اٹومن ایمپائر سیریز کی گزشتہ ویڈیو میں ہم نے دیکھا کہ کیسے سلطان بایزید یلدرم نے نیکوپولس کی جنگ میں یورپ کی متحدہ صلیبی فوج کو کس طرح عبرتناک شکست سے دوچار کیا تھا اج کی اس ویڈیو میں ہم سلطان بایزید کی قسطنطنیہ کے خلاف ناکہ بندی اور اناطولیہ میں سلطان با یزید کی آخری فتوحات کا جائزہ لیں گے.
دریائے ڈینیوب کے کنارے 1396 عیسوی میں ہونے والی جنگِ نیکو پولیس میں سلطان بایزید کے ہاتھوں یورپ کی متحدہ صلیبی فوج کو عبرت ناک شکست ہوئی اور ہنگری کا بادشاہ سجمنٹ بڑی مشکل کے ساتھ اپنی جان بچا کر زندہ واپس بھاگنے میں کامیاب ہوا۔ نیکو پولس کی جنگ میں فتح کے بعد سلطنت عثمانیہ یورپ اور اسلامی دنیا میں ایک طاقتور ترین ریاست کے طور پر سامنےآئی۔ اس فتح کے بعد ہنگری اور ولاچیا اب سلطنت عثمانیہ کے نشانے پر تھے کیونکہ اب آنے والے سالوں میں اس علاقوں کو عثمانی حملوں کا سامنا کرنا تھا۔
لیکن اس دوران سلطان بایزید کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قسطنطنیہ تھا کیونکہ سلطان بایزید جانتے تھے کہ قسطنطنیہ کو فتح کر کے ہی وہ رومیوں کے حقیقی حکمران بن سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے جنگی تیاریاں شروع کیں۔ کیونکہ نیکو پولیس کی جنگ میں سلطان بایزید کو فتح تو حاصل ہوئی تھی لیکن اس جنگ میں انہیں کافی جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہزاروں عثمانی سپاہی اس جنگ میں شہید ہوئے ،اس لئے اب سلطان یلدرم نے نئے سپاہیوں کوفوج میں بھرتی کرنا شروع
کیا۔
لیکن 1397 عیسوی کے اوائل میں بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ کا محاصرہ کرنے سے پہلے سلطان بایزید نے زار ایوان کی ریاست وڈین پر حملہ کیا کیونکہ نیکو پولس کی جنگ کے دوران اس نے صلیبیوں کی مدد کی تھی یہاں سلطان بایزید نے ایک مختصر سی فوجی مہم کے بعد ورڈن اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور انہوں نے بلغاریہ کے سابق زار کو جنگی قیدی بنانے کے بعد اسے بورصہ میں قید کے دوران گلا دبا کر قتل کر دیا ۔
وڈن کی فتح کے بعد تھنڈر بولڈ عثمانی سلطان نے قسطنطنیہ کی جانب پیش قدمی شروع کی اور 1397 عیسوی کے آخر تک انہوں نے قسطنطنیہ کا سخت ترین محاصرہ شروع کر دیا تھا اس محاصرے کا کے دوران سلطان بایزید کوفتح کا اس قدر یقین تھا کہ وہ اپنے امراء اور وزیروں کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر قسطنطنیہ میں موجود محلات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے وہیں پر فیصلہ کیا کہ کون سا محل کس کو دیا جائے گا شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ سلطان با یزید نے آخری صلیبی جنگ میں یورپیوں کو اس قدر ذلت آمیزشکست سے دوچار کیا تھا کہ سلطان کو کامل یقین تھا کہ اب کی بار کو قسطنطنیہ کی مدد کے لیے کوئی بھی عیسائی لشکر نہیں آئے گا سلطان نے اگرچہ شہنشاہ قسطنطنیہ کے ساتھ دس سال کے لیے امن معاہدہ کیا ہوا تھا لیکن اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی بایزید قسطنطنیہ کو فتح کرنا چاہتے تھے اس کے لیے بایزید نے قسطنطنیہ میں اپنا ایک خاص ایلجی شہنشاہ کے پاس بھیجا کہ وہ تاج و تخت سے دستبردار ہو جائے ورنہ شہر بزور شمشیر فتح کر لیا جائے گا اس وقت وہاں کے بشندے رحم و کرم کے مستحق نہیں سمجھے جائیں گے اس نے یہ بھی کہلایا کہ قسطنطنیہ کے معاوضے میں شہنشاہ اپنے لیے کوئی دوسری حکومت پسند کر لے جو اسے دے دی جائے گی۔ قسطنطنیہ کے باشندے بایزید کی طاقت اور قوت سے اچھی طرح سے واقف تھے وہ چاہتے تھے کہ جس طرح بھی ممکن ہو جنگ کی نوبت نہ ائے ۔لیکن جان کو امید تھی کہ عیسائی حکومتیں قسطنطنیہ کی مخالفت میں اس کی مدد سے دریغ نہیں کریں گی۔ اس لیے اس نے ایلجی کو یہ جواب دے کر رخصت کر دیا کہ اپنے آقا سے کہہ دو کہ باوجود اس کے کہ ہم ضعیف و ناتواں ہیں ہم خدا کے سوا کسی دوسری طاقت سے نہیں ڈرتے وہی کمزور کی حفاظت کرتا ہے اور طاقتور کا غرور توڑتا ہے سلطان کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔ اس جواب کے بعد بایزید نے فوراً قسطنطنیہ کا محاصرہ شروع کر دیا تھا۔ اسی محاصرے کے دوران مارشل بوسلیکا شہنشاہ کی مدد کے لیے فرانس سے یہاں آ پہنچا جس کے بعد شہنشاہ قسطنطنیہ تین سال کے لیے یورپ کے سفر پر روانہ ہوا تاکہ یورپ سے فوجی مدد حاصل کر سکے۔ لیکن ان تینوں سالوں میں شہنشاہ کو یورپ سے کوئی خاص مدد نہ ملی اور شہنشاہ مایوس ہو کر واپس لوٹ ایا۔
اب ویسے تو شہنشاہ قسطنطنیہ یورپ سے خالی ہاتھ واپس ایا تھا، لیکن عثمانی سلطان با یزید کو قسطنطنیہ کے محاصرے سے پیچھے ہٹنے کی ایک بڑی وجہ جلد سامنے آگئی ۔وہ بڑی وجہ اناطولیہ میں موجود برسوں پرانی دشمنی لیے ہوئے کارمان قبیلہ تھا۔ جب سلطان بایزید قسطنطنیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو کاروان قبیلے کے سردار علاو الدین علی نے تیسری بار عثمانیوں کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اس نے انقرہ تک کے علاقوں کو فتح کر کے اسے کارامان قبیلے میں شامل کر لیا اور اس نے گرمیان قبیلے کے پرانے دارالحکومت سے ہوتے ہوئے اس نے سابق عثمانی دارالحکومت بورصہ شہر کی طرف پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ سلطان بایزید یلدرم کو جب کارامان قبیلے کی بغاوت کی خبر ملی۔ تو وہ سخت پریشان ہوئے اور اب کی بار تھنڈر بولٹ نے کارمان قبیلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا انہوں نے یورپ میں علاؤ الدین بے کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے اپنی فوجوں کو جمع کرنا شروع کر دیا اور کچھ ہی دنوں کے بعد دونوں ترک سردار بورصہ شہر کے باہر میدان میں آمنے سامنے ہوئے اس جنگ میں کارامان قبیلے کے سردار علاؤ الدین کو شکست ہوئی اور اسے قید کر لیا گیا اب چونکہ علاؤ الدین تین بار عثمانی سلطان کے خلاف بغاوت کر چکا تھا اور ہر بار بغاوت کرنے کے بعد اس نے معافی مانگ کر اور آئندہ بغاوت نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا اس لیے ہر بار اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرنے پر سلطان بایزید نے کارامان قبیلے کے سردار علاؤ الدین کو پھانسی دے دی اور کارامان قبیلے کی زمینوں کو عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔
کارامن قبیلے کی فتح کے بعد اب اگلا نشانہ اناطولیہ کا ایک اور ترک قبیلہ قاضی برہان الدین تھا لیکن سلطان بایزید نے خود ذاتی طور پر قاضی برہان الدین قبیلے پر حملہ نہیں کیا تھا۔ہوا دراصل یہ تھا کہ 1398 عیسوی کے شروع میں اناطولیہ میں ہی موجود ایک اور ترک قبیلے "آق قویونلو" اور قاضی برہان الدین کے درمیان کچھ تنازعات چل رہے تھے جس کی بنا پر آق قویونلو قبیلے نے قاضی برحان الدین کے قبیلے پر حملہ کرتے ہوئے سیواس کے مقام پر انہیں شکست دے کر جنگی قیدی بنا لیا اور اسی دوران قاضی برہان الدین کا گلا گھونٹ کر انہیں مار دیا گیا۔ قاضی برہان الدین کی موت کے بعد ان کے قبیلے میں سیاسی انتشار کے نتیجے میں یہاں کے معززین نے سلطان بایزید کی حاکمیت کو قبول کرنے کے بدلے میں انہوں نے "آق قویونلو" کے خلاف عثمانی فوجوں کی مدد کی درخواست کی جس میں سلطان بایزید نے اپنے سب سے بڑے بیٹے سلیمان جلیبی کی قیادت میں ایک مختصر فوج دے کر روانہ کیا اور سیواس کے مقام پر انہوں نے "آق قویونلو" کو شکست دے کر قاضی برہان الدین کے قبیلے کو فتح کر کے اسے عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا اور یوں اناطولیہ کے مشہور ترین شہر جن میں سیواس،اور کیسری عثمانی ڈومین میں شامل ہو گئے۔
سلطان بایزید کی ان فتوحات نے اسے اس خطے کی دو طاقتور ترین اسلامی سلطنتوں کی سرحدوں تک پہنچا دیا تھا اس کے جنوب میں مصر کی مملوک سلطنت تھی جس کا ہمسایہ بنو رمضان اور بنوزو القدر کا قبیلہ تھا۔
ایوبیوں کے زوال کے بعد مملوکوں نے مصر میں اپنی حکومت قائم کی اور جلد ہی اسلامی دنیا کے چند طاقتور ترین سلطنتوں میں ان کا شمار ہونے لگا ۔سلطنت عثمانیہ کے پہلے حکمران عثمان غازی اور ان کے بیٹے اور خان کے دور حکومت میں جب عثمانی ابھی اپنے بچپن میں ہی تھے تو اس دوران مملوکوں نے مقدس سرزمین میں آخری صلیبی فوج کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ناقابل شکست منگولوں کو عین جلوت کی جنگ میں شکست دے کر اپنی طاقت کا سکہ جما دیا تھا۔ جبکہ مسلمانوں کے دو مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ پر بھی مملوک سلطنت کی ہی حکومت تھی۔ 1399 عیسوی میں مملوک سلطنت کے سلطان برقوق کی موت کے بعد مملکوں کا زوال شروع ہو گیا سلطان بھرکوک کی موت کے بعد ان کے 10 سالہ نہ تجربہ کار بیٹے فراج کو تخت نشین کیا گیا۔
ادھر اس دوران عثمان سلطان بایزید نے مملوک سلطان کی موت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 1399 عیسوی کے موسم گرما کے دوران ٹورس پہاڑوں اور سلیشیا میں اپنی سرحدوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے اس نے بنو رمضان اور بنو ذوالقدر کے خلاف فوجی کاروائیاں شروع کی جس کے بعد بنو ذوالقدر نے شکست تسلیم کرتے ہوئے عثمانیوں کی اطاعت قبول کر لی۔ یوں اب عثمانی سلطنت کی سرحدیں اس وقت کی دو طاقتور ترین سلطنتوں مملوک اور تیموری سلطنتوں کی سرحدوں سے جا ملی تھیں۔
اب تک 12 سال کی مدت حکومت میں جو مسلسل جنگوں پر مشتمل تھی۔ عثمانی سلطان بایزید یلدرم کو ہمیشہ کامیابی ملتی رہی اس نے ایشیاء کوچک کے ایک بڑے حصے کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا تھا اور بازنطینی، سرویہ ،بوسنیا اور یونان کے بیشتر حصوں کو عثمانی سلطنت کا باج گزار بنا لیا تھا۔ نائیکو پولس کے میدان میں اس نے یورپ کی متحدہ اور بہترین فوجوں کو نہایت شرمناک ترین شکست دے کر صلیبی اتحاد کی قوت کو پاش پاش کر ڈالا تھا ۔اس وقت تک کسی جنگ میں اسے ناکامی نہیں ہوئی تھی۔لیکن آئیندہ دو سالوں میں جو اس کی حکومت کے آخری سال تھے اسے اتنی زبردست شکست اٹھانی پڑی کہ اس کی تمام فتوحات پر پانی پھر گیا اور کچھ دنوں کے لیے تو سلطنت عثمانیہ کی عظمت خاک میں مل گئی۔ خود بایزید کا خاتمہ بھی قید کی حالت اور بے کسی کے عالم میں ہوا۔ اس تباہی اور بربادی کا سبب وہ آویزش تھی جو بایزید اور تیمور کے درمیان پیدا ہو گئی تھی ۔انشاء اللہ "آٹومن ایمپائیر" کی سلطان بایزید یلدرم کی اگلی آخری ویڈیو میں ہم سلطان بایزید یلد رم اور تیموری سلطنت کے حکمران امیر تیمور کے درمیان ہونے والی خون ریز جنگِ انقرہ کا تفصیل سے ذکر کریں گے۔
History In Urdu