلہ تمام یورپ میں پھیلا ہوا تھا ، سب سے پہلے تاتاریوں کے قدم اکھڑے، ان کے بھاگنے سے ترک فوج کے دوسرے دستوں پر بھی اثر پڑا اور پوری فوج میں انتشار پیدا ہو گیا، قرہ مصطفیٰ نے ینی چری کو شہر کے سامنے خندقوں میں چھوڑ دیا تھا اور بقیہ فوج کے ساتھ سوبیسکی اور شہزادہ چارلس کے متحدہ حملے کا مقابلہ کر رہا تھا ، جو اس کے عقب سے ہوا تھا، تاتاریوں کے پسپا ہو جانے کے بعد سوبیسکی نے ترک لشکر کے قلب پر حملہ کر دیا، عثمانی فوج با وجود اپنی کثرت کے اس حملے کا مقابلہ نہ کر سکی اور اس کے قدم اکھڑ گئے، عیسائیوں نے ترکوں کے تمام خیموں اور سامانوں پر قبضہ کر لیا، اس کے بعد وہ ینی چری دستوں کی طرف بڑھے، جن پر اب دونوں طرف سے حملہ ہونے لگا، پشت سے سو بیسکی کی فوج حملہ کر رہی تھی اور سامنے سے آسٹریا کی شاہی فوج گولیاں برسا رہی تھی ، ینی چری اپنی بے مثل جاں بازی کے ساتھ ان حملوں کا مقابلہ کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کا ایک ایک فرد داد شجاعت دیتا ہوا مارا گیا، سو بیسکی کی فتح مکمل ہوگی، تین سوتوپیں، نو ہزار گولہ بارود کی گاڑیاں اور پچیس ہزار خیمے مال غنیمت میں ہاتھ آئے۔
قره مصطفیٰ کا قتل
قرہ مصطفیٰ سوبیسکی کے تعاقب سے بچ کر بودا پہنچا اور وہاں عثمانی فوج کے چند بڑے بڑے افسروں کو اس شکست کا ذمہ دار قرار دے کر جو تمام تر اس کی نا اہلیت اور حرص و ہوس کا نتیجہ تھی قتل کر دیا ، اس کے بعد وہ موسم سرما گزارنے کے لیے بلغراد چلا گیا، وہاں سلطان کے حکم سے وہ خود قتل کر دیا گیا اور اس کی تمام جائیداد ضبط کر لی گئی۔
شکست و یا نا کا اثر
ویانا کا یہ دوسرا محاصرہ جس میں ترکوں کو ایسی زبردست شکست ہوئی پہلے محاصرہ سے جو 1529ء میں سلطان سلیمان اعظم کی سرکردگی میں ہوا تھا، بہت کچھ مختلف تھا، سلطان سلیمان سامانِ رسد اور اسلحے کی عدم فراہمی کی وجہ سے محاصرہ اٹھا لینے پر مجبور ہو گیا تھا۔ دشمن کو میدان جنگ میں اس سے مقابلہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی اور وہ اپنی پوری فوج کے ساتھ قسطنطنیہ واپس آگیا، بر خلاف اس کے قرہ مصطفیٰ نے ایک ایسی فوج سے جو ترک لشکر سے تعداد میں بہت کم تھی ، میدان جنگ میں شکست کھائی اور اس کے ہزاروں سپاہی ہلاک ہو گئے ، اس شکست کا اثر سلطنتِ عثمانیہ کی عظمت پر بہت برا پڑا ، یورپ کو معلوم ہو گیا کہ عثمانی فتوحات کا دور اب ختم ہو گیا ہے اور وسط یورپ کی سلطنتیں جو دو سو برس سے مستقل طور پر تر کوں کے حملوں سے خائف چلی آ رہی تھیں ، اب ہمیشہ کے لیے مطمئن ہوگئیں۔
مسیحی اتحاد
ویانا میں ترکوں کی شکست سے تمام یورپ میں شادیانے بجنے لگے اور ان عیسائی حکومتوں نے جو سلطنت عثمانیہ کی مغربی سرحدوں پر واقع تھیں بہ یک وقت انہوں نےسلطنتِ عثمانیہ پر حملہ کر دیا، یورپ نے ترکوں کے خلاف ایک مذہبی جنگ کا اعلان کیا اور اس کے لیے عیسائی حکومتوں کا ایک مقدس اتحاد 1684ء میں قائم کیا گیا، جس میں آسٹریا، پولینڈ ، وینس اور مالٹا شریک ہوئے اور 1686ء میں روس بھی شامل ہو گیا۔
مزید بید شکستیں
نئے صدراعظم ابراہیم پاشا نے ان حملہ آوروں کے مقابلہ کی حتی امکان کوشش کی، لیکن ویانا کی شکست میں عثمانی فوجوں اور خصوصاً توپ خانوں کا جو نقصان ہوا تھا ، اس کی تلافی فوراً ممکن نہ تھی، نتیجہ یہ ہوا کہ آسٹریا کی شاہی فوجوں نے جن میں پولینڈ اور جرمنی کے مختلف صوبوں کی فوجیں بھی شامل ہوگئی تھیں، شہزادہ چارلس کی سرکردگی میں گران ، نو ہرل ، اوفن اور زیجیڈ ین جیسے اہم اور مضبوط مقامات پر قبضہ کر لیا اور پھر بلغراد کے علاوہ ہنگری کے ان تمام قلعوں کو فتح کر لیا جن پر ترک قابض تھے، کروشیا کا صوبہ بھی جو ڈیڑھ سو برس سے سلطنت عثمانیہ کا مقبوضہ تھا اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔
ادھر وینس نے بوسنیا اور البانیا پر حملہ کر دیا اور موروسینی جمہوریہ کی فوجیں لے کر موریا میں داخل ہوا اور کون ، توارنیو، کورنتھ ، ایتھنز اور دوسرے اہم شہروں پر قبضہ کر لیا، تقریباً پورا یونان وینس کے قبضہ میں آگیا، یونانیوں نے اس حملہ کی مدافعت میں ترکوں کو کسی قسم کی کوئی مدد نہ دی، لیکن جمہوریہ کی فتح کے بعد انہیں معلوم ہو گیا کہ اہل وینس کی حکومت ترکوں کے مقابلہ میں کتنی زیادہ سخت اور ظالمانہ ہے، لارڈ ایور سلے نے بھی بادل ناخواستہ اس کا اعتراف کیا ہے ۔
سنہ18 جون 1686ء کو آسٹریا کی فوجوں نے شہزادہ چارلس کے زیر قیادت بودا کا محاصرہ کر لیا، صدراعظم سلیمان پاشا نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن تازہ کمک پہنچنے سے قبل شہر فتح ہو گیا، عبدی پاشا اور ترکی دستہ جو قلعہ کی مدافعت کر رہا تھا، نہایت جاں بازی کے ساتھ لڑتا ہوا مارا گیا ، یہ شہر ایک سو پینتالیس سال سے ترکوں کے قبضہ میں تھا اور اس دوران اس نے 6 محاصروں کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا تھا، لیکن 13 شوال 1097ھ بمطابق 2 ستمبر 1686ء کو یہ ترکوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور پھر کبھی سلطنت عثمانیہ کےقبضہ میں نہ آیا۔
سنہ3 شوال 1098ھ بمطابق (12) اگست 1687ء) کو مو با کز کا معرکہ پیش آیا ، 160 برس پہلے اس مقام پر سلطان سلیمان اعظم نے اہل ہنگری کو زبردست شکست دے کر ان کے نصف ملک پر قبضہ کر لیا تھا، اس مرتبہ ویسی ہی شکست ترکوں کو اٹھانی پڑی ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلادونیا اور کروشیا کے علاقے مستقل طور پر سلطنت آسٹریا میں شامل کر لیے گئے ، بانی امیر ٹرانسلو ینیا نے جو سلطنت عثمانیہ کا باج گزار تھا، اب اس نےآسٹریا کی سیادت قبول کر لی تھی۔
سلطان کی معزولی
ان مسلسل شکستوں کی وجہ سے عثمانی فوج میں سخت برہمی پھیلی ہوئی تھی، فوج کے افسروں نے متفقہ طور پر پر سیاوش پاشا کو اپنا سپہ سالار اعظم منتخب کیا اور صدراعظم سلیمان پاشا کے قتل کا مطالبہ پیش کیا۔ سلطان نے فوج کی برہمی اور بغاوت کے آثار دیکھ کر یہ مطالبہ منظور کر لیا اور سلیمان پاشا کی جگہ سیاوش پاشا کو صدر اعظم مقر رکیا، سلیمان پاشا سلطان کے حکم سے قتل کر دیا گیا، امید تھی کہ اس مطالہ کے پورا ہونے کے بعد فوج مطمئن ہو جائے گی اور قسنطنیہ کارخ نہ کرے گی لیکن ادرنہ پہچنے کے بعد وہ دارالسلطنت کی طرف روانہ ہوئی اور وہاں آکر خود سلطان کی معزولی کا مطالبہ کرنے لگی، سلطنت کے بڑے بڑے عہدہ داروں نے بھی جو قسطنطنیہ میں موجود تھے، متفقہ طور پر اس مطالبہ میں فوج کا ساتھ دیا، چنانچہ مصطفیٰ کوپریلی نے جو اس وقت قائم مقام صدر اعظم تھا، علما کی ایک مجلس منعقد کر کے سلطان کے عزل کی نسبت استثنا کیا، تمام علما نے بغیر کسی اختلاف کے معزولی کا فتویٰ دیا، ساتھ ہی انہوں نے اس کے بھائی سلیمان کو اس کا جانشین منتخب کر لیا، چنانچہ 2 محرم الحرام 1099ھ بمطابق 8 نومبر 1677ء کوسلطان محمد رابع کوتخت سے اتار کر محل کے اس حصہ میں نظر بند کر دیا، جہاں اب تک اس نے سلیمان کو نظر بند رکھا تھا اور سلیمان کو وہاں سے لا کر تخت پر بیٹھایا گیا، پانچ سال بعد 8 ربیع الثاني 1104ھ بمطابق 17 دسمبر 1692ء کو اس کا انتقال ہو گیا۔
سلطان محمد رابع کو شکار سے بہت دلچسپی تھی اور وہ اپنے وقت کا زیادہ تر حصہ اس میں گزارتا تھا، اس نے سلطنت کا سارا انتظام صدر اعظم کے ہاتھ میں چھوڑ رکھا تھا ، سلطنت کی خوش قسمتی سے 1676ء تک عنان حکومت ایسے وزیروں کے ہاتھوں میں تھی جو سلطان کے تمام تر اعتماد کے مستحق تھے محمد کو پریلی اور اس کے بعد احمد کو پر یلی نے سلطنتِ عثمانیہ کی جو عظیم الشان خدمات سر انجام دیں وہ اپنی نظیر آپ ہیں، لیکن احمد کو پریلی کی وفات پر قرہ مصطفیٰ کے تقرر نے وہ تمام خرابیاں از سر نو پیدا کر دیں جن کو دور کرنا اس کے ممتاز پیش رووؤں کا خاص مقصد تھا ، قرہ مصطفیٰ کی نا اہلیت اور پھر اس کی غیر معمولی حرص و ہوس مزید تباہیوں کا باعث ہوئی ، جس کا پیش خیمہ ویانا کی زبردست شکست تھی ، اس شکست نے تقریباً تمام یورپ کو بیک وقت سلطنت عثمانیہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کر دیا، قرہ مصطفیٰ کے جانشین ابراہیم پاشا اور سلیمان پاشا نے مدافعت کی انتہائی کوششیں کیں، لیکن ویانا کی شکست نے سلطنت کی قوت کو توڑ دیا تھا اور تقریباً تمام معرکوں میں ترکوں کے قدم اکھڑتے ہی گئے ، ان پے در پے ہزیمتوں سے فوج میں بغاوت کے جذبات پیدا ہوئے، پہلے تو فوج نے صدر اعظم سلیمان پاشا ہی کو ذمہ دار قرار دے کر قتل کر دینا چاہا، لیکن اس کے قتل کے بعد بھی ان کا غصہ ختم نہ ہوا اور فوج نے خود سلطان کی معزولی پر اصرار شروع کیا، گو سلطان محمد رابع براہِ راست ان شکستوں کا ذمہ دار نہ تھا لیکن قرہ مصطفیٰ جیسے نالائق وزیر کا تقرر صرف اسی کے انتخاب سے عمل میں آیا تھا اور یہی تقر ر سلطنت کی تمام خرابیوں اور تباہ کاریوں کا سبب ثابت ہوا۔
الجزائر و تیونس کی آزادی
سلطان محمد رابع کے عہد میں سلطنتِ عثمانیہ کو ایک شدید صدمہ یہ بھی پہنچا کہ الجزائر اور تیونس کی حکومتیں آزاد ہو گئیں، ان حکومتوں کی آزادی کے لیے کسی خاص سن یا سال کا تعین نہیں کیا جا سکتا، لیکن مؤرخین کو اس پر اتفاق ہے کہ یہ آزادی سترہویں صدی کے وسط میں حاصل ہوئی ، اس کے اسباب اس صدی کے ابتدا ہی میں پیدا ہو گئے تھے، جب کہ حکومت کے اعلیٰ عہدہ داروں کا تقرر ذاتی لیاقت اور تجربہ کے بجائے سفارش اور رشوت کی بنا پر کیا جانے لگا تھا اور سلطنت کے دوسرے صوبوں کے حکام کی طرح الجزائر اور تیونس کے صوبہ داروں نے بھی بڑی بڑی قیمتیں ادا کر کے اپنے عہدے حاصل کرنا شروع کر دیے تھے، کچھ دنوں کے بعد الجزائر اور تیونس کے مقامی فوجی دستوں نے اپنے سردار خود ہی منتخب کرنا شروع کیے، ابتدا میں تو یہ انتخاب منظوری کے لیے سلطان کے سامنےپیش کیا جاتا تھا۔ وہ یا تو منتخب شدہ امید وار کومقرر کر دیتے، یا اس کے بجائے کسی دوسرے کا تقرر کر دیتے تھے۔ یہ بھی تھوڑے ہی دنوں قائم رہی اور پھر اس انتخاب کو سلطان کے سامنے پیش کرنے کا رواج بھی جاتا رہا، رفتہ رفتہ ان فوجی سرداروں نے جوڈے کہلاتے تھے، حکومت کی اصلی قوت اپنے ہاتھوں میں لے لی اور بالآخران پاشاؤں کو برطرف کر دیا جو برائے نام صوبہ دار بنا کر قسطنطنیہ سے بھیجے جاتے تھے، اس طرح ان دونوں صوبوں نے خود مختاری حاصل کر لی، کبھی کبھی وہ سلطنتِ عثمانیہ کی مدد اپنے جنگی بیڑے سے کرتے رہتے تھے، لیکن سلطنتِ عثمانیہ کے محکوم کی حیثیت سے نہیں بلکہ اسلامی اخوت کی بنا پر۔
دونوں حکومتوں کے پاس جنگی جہازوں کے مضبوط بیڑے تھے جو بحر روم میں چکر لگاتے رہتے تھے اور وہاں سے نکل کر بحر اٹلانٹک کے علاقوں پر چھاپا مارا کرتے تھے۔
سلطنت عثمانیہ سے ان حکومتوں کی آزادی کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ دوسری سلطنتیں باب عالی سے جنگ کا اعلان کیے بغیر الجزائر اور تیونس کے بحری جہازوں پر حملے کرتی رہتی تھیں اور ان حملوں سے ان کے اور سلطنت عثمانیہ کے باہمی تعلقات پر کوئی نا گوار اثر نہیں پڑتا تھا، چنانچہ 1617 ء میں ایک فرانسیسی بیڑے نے امیر البحر "بولو" کی سرکردگی میں الجزائر کے بیڑے پر حملہ کر کے اس کے بہت سے جہازوں کو غرق کر دیا، اسی طرح 1620ء میں انگریز امیر البحر سر رچرڈ مانسل نے الجزائر پر حملہ کیا، کیونکہ گزشتہ پانچ سال کے اندر الجزائر کے جہازوں نے 400 انگریزی تجارتی جہازوں کو گرفتار کر لیا تھا، لیکن اس حملہ سے کوئی خاص فائدہ نہ ہوا ، 1655ء میں ایک دوسرے انگریزی بیڑے نے جو امیر البحر “بلیک” کی قیادت میں تھا، تیونس پر گولے برسا کر اس کے جہازوں کی ایک بڑی تعداد جلا ڈالی ، اس کے بعد بلیک الجزائر کی طرف بڑھا، وہاں کے ڈے نے بغیر کسی جنگ کے تمام انگریزی قیدیوں کو رہا کر دیا، ان دونوں صورتوں میں انگلستان اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان کسی جنگ کا اعلان نہیں ہوا اور نہ سلطان نے انگلستان کے اس فعل پر کوئی شکایت کی۔
سنہ1663ء میں انگلستان، الجزائر اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان ایک صلح نامہ مرتب ہوا جس کی رو سے انگلستان کو یہ حق دیا گیا کہ اگر الجزائر کی طرف سے معاہدہ شکنی ہوتو انگلستان اس سے انتقام لے سکتا ہے، مگر اس سے انگلستان اور سلطنت عثمانیہ کے تعلقات میں کوئی کشیدگی پیدا نہ ہوگی ، چنانچہ اس عہد نامہ کے مطابق انگلستان کو بارہا الجزائر پر حملہ کرنے کا اتفاق ہوا لیکن یہ حملے بیش تر بے سود ثابت ہوئے۔
غرض سلطنت عثمانیہ سے الجزائر اور تیونس کی آزادی 1650ء کے قریب عمل میں آئی، الجزائر نے تقریباً 200 برس تک اپنی خود مختاری قائم رکھی، لیکن 1830ء میں فرانس نے اسے فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا، تیونس کی آزادی نصف صدی سے زائد تک قائم رہی ، 1881ء میں یہ حکومت بھی سلطنت فرانس میں شامل کر لی گئی۔
نظام ینی چری میں تبدیلی
سلطان محمد رابع کے عہد میں ینی چری کے نظام میں ایک اہم ترمیم کی تکمیل ہوئی ، شروع شروع یہ فوج تمام تر ان نوجوانوں پرمشتمل ہوتی تھی جو ہر سال سلطنت کی عیسائی رعایا میں سے منتخب کیے جاتے تھے لیکن سلطان مراد رابع کے وقت سے عیسائی لڑکوں کی قید اُٹھادی گئی، چونکہ یہ فوج تمام افواجِ عثمانی میں سب سے زیادہ معزز خیال کی جاتی تھی اور اس کے سپاہیوں کو بہت سے ملکی اور فوجی فوائد حاصل تھے، اس لیے ترکی النسل اور مسلمان امیدوار بھی نہایت شوق کے ساتھ اس میں داخل ہونے کے درخواستگار ہوئے، چنانچہ قدیم دستور میں پہلے یہ ترمیم کی گئی کہ ینی چری سپاہیوں کے بچوں کو بھی اس میں داخلہ کا حق دیا گیا، تھوڑے ہی دنوں کے بعد دوسرے مسلمان امید وار بھی لیے جانے لگے اور عیسائی رعایا سے ہر سال جو مطالبہ ہوا کرتا تھا، اس میں بہت کمی ہو گئی، لیکن 1675ء سے، جو صدراعظم احمد کو پریلی کی وزارت کا آخری سال تھا، عیسائی لڑکوں کا داخلہ بالکل بند کر دیا گیا ، اس ترمیم کے مکمل ہو جانے پر ینی چری کی تعداد میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ، ینی چری سپاہیوں کے بڑے بڑے دستے سلطنت کے خاص خاص شہروں میں متعین کر دیے گئے ، وہاں وہ اپنے بال بچوں کے ساتھ مختلف کاروبار میں مشغول ہو گئے اور صرف جنگ کے موقعوں پر سلطنت کی دوسری فوجوں کے ساتھ شریک ہو جاتے تھے ، ان کی خاص راہبانہ اور فوجی زندگی کا خاتمہ بہت پہلے ہو چکا تھا۔
شکار سے حد درجہ شغف ہونے کے باوجود علوم وفنون کی سر پرستی میں سلطان محمد رابع اپنے پیش روؤں سے پیچھے نہ تھا، اسے علما کی صحبت سے خاص دلچسپی تھی ، مؤرخین کی خاص طور پر حوصلہ افزائی کرتا تھا، وہ انہیں اپنے دربار میں مامور رکھتا اور ان کی کتابوں کی تصحیح خود اپنے قلم سے کرتا تھا۔
History In Urdu