کوسوو کی جنگ میں فتح کے بعد اب تک عثمانیوں کو اہل یورپ کے ساتھ اتنی بڑی جنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ لیکن 1396 عیسوی میں ہونے والی جنگِ نائیکو پولس قرونِ وسطیٰ کی مسیحی دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی اتحادی فوجوں میں سے ایک تھی۔ جس کا اصل مقصد عثمانیوں کو یورپ سے نکالنا اور ادرنہ پر صلیبی پرچم لہرانا تھا، کیونکہ بلقان میں عثمانیوں کی موجودگی اہل یورپ کے لیے شدید خطرہ تھا۔ اٹومن ایمپائر سیریز کی آج کی اس ویڈیو میں ہم جنگِ نائیکو پولس کا احاطہ کریں گے۔ جب پورا اہل یورپ عثمانیوں کے خلاف متحد ہو کر ادرنے کی طرف روانہ ہوا ۔اور کیسے عثمانیوں نے آخری صلیبی جنگ کا سامنا کیا۔
شروع میں سلطنت عثمانیہ کے یورپ میں سب سے بڑے دشمن ہینگری کے بادشاہ سجمنڈ نے جب صلیبی جنگ کا اعلان کیا تو اس کے تقریبا ٹھیک دو سال بعد شہنشاہ سجمنڈ صلیبی فوج کے ساتھ عثمانی سلطان یلدرم کی افواج کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھا۔1396 عیسوی کے موسم گرما کے آخر میں صلیبی فوج نے ہینگری کے دارالحکومت بوڈا سے پیش قدمی شروع کی اور وہ ڈینیوب کے بائیں کنارے کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف مارچ کرنے لگے۔
یہ صلیبی لشکر اپنی شجاعت کے نشے میں اس قدر سرشار تھا کہ اس نے دعویٰ کیا کہ اگر آسمان بھی گرنے لگے تو وہ اپنے نیزوں کی نوک پر اس کو روک لیں گے۔ شہنشاہ سجمنڈ نے اپنی مملکت سے جس قدر فوج ممکن تھی اس نے جمع کی اور امیرِ ولاچیا کو بھی اس صلیبی اتحاد میں شریک ہونے پر آمادہ کیا ۔حالانکہ تھوڑے ہی دنوں پہلے ولاچیا اور سلطنت عثمانیہ میں صلح ہو چکی تھی۔
ہینگری کے بادشاہ سجمنڈ نے یہاں بلغاریہ پر حملہ کرنے سے پہلے ایک منصوبہ بنایا وہ منصوبہ یہ تھا۔ کہ اگر ولاچیا پر قبضہ کر لیا جائے تو اسے ایک تو عثمانیوں کے خلاف کھل کر جنگ لڑنے میں مدد ملے گی اور دوسرا اس کا عقب محفوظ ہو جائے گا ۔جبکہ تیسری اہم وجہ یہ بھی تھی کہ صلیبی لشکر کو ولاچیا کی جانب سے رسد اور کُمک بھی ملتی رہے گی ۔صلیبیوں نے ممکنہ طور پر جنوب کی طرف بڑھنے اور قسطنطنیہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔جنوب کی طرف بڑھنے والے اہم سرحدی دستے کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹا صلیبی دستہ ولاچیا کے سابق شہنشاہ میرچااول کی کمان میں شہنشاہ سجمنڈ نے ولاچیا کو فتح کرنے کے لیے روانہ کیا ۔کیونکہ اس علاقے پر قبضہ کرنے سے سیجمنڈ کو ڈینیوب کے شمالی کناروں پر مکمل کنٹرول مل جاتا جو آنے والے دنوں میں عثمانیوں کے زیر کنٹرول بلغاریہ پر حملے کے لیے اہم کردار ادا کرتا۔
اس دوران جبکہ یورپ میں صلیبی لشکر عثمانی سرحد کے بالکل قریب تھا،تو ادھر ایجن سی میں جینوا، وینس اور نائٹس ہاسپٹلز کی طرف سے ان کے متحدہ صلیبی بحری بیڑے نے بحیر ایجین میں اپنی بحری کاروائیاں شروع کر دی تھیں۔ جس کے نتیجے میں یہاں ایجین سی میں عثمانی جہازوں کو کافی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ صلیبی بحری بیڑے نے باسفورس اور ڈارڈینلز کو بھی صلیبی بحریہ سے بند کر دیا۔ یہاں سے صلیبی بحری بیڑا قسطنطینیہ کی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے اس نے اہلِ قسطنطنیہ کو رسد پہنچائی اور یہاں سے یہ بحری بیڑا بحیر اسود سے ہوتا ہوا دریائے ڈینیوب میں چلا گیا۔ تاکہ مرکزی صلیبی فوج کے ساتھ وہ مل سکے۔
ادھر مغرب میں شاہ سجمنڈ کے ماتحت مرکزی صلیبی فوج ساحلی قصبے" اورشوا" سے ہوتی ہوئی بایزید کی ایک باج گزار ریاست وڈن میں داخل ہوئی ۔صلیبی لشکر کو دریائے ڈینیوب عبور کیے ہوئے آٹھ دن ہو چکے تھے۔ یہاں آٹھ دن گزارنے کے بعد اس نے اپنے شہر کے دروازے صلیبی لشکر کے لیے کھول دیے۔ جس کے بعد صلیبی لشکر شہر میں داخل ہوا اور شہر میں موجود عثمانی سپاہ کا قتل عام کیا گیا اس خونی واقعے کے بعد صلیبی فوج کے ایک حصے نے بلغاریہ میں پیش قدمی جاری رکھی جبکہ مرکزی صلیبی فوج نے مقام علاقوں میں اپنی جنگی کاروائیاں شروع کر دیں ۔
ادھر ولاچیہ کے دارالحکومت ارگیز میں مرچا اول نے صلیبی فوج کی مدد سے ولیڈ اول کو شکست دیتے ہوئے اس نے ولاچیا پر دوبارہ قبضہ کر لیا جبکہ ولاد اول شکست کے بعد اپنے خاندان اور مختصر سی فوج کے ساتھ وہ سلطان بایزید کے پاس چلا گیا ۔اس کے بعد صلیبی لشکر کے اتحادی میرچا اول نے دریائے ڈینیوب تک کے علاقوں تک صلیبی لشکر کو رسائی دے دی تاہم ان ابتدائی فتوحات کے باوجود صلیبی فوج کے لیے یہ سب کچھ اتنا اہم نہیں تھا۔ جس کا وہ ارادہ کر کے یورپ سے نکلے
تھے۔
ورڈن کی فتح کے بعد شہنشاہ سجمنڈ کے صلیبی لشکر نے آنے والے دنوں میں یہاں کی دیہی علاقوں کو خوب لوٹا یہاں سے صلیبی لشکر کوچ کرتا ہوا دریائے ڈینیوب کے ساتھ ساتھ مغرب کی جانب بڑھا جہاں وہ اوریا ہووو کے مضبوط قلعہ بند قصبے میں جا پہنچے یہاں صلیبی لشکر کی تعداد کو دیکھتے ہوئے قصبے کی مسلمان آبادی نے یہ سوچا کہ اپنی جان کے بدلے عیسائیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دینا چاہیے۔ سو انہوں نے شہنشاہ سجمنڈ سے درخواست کی کہ ان کی جان کے بدلے وہ عیسائیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہیں اس شرط کی بنا پر شہنشاہ ہنگری نے مسلمانوں کی یہ پیشکش قبول کر لی۔ تاہم مسلمانوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد صلیبی فوج کے فرانسیسی دستے نے اس کی شدید ترین مخالفت کی اور اس نے امن کی شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے مقامی عثمانی فوج ،مشرقی ارتھوڈاکس عیسائیوں اور مسلمانوں سمیت ان تینوں کو قتل کر دیا گیا۔
یہاں سے صلیبی فوج نائیکوپولس کے مضبوط ترین قلعے کے پاس جا پہنچی ۔جہاں عثمانی فوج کی قیادت طاقتور ترین عثمانی کمانڈر دوگان بے کے پاس تھی۔ یہ قلعہ ایک بلند ترین مقام پر بنایا گیا تھا جو کہ ڈینیوب کے بالکل کنارے پر تھا اور عثمانیوں کے لیے ولاچیا جانے کے لیے یہ ایک اہم ترین مقام تھا۔یوں صلیبی فوج نے ستمبر 1396 عیسوی کے شروع کے ہفتوں کے دوران نیکو پولیس کے مضبوط ترین قلعے کا محاصرہ شروع کر دیا۔
صلیبی فوج نے جان کی امان کے بدلے عثمانی فوج کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی لیکن اب کی بار عثمانی سمجھ چکے تھے کیونکہ انہوں نے ورڈن اور اوریا ہوو کے قصبوں میں ترک سپاہ اور مسلمانوں کے قتل کی خبریں سن چکے تھے یہ دیکھتے ہوئے کہ نیکوپولس کا عثمانی دستہ ہتھیار نہیں ڈالے گا صلیبی فوج نے اگلے چند دنوں میں محاصرے میں مزید تیزی کر دی اور اس نے بارودی سرنگیں بھی بچھائیں۔ جبکہ ولاچیا کی جانب سے رسد اور فوجی کمک صلیبی بیڑے کے ذریعے دریائے ڈینیوب تک پہنچنا شروع ہو گئی۔
اس دوران جبکہ صلیبی لشکر عثمانی سرحد میں داخل ہو چکا تھا اس وقت سلطان بایزید قسطنطنیہ کی ناکہ بندی کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے تھے ۔سلطان نے جب نائیکوپولس کے قلعے کے محاصرے کی خبر سنی تو اب وہ خود براہ راست صلیبی فوج کے مقابلے کے لیے قسطنطنیہ سے نکلے اور انہوں نے ایک تو اپنی فوج کو جمع ہونے کا حکم دیا جبکہ بلکان میں اپنے اتحادی سٹیفن لازار کو اپنی فوج کے ساتھ پلودیو میں بلایا۔ سلطان کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ اپنی فوج کو جمع کرنے کے بعد بلکان کے پہاڑوں کے پیچھے صلیبی لشکر کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔
یہاں ابتدائی تیاریوں کے بعد سلطان بایزید نے ستمبر کے شروع میں قسطنطنیہ کی ناکہ بندی جاری رکھنے کے لیے اس نے ایک چھوٹی سی فوج یہاں چھوڑی ۔جبکہ خود سلطان 20 ہزار کی مضبوط عثمانی فوج کے ساتھ سجمنڈ کی افواج کے مقابلے کے لیے وہ شمال کی جانب روانہ ہوئے ۔یہاں اگر سلطان با یزید کی بات کی جائے تو انہیں فوج کو جمع کرنے کے لیے چھ ہفتے جبکہ ادرنے سے دریائے ڈینیوب تک کا سفر کرنے میں انہیں مزید تین ہفتے لگنے تھے ۔لیکن یہ سلطان بایزید یلدرم تھے جنہیں بجلی کے لقب سے جانا چاہتا تھا سو سلطان نے برق رفتاری کے ساتھ اپنے تھنڈر بولڈ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے انہوں نے نو ہفتوں کا سفر صرف دو ہفتوں میں طے کیا اور جب سلطان صلیبی لشکر کے سامنے پہنچے تو صلیبیوں کے اوساں خطا ہو گئے چونکہ وہ سلطان بایزید یلدرم کے یوں اس قدر جلدی آ جانے کی بالکل بھی توقع نہیں کر رہے تھے۔
24ستمبر کو عثمانی سلطان نے نیکوپولس سے کچھ کلومیٹر دور جنوب میں اپنا جنگی کیمپ نصب کیا یہاں پہنچنے کے بعد عثمانی روایات کے مطابق سلطان بایزید اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر نیکو پولس کے قلعے کے باہر پہنچے اور انہوں نے قلعے کی دیوار پر کھڑے عثمانی کمانڈر دوگان بے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان سے وعدہ کیا کہ اگلے دو دنوں کے اندر اندر صلیبی فوج کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔
یہاں عثمانی لشکر کے پہنچنے کے بعد ودین اور یاہوو کے ہزاروں بے گناہ مسلمان قیدیوں کو صلیبی کیمپ کے اندر پھانسی دے دی گئی۔
اب صلیبی لشکر دونوں طرف سے گر چکا تھا ایک طرف تو بایزید یلدرم کی طاقتور ترین فوج تھی جبکہ ان کے سامنے نیکو پولس کا مضبوط ترین قلعہ تھا جہاں پر عثمانی فوج موجود تھی۔ یوں 24 ستمبر کی شام کو صلیبی فوج نے ایک جنگی کونسل بلائی تاکہ اگلے دن عثمانیوں کا مقابلہ کس طرح کیا جائے تاہم یہاں ہنگری کے بادشاہ نے جو کہ عثمانیوں کے ساتھ جنگ لڑنے کا تجربہ رکھتا تھا اس نے مشورہ دیا کہ ہر اول دستے کے طور پر ٹرانسلوینا کے میرچہ اول اپنی فوج کے ساتھ سب سے آگے ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے چند سال پہلے سلطان بایزید یلدرم کو دو بار شکست دی تھی اوروہ عثمانیوں کے ساتھ جنگ لڑنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے پیچھے یورپ کے اتحادی دستے ہوں گے جبکہ سب سے آخر پر ہینگری کی باقاعدہ فوج ہوگی۔
ہینگری کے شہنشاہ سجمنڈ کا یہ مشورہ تو فوجی نقطہ نظر سے بالکل صحیح تھا لیکن یہاں صلیبی کیمپ کے اندر اندرونی تقسیم کی وجہ سے سجمنڈ کی جنگی حکمت عملی کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ۔یورپ کے فرانسیسی کمانڈروں نے سجمنڈ کے اس منصوبے کو بالکل بھی پسند نہ کیا وہ ہنگیرین کو کسان سمجھتے تھے فرانس کے فلپ آف ارٹویز نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہینگری کا بادشاہ اس جنگ میں اپنی عزت اور شان و شوکت کے لیے ہمیں جنگ سے دور رکھنا چاہ رہا ہے ۔تاکہ وہ ہراول دستے کے طور پر جنگ میں فتح حاصل کر کے سارا کریڈٹ خود لے جائے ۔یوں صلیبی کیمپ میں کئی گھنٹوں کی چیخ و پکار کے بعد یہ طے پایا کہ فرانس کے نائیٹس ہی اس جنگ کی قیادت کریں گے۔
23ذیقعد 798 ہجری بمطابق 24 ستمبر 1396 عیسوی کی صبح کو عثمانی اور صلیبی فوجیں جنگ کے لیے تیار کھڑی تھیں۔ صلیبی لشکر کے ہر اول دستے کے طور پر یورپ کے اتحادی دستے تھے جو کہ فرانسیسی تھے اس کے پیچھے صلیبی پیدل نائیٹس تھے جبکہ سب سے آخر پر ہنگری کے گھڑ سوار دستے تھے۔ صلیبی لشکر کے بائیں جانب میرچا اول کی پیدل فوج تھی ۔جبکہ صلیبی فوج کے دائیں جانب اسٹیفن لاکفی کی قیادت میں ٹرانسلوینیائی دستے موجود تھے۔ جبکہ نیکو پولس کا محاصرہ جاری رکھنے کے لیے نیکو پولیس قلعے کے باہر ایک چھوٹا صلیبی دستہ بھی موجود تھا۔
صلیبی فوج کے برعکس عثمانی فوج اپنی کمان کے ڈھانچے میں کہیں زیادہ مرکزیت رکھتی تھی اور یہ مضبوط بھی تھی عثمانی فوج کے ہراول دستے کے طور پر عثمانی اکنجی ہلکے گھڑ سوار دستے موجود تھے۔ جنہیں ازاب کہا جاتا تھا۔ ان کے پیچھے سلطان بایزید کی ذاتی فوج کاپیکولوکھڑی تھی اور انکے ساتھ ینی چڑی دستے بھی موجود تھے۔ ان کی قیادت خود سلطان بایزید اور ان کے وزیر جاندار لی زادہ علی پاشاہ کر رہے تھے۔ دری اثنا عثمانی فوج کے دائیں بازو پر تیمورلی سپاہی موجود تھے جن کی قیادت سلطان کے بڑے بیٹے سلیمان چیلیبی کر رہے تھے۔ عثمانی فوج کے بائیں بازو پر اناطولیہ کے بھاری گھڑ سوار دستے موجود تھے جن کی قیادت کارا تیمور تاش پاشا کر رہے تھے ۔جبکہ آخر میں اسٹیفن لازار کے سربیائی نائٹس تھے جن کی قیادت ان کے شہزادے اسٹیفن لازار یو کے پاس تھی۔
جنگ شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے شہنشاہ سجمنڈ نے احتیاطی طور پر ایک عیسائی دستہ نیکو پولس کے جنوب میں عثمانیوں کی پوزیشن کا پتہ لگانے کے لیے بھیجا تاکہ ان کیمپس کو تلاش کیا جا سکے جنہیں بایزید نے صلیبیوں سے چھپا رکھا تھا اس صورتحال کی وجہ سے جنگ مزید دو گھنٹے کے لیے مخر ہو گئی جس سے فوج کا ہرول دستہ جو کہ فرانسیسی تھا اس میں شدید ناراضگی پیدا ہو گئی اور یہ انتظار ان کے لیے موت سے بھی زیادہ بدتر تھا یہاں صلیبی فوج کے ہر اول دستے نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے کمانڈر فلپ اف ا ٹویز نے اپنی تلوار کو ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ خدا اور سینٹ جارج کے نام پر آگے بڑھو تم لوگ آج مجھے ایک بہادر نائٹ کی طرح لڑتے ہوئے دیکھو گے اور اس نے حملے کا حکم دے
دیا ۔
ہینگری کا بادشاہ سجمنڈ عثمانیوں کے اصول جنگ سے بخوبی واقف تھا وہ جانتا تھا کہ سب سے آگے بے قاعدہ اور غیر مرتب دستےہوتے ہیں جو دشمن کے پہلے حملے کا زور توڑنے کے لیے اگے رکھے جاتے ہیں اصلی اور باقاعدہ فوج ان کے پیچھے ہوتی ہے اسی بنا پر اس نے فرانسیسی فوج کو مشورہ دیا کہ ان بے قاعدہ سواروں پر حملہ کر کے اپنی قوت کو ضائع نہ کریں بعض فرانسیسی کمانڈروں نے اس رائے سے اتفاق کیا لیکن دوسروں نے اس بدگمانی کی بنا پر کہ سجمنڈ پہلے خود حملہ کرنا چاہتا ہے یہ گوارا نہیں کیا کہ فرانسیسی دستے ہینگری کی فوج سے پیچھے رہیں اور انہوں نے اس مشورے کی مخالفت کی۔ سجمنڈ نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر انہوں نے اس کی ایک نہ سنی اور پوری قوت کے ساتھ وہ ترکوں کے مقدمۃ الجیش پر ٹوٹ پڑے اور وہ اس ابتدائی فتح کے نشے میں سرشار اتنی دور نکل گئے کہ باقی ماندہ اتحادی فوج سے ان کا تعلق تقریبا منقطع ہو گیا۔
ادھر عثمانی فوج کے آگے ایک خار دار جنگلا لگا ہوا تھا اور اس کی پیچھے پیدل عثمانی سپاہی کھڑے تھے جن کے پاس کلہاڑی کمان اور نیزے تھے انہوں نے فرانسیسی نائٹس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن وہ فرانسیسی گھڑ سواروں کا زیادہ دیر مقابلہ نہ کر سکے اور دو دستے دیکھتے ہی دیکھتے فرانسیسیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے اس پر سلطان بایزید نے برق رفتاری کے ساتھ اپنے بھاری گھڑ سوار دستوں کو فرانسیسیوں کے مقابلے کے لیے روانہ کیا جب کہ اس کے علاوه اس نے اپنی چنی چری دستوں کو بھی اس حملے میں شامل کیا تاکہ وہ مضبوطی کے ساتھ فرانسیسیوں کا مقابلہ کر سکیں اس دوران جبکہ فرانسیسی عثمانیوں کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے صلیبی فوج کا مرکزی لشکر بھی عثمانیوں کے مقابلے کے لیے میدان میں کود پڑا
یہاں دو طرفہ محاذ کا مقابلہ کرنے کے لیے سلطان بایزید نے اپنی بہترین جنگی چال چلی سلطان نے اپنی باقی ماندہ تیمورلی سپاہی گھڑ سوار اور اپنے اکنجی سپاہیوں کو مرکزی لشکر کے مقابلے کے لیے روانہ کیا اور یوں سجمنٹ کو ایک بہترین دفاعی لائن کا سامنا کرنا پڑا اور صلیبیوں کو دو محاذوں پر جنگ لڑنا پڑی۔ اس دوران سلطان نے ایک اور بہترین جنگی چال چلتے ہوئے انہوں نے اپنے کیپکولو سپاہی گھڑسواروں کو فرانسیسیوں پر حملے کے لیے روانہ کیا جس نے فرانسیسی نائٹس کے عقب پر اچانک حملہ کر دیا جس سے فرانسیسیوں کا بھاری نقصان ہوا کیونکہ وہ اب بایزید کے بہترین دستوں کے دونوں اعتراف سے گھرچکےتھے۔
ادھر شہنشاہ سجمنڈ عثمانی لشکر کے ساتھ اپنی پوری طاقت کے ساتھ ٹکرایا اور اس کا یہ حملہ شدید تر تھا لیکن اس کے باوجود عثمان اپنی جگہ پر ڈٹے رہے اور انہوں نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا شاہ سجمنٹ کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح عثمانی صفوں کو چیرتا ہوا اپنے فرانسیسی دستوں کے پاس پہنچ جائے لیکن عثمانی ترک بھی اپنی جگہ پر قائم رہے اور انہوں نے سجمنڈ کی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اس دوران فرانسیسی فوج جو کہ صبح کی عثمانیوں کے ساتھ جنگ لڑ رہی تھی اب سورج کی تپش نے اس کا برا حال کر دیا تھا اور اس دن کے آخر میں جب شام شروع ہوئی تو فوج میں ایک خوف و حراس پھیلنے لگا شاید اس وجہ سے کہ دن گزر چکا تھا اور میدانِ جنگ ان کے ہاتھ سے نکل رہا تھا۔
اس دوران سجمنڈ کے دو اتحادیوں ولاچین اور ٹرانسلوینین دونوں نے میدان جنگ سے اپنے دستوں کے ساتھ پسپائی اختیار کی یہ صورتحال دیکھتے ہوئے فرانس کے نائٹس جو بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ عثمانیوں کو ختم کرنے کے لیے بے صبری کے ساتھ میدانِ جنگ میں اترے تھے ان کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے عثمانیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اس دوران جبکہ نیکو پولیس کی جنگ اپنے عروج پر تھی سلطان نے اپنے اتحادی سٹیفن کو حکم دیا کہ وہ ہنگری کی فوج پر حملہ کرے جس کے بعد اسٹیفن اپنے گھڑسوار نائیٹس کے ساتھ ہینگری کی فوج پر ٹوٹ پڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں ہینگیرین سپاہی سروی فوجوں کے ہاتھوں مارے گئے۔صلیبی فوج اپنی شکست کی وجہ سے خوف و حراس میں مبتلا تھی بہت سے صلیبی جنگجو ڈینیوپ کے گہرے پانیوں میں ڈوب گئے جبکہ ہینگری کا بادشاہ بڑی مشکل سے جان بچا کر زندہ بچ نکلا کیونکہ اس نے اپنے ذاتی محافظوں کے ذریعے مقامی ماہی گیروں سے جہاز چھین کر اس میں سوار ہو کر وہ واپس ہینگری چلا گیا یوں نیکو پولیس کی جنگ کا اختتام عثمانیوں کی فتح پر ہوا
نیکو پولیس کی جنگ میں فتح کے بعد سلطان بایزید نے میدان جنگ کا معائنہ کیا اس وقت اسے مقتول ترکوں کی تعداد کا اندازہ ہوا نیز جب سلطان بایزید کو یہ معلوم ہوا کہ جنگ کی ابتدا سے پہلے جن ترکوں نے مغلوب ہو کر جان بخشی کے وعدے پر ہتھیار ڈال دیے تھے انہیں بھی عیسائیوں نے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا تھا اس پر سلطان کا غصہ اور بھی زیادہ ہو گیا اور سلطان نے ارادہ کر لیا کہ ان کے خون کا بدلہ عیسائی قیدیوں سے لے کر رہے گا۔ چنانچہ دوسرے روز صبح کو سلطان نے تمام عیسائی قیدیوں کو جن کی تعداد 10 ہزار تھی اپنے سامنے کھڑا کر کے ان کے قتل کا حکم دیا۔ قیدیوں میں کانٹ ڈی نیورس
بھی تھا سلطان با یزید نے اسے قتل سے مستشنیٰ کرار دیتے ہوئےاسے اجازت دی کہ قیدیوں میں سے 24 عیسائی شرفا کو منتخب کر لے اور ان سب کی بھی جان بخشی کر دی اس کے بعد قتل شروع ہوا جو چار بجے شام تک جاری رہا جب ہزاروں قتل ہو چکے تو امرائے سلطنت کی درخواست پر بایزید نے جلادوں کو ہاتھ روکنے کا حکم دیا اور جو قیدی بچ گئےان میں سے ایک خمس سلطان کا حصہ علیحدہ کرنے کے بعد بقیہ ان مسلمان سپاہیوں کو تقسیم کر دیے جنہوں نے ان کو جنگ میں گرفتار کیا تھا کانٹ ڈی نیورس اور اس کے 24 ساتھی ایک سال تک زیر حراست رہے لیکن بایزید نے ان کی حیثیت کے مطابق انہیں عزت و احترام کے ساتھ رکھا اور جب ان کا ذر فدیہ فرانس سے آگیا تو انہیں وطن جانے کی اجازت دے دی رخصت کے وقت جب یہ لوگ بایزید کے لطف و عنایت اور حسن سلوک کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اس کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے جان کانٹ ڈی نیورس کو مخاطب کر کے تاریخی الفاظ کہے
کہ جان مجھے خوب معلوم ہے کہ تو اپنے ملک میں ایک بڑا سردار اور ایک طاقتور ترین رئیس کا لڑکا ہے تو نوجوان ہے اور ابھی تیرے لیے امید کے بہت سے سال باقی ہیں ممکن ہے کہ میدان جنگ میں تیری پہلی کوشش کی ناکامی پر لوگ تجھے قابل الزام ٹھہرائیں اور تو اس شکست کو ختم کرنے اور اپنی شہرت کو دوبارہ حاصل کرنے کی غرض سے ایک طاقتور فوج اکٹھی کر کے میرے مقابلے میں جنگ کے لیے آئے اگر میں تجھ سے ڈرتا تو تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے تیرے ایمان اور عزت پر حلف لے لیتا کہ نہ تو اور نہ وہ کبھی میرے مقابلے میں ہتھیار اٹھائیں گے۔ لیکن نہیں میں ایسے حلف کا مطالبہ نہ کروں گا ،اور برخلاف اس کے میں خوش ہوں گا اگر تو اپنے ملک میں واپس پہنچ کر ایک اورفوج جمع کرے اور اسے لے کر یہاں آئے تو مجھے ہمیشہ میدان جنگ میں اپنے مقابلے کے لیے تیار پائے گا جو بات میں اس وقت کہہ رہا ہوں اسے تو جس شخص سے بھی چاہے نقل کر دینا کیونکہ میں ہمیشہ جنگی کارناموں نیز اپنے فتوحات کی توسیع کے لیے تیار اور خواہش مند رہتا
ہوں۔
نائیکو پولیس کی فتح کے بعد آنے والے اگلے چند سالوں میں سلطان بایزید نے بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ پر اپنی ناکہ بندی مزید بڑھا دی کیونکہ اب یورپ کی طرف سے کوئی خطرہ نہ تھا کہ کوئی عیسائی یا پھر صلیبی لشکر قسطنطنیہ کی مدد کے لیے آئے گا۔
History In Urdu