Sultan Bayezid I – Part 3

بنو جاندار قبیلے کی فتح کے بعد اب اناطولیہ امن و امان قائم ہو چکا تھا۔ جبکہ 1394 عیسوی کے آخر میں سلطان بایزید یلدم نے قسطنطنیه کی ناکہ بندی بھی کر دی تھی، اس دوران سلطان بایزید نے کچھ ایسے اقدامات اٹھائے جس کی وجہ سے ان کے خلاف صلیبی اتحاد قائم ہوا ۔آٹومن ایمپائیر کی آج کی اس ویڈیو میں ہم سلطان بایزید یلد رم کی ولاجیا کے ساتھ ہونے والی جنگوں کا جائزہ لیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم ہینگری کے بادشاہ "سجمنڈ" کے بارے میں بھی جانیں گے جس نے سلطان با یزید یلدرم کو ٹف ٹائم دیتے ہوئے عثمانیوں کو یورپ سے نکالنے کے لیے اس نے یورپ کی تمام سلطنتوں کو خطوط لکھے اور انہیں صلیبی جنگ کے لیے آماده کیا۔

جب سلطان بایزید یلدرم نے 1394 عیسوی میں "قسطنطنیه" کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔ تو اس دوران ہینگری کا بادشاہ "سجمنڈ" "قسطنطنیه" کو بچانے کے لیے اس نے ایک صلیبی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی جس کے لیے اس نے یورپ کے مختلف بادشاہوں کو خطوط لکھے اور پوپ کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ عثمانیوں کے خلاف ایک صلیبی جنگ کا آغاز کرے ۔جلد اس صلیبی اتحاد کی خبر عثمانی دارالحکومت "ادرنے" تک پہنچ گئی ۔سلطان بایزید نے اس محاصرے کے دوران بلقان میں عثمانی قلعوں کی تعمیر جاری رکھی۔ جبکہ اس دوران اناطولیہ سے بھی نئے ترک فوجیوں کی بھرتی تیزی کے ساتھ جاری تھی۔ ان تیاریوں کے باوجود بھی سلطان بایزید یلد رم غفلت میں بیٹھے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی وہ اس انتظار میں تھے کہ صلیبی لشکر ان کے دروازے پر دستک دے وہ دشمن کی تلوار نکالنے سے پہلے ہی اپنی تلوار سے اس کا سر قلم کر

دینا چاہتے تھے۔

جب سلطان بایزید تخت نشین ہوئے تو تخت نشین ہونے کے صرف پانچ سال کے اندر اندر سلطان با یزید یلدم نے وہ فتوحات حاصل کر لی تھیں، جو ان سے پہلے کسی بھی عثمانی سلطان کو نصیب نہیں ہوئی تھی۔ تقریباً تمام اناطولیہ فتح ہو چکا تھا بلقان میں تمام دشمنوں کو زیر کر دیا گیا تھا اور اب قسطنطنیہ کا محاصرہ برابر جاری تھا اور اس حوالے سے سلطان بایزید یلدرم پہلے عثمانی سلطان تھے جنہوں نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تھا۔

سو اس لیے سلطان بایزید یلدرم نے یوں بیکار رہنے کے بجائے آنے والے صلیبی لشکر کے مقابلے کے لیے اپنی جنگی تیاریاں شروع کر دی تھیں، اس کے لیے سب سے پہلے انہوں نے اپنے شمالی سرحدوں کو صلیبی حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے سطان نے 1394 عیسوی کے موسم خزاں میں ولاچیا کے خلاف ایک فوجی مہم شروع کی سلطان کا مقصد دریائے ڈینیو پر کنٹرول حاصل کرنا تھا

سو 1394 عیسوی کے برساتی موسم میں سلطان بایزید نیکو پولیس کے قریب سے انہوں نے دریائے ڈینیوب کو عبور کیا اور عثمانی فوج نے ولاچیا کے دارالخلافہ ارگس پر قبضہ کرنے کے لیے شمال کا راستہ اختیار کیا۔ عثمانی سلطان بایزید کا خیال تھا کہ اس برساتی موسم میں ولاچیا کے بادشاہ مرچہ اول کے پاس عثمان سلطان کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ لیکن سلطان کے ابتدائی حملوں کے جواب میں ولاچیہ کے بادشاہ کی طرف سے کوئی بھی جواب نہ ایا ۔

لیکن جب سلطان بایزید نے جنگلی علاقوں کے اندرونی حصوں میں مارچ شروع کیا تو اس وقت انہیں مقامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سلطان بایزید یہ تو جانتے تھے کہ عثمانی فوج کے خلاف مقابلے کے لیے نہ تو ولاچیا کے پاس وسائل ہیں اور نہ ہی اتنی زیادہ فوجی طاقت ہے ۔ یہ بات تھی تو درست لیکن ولاچیہ کے بادشاہ نے یہاں میدان میں عثمانیوں کے خلاف لڑنے کی بجائے اس نے سلطان بایزید کے خلاف گوریلا کاروائیوں کا آغاز کیا اور یوں جنگل میں پورے ایک ہفتے تک اس نے عثمانی حملہ آوروں کو ہٹن رن ٹیکنیک کے مطابق اس نے عثمانی فوج کو ہراساں کیا۔ یوں ابتدائی بھاری نقصان اٹھانے کے بعد سلطان بایزید نے عثمانی فوج کو دریائے ارگیز کے قریب اپنا فوجی کیمپ بنانے کا حکم دیا۔

ولاجیا کے بادشاہ نے صرف گوریلا وار پر اکتفا نہ کیا، بلکہ اس نے 10 اکتوبر 1394 عیسوی کی رات کو جب عثمانی سپاہی گہری نیند سوئے ہوئے تھے تو اس نے اچانک گھات لگا کر حملہ کر دیا ۔ دشمن کا یہ حملہ بالکل غیر متوقع اور ناقابل یقین تھا۔ سلطان بایزید خود بھی مرچہ کے اس حملے سے بے حد حیران ہوئے۔ ولاچین فوج کے اس اچانک حملے سے عثمانی بوکھلا اٹھے اور کئی بار خود عثمانی سلطان بایزید کی جان کو سخت ترین خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ کیونکہ ساری رات عثمانیوں اور ولاجیوں کے درمیان جنگ ہوتی رہی اور اگلے دن کی صبح کو جب سلطان نے دیکھا کہ عثمانی فوج ایک نازک ترین صورتحال میں ہے اور ہزاروں عثمانی سپاہی اس حملے میں مارے جا چکے ہیں تو سلطان بایزید اپنی فوج کو جمع ہونے کا حکم دیا اور شکست کے بعد انہوں نے دریائے ڈینیوب کو عبور کیا اور وہ واپس عثمانی علاقوں میں چلے ائے۔ یہاں پہلی بار سلطان بایزید یلدرم جنہیں دا تھنڈر بولٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کو جنگ میں شکست ہوئی تھی

اس ابتدائی شکست کے باوجود سلطان بایزید نے 1395 عیسوی کے موسم بہار کے دوران انہوں نے ولاچیا پر دوبارہ حملے کی تیاری شروع کر دی اس دوران ولاچیا کے بادشاہ میر چا نے آنے والی صلیبی جنگ کے لیے اس نے ہینگری کے بادشاہ سجمنڈ کے ساتھ باضابطہ طور پر اتحاد کرنے کے لیے اس نے ٹرانسلوینیا کا سفر کیا تھا اس بار سلطان بایزید نے ولاچیہ پر حملے کے لیے بلقان میں موجود عیسائی باج گزاروں کو اپنی فوجوں کے ساتھ "تارنوا" میں جمع ہونے کا حکم دیا اور سوائے سربیہ کے رئیس" وک برینکو وچ" کے تمام نے عثمانی سلطان کے حکم پر اپنے فوجی دستوں کے ساتھ سلطان با یزید کے پاس جمع ہو گئے۔ وہ برینکو ویچ نے کھلم کھلا سلطان بایزید کے حکم کی نافرمانی کی تھی اور اس نے بایزید کو فوج بھیجنے سے صاف صاف انکار کر دیا تھا تاہم عثمانی سلطان نے اس وقت اس کے خلاف تو کوئی اقدام نہ اٹھایا اور وہ اپنی جنگی مصروفیات میں مصروف رہے۔

اس بار عثمانی سلطان بایزید نے ولاچیا پر حملے کے لیے مغرب سے اپنے ایک باج گزار ملک وڈن کے ذریعے سے حملہ کیا اس پیش قدمی کے دوران ایک بار پھر ولاچیا کی فوج نے گوریلا وار شروع کی ۔جب عثمانی فوج ولاچیہ کے دارالحکومت "آرگیز" کی جانب مارچ کر رہی تھی۔ لیکن شاید اس بار گوریلا مہم کے اثرات پہلے کی طرح نہ تھے کیونکہ اب کی بار عثمانی اور ولاجین فوجوں نے آمنے سامنے ہونا تھا اور اس کے لیے ولاچیہ کے بادشاہ میرچا نے ایک زبردست فوج تیار کی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے ولاجیا کے تمام علاقوں کے افراد کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار جمع کریں اور مسلمان حملہ آوروں سے اپنے وطن کا دفاع کرنے کے لیے اس عظیم مقصد میں شامل ہو جائیں۔ دشمن نے بہت سی بستیوں کو خود تباہ کر دیا اور انہوں نے اپنی فصلیں جو کہ عثمانی فوج کے لیے استعمال ہو سکتی تھی انہیں جلا دیا ۔جب عثمانی فوج نے شمال کی جانب اپنا راستہ اختیار کیا تو سلطان نے راستے میں بہت سی قلعوں کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ ولاچیا کے دارالحکومت کے قریب ایک میدان میں میرچا اول کے سامنے نمودار ہوئے ۔لیکن اب کی بار بھی ولاچین بادشاہ میرچاہ نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ عثمانی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس نے اپنے دارالحکومت کے جنوب میں دلدلی علاقوں میں اپنی فوج کو تعینات کر دیا تھا۔

جیسے ہی سلطان بایزید نے اپنی فوج کو میدان جنگ میں تعینات کیا تو سلطان کو اندازہ ہوا کہ یہ میدان عثمانیوں کے لیے کس قدر خطرناک ہے کیونکہ دلدلی علاقہ ہونے کی وجہ سے سلطان کے گھڑسوار دستے یہاں بالکل بیکار تھے ۔ لیکن اب عثمانی فوجیں میدان جنگ میں ایک آخری معرکے کے لیے موجود تھی۔ سلطان بایزید نے اپنے مرکزی پیدل دستے کو حملے کا حکم دیا اور ایک گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی اور تقریباً یہ جنگ ایک ہفتے تک جاری رہی ۔عثمانیوں کی سر توڑ کوشش کے باوجود وہ ولاچیا کے چند پیدل دسوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہ کر سکے بلکہ اس دوران عثمانی ولاچیہ کے تیروں کا نشانہ بنتے ہوئے بے شمار عثمان سپاہی میدان جنگ میں شہید ہو گئے ۔ جبکہ ایک موقع پر تو مزاحمت کرتے ہوئے دو پیادہ دستے موقع پر ہی شہید ہو گئے یہ صورتحال دیکھتے ہوئے سلطان نے اپنے اتحادیوں کو بھی جنگ میں اترنے کا حکم دیا اور عیسای اتحادیوں نے سلطان کی طرف سے دشمن پر حملہ کر دیا۔3عدچ لیکن میدان پورے کا پورا ولاچین فوج کے حق میں تھا کیونکہ ولاچین فوجوں نے اپنے بادشاہ کے حکم پر عثمانیوں کے لشکر کے مقابلے کے لیے اپنے علاقوں میں خندقیں کھودنا شروع کر دی تھیں۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عثمانیوں کی مشکلات بڑھتی جا رہی تھی اور یوں عثمانی فوج کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئ، کیونکہ عثمانی لاشیں روائن کے دلدلی علاقوں میں چاروں اطراف بکھری ہوئی تھی جبکہ اس سے بھی عجیب بات یہ ہوئی کہ اس دوران سلطان بایزید کے یورپین جاگیردار جو کہ سلطان کے حکم پر اس جنگ میں ائے تھے ان میں سے دو ولاچین فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ یوں اب سلطان بایزید نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس دلدلی علاقے میں دشمن کے ساتھ لڑنا بے وقوفی اور ہے سود ہے۔ اس لیے مزید نقصانات سے بچنے کے لیے سلطان نے میدان جنگ سے پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اور یوں ایک بار پھر ولاچیہ کی خلاف سلطان بایزید کی مہم ترک کر دی گئی یوروائن کی جنگ میں عثمانیوں کو بری طرح شکست ہوئی ،جبکہ ولاچین بادشاہ مرچا اول کو ایک شاندار فتح حاصل ہوئی تھی۔

تاہم روائن کی جنگ میں شکست کے بعد عثمانیوں کے لیے سب کچھ ختم نہیں ہو گیا تھا. جنگ کے بعد کے مہینوں میں ولاچین بادشاہ میرچا اول کی مقبولیت تیزی کے ساتھ کم ہوتی چلی گئی ۔ کیونکہ عثمانیوں کے خلاف اس کی طویل جدوجہد نے ملکی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا تھا اور عوام اس کے خلاف کھڑی ہو گئی اس دوران اس کے ایک درباری حریف ولیڈاول نے اسے معزول کر دیا جبکہ میرچا اول ہینگری میں سجمنڈ کے پاس چلا گیا۔

ادھر ولاچیا کے نئے حکمران ولیڈ اول نے سلطان با یزید کی اطاعت کو قبول کرتے ہوئے اس نے ولاچیا کو صلیبی اتحاد سے الگ کرتے ہوئے سالانہ خراج سلطان بایزید کو دینا شروع کر دیا۔ اگرچہ میدان جنگ میں سلطان بایزید ناکام رہے لیکن سفارت کاری کے ذریعے انہوں نے ولاچیا کو سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا تھا اس بہترین حکمت عملی سے سلطان نے نہ صرف ولاچیہ کو اپنی سلطنت میں شامل کیا بلکہ انہوں نے اپنی شمالی سرحد کو بھی محفوظ کر لیا تھا۔ اب عثمانی سلطان نے اپنی نظریں بلقان کی جانب پھیر لیں کیونکہ سلطان صلیبی جنگ سے پہلے اس خطے میں موجود اپنے تمام دشمنوں کو کچلنا چاہتے تھے۔

یوں دریائے ڈینیوب کو عبور کرنے کے بعد عثمانی فوجوں نے سلطان با یزید کے حکم پر "نیکو پولس" کے قلعے کا محاصرہ کر لیا تھا جو کہ ابھی تک زار ایوان شیشمان کے پاس تھا ۔سلطان مراد اول کے دور میں کئی عثمانی فوجوں نے اس قلعے کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے تاہم اب کی بار عثمانیوں کے پاس محاصرے کے لیے زیادہ وسائل تھے اور یوں کچھ ہی مزاحمت کے بعد نیکو پولس نے سلطان بایزید کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور یوں بلغاریہ کا یہ اہم ترین قلعہ عثمانی سلطنت میں شامل ہو گیا محاصرے کے فوراً بعد بلغاریہ کے زار ایوان شیشمان کو سلطان نے قید کر لیا اور پھر بعد میں اسے پھانسی دے دی گئی۔

ایوان شیشمان کی سلطنت کو ختم کرنے کے بعد عثمانی سلطان نے اپنے سربیہ کے علاقوں کی جنوب کی جانب پیش قدمی شروع کی کیونکہ روائن کی جنگ میں مارے جانے والے دو سربیائی حکمرانوں کی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے سلطان نے تو پہلے ان دونوں کی ریاستوں کو اپنی سلطنت میں شامل کیا اور اس کے بعد اب وہ ک برینکو وچ کی باری تھی جس نے روائن کی جنگ میں عثمانی سلطان کو فوج دینے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ وہ خود بھی سلطان کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ جلد برینکو ویچ کو شکست ہوئی اور اسے سلطان بایزید کے حکم پر پکڑ کر قید میں ڈال دیا گیا ۔ جبکہ اس کے علاقے کو بھی عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا گیا ۔یوں عثمانی قید خانے میں دو سال گزارنے کے بعد ووک برینکو ویچ قدرتی وجوہات کی بنا پر اس کی موت ہو گئی۔

یوں 1395 عیسوی کا سال سلطان بایزید یلدرم کے لیے کافی مہربان سال رہا اور صلیبی جنگ کے شروع ہونے سے تقریبا 12 ماہ پہلے عیسائیوں نے دیکھا کہ عثمان سلطان بایزید نے کس طرح بلقان میں اپنی طاقت کو مضبوط کیا اور یوں اب عثمانی سلطان ڈینیوب عبور کرنے والے بڑے شہروں ورڈن ،نیکوپولیس اور سلسٹریا کو کنٹرول کر رہے تھے ۔ولاچیا نے صلیبی اتحاد سے خود کوالگ کرتے ہوئے وہ عثمانی اتحادی بن چکا تھا۔

تاہم ان تمام فتوحات کے بعد اگلے سال یعنی کہ 1396 عیسوی کو سلطان بایزید کو اپنے سب سے بڑے دشمن کا سامنا کرنا تھا کیونکہ عثمانیوں کے یورپ میں بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لیے پورا یورپ عثمانیوں کے خلاف متحد ہو کر نکل پڑا تھا یہاں تک کہ ان عیسائیوں نے آپسی اختلافات کو بھلا کر عثمانیوں کو یورپ سے نکالنے کے لیے قسم کھائی ہوئی تھی اور یوں عثمانیوں اور صلیبیوں کے درمیان نائیکوپولس کا معرکہ پیش آیا۔ جس نے یورپین کی رہی سہی امید کو بھی پانی میں ملا دیا مائیکو پولیس کی جنگ کے بارے میں جاننے کے لیے اپ ہمارے چینل کو سبسکرائب ضرور کیجئے گا کیونکہ ہماری انے والی اگلی ویڈیو نائکو پولیس کی جنگ پر ہی مبنی ہوگی اپ ہماری ویڈیو کو لائک کریں شیئر کریں اور سبسکرائب کریں تاکہ ہم ایسے ہی اپ کے لیے دلچسپ اور معلوماتی ویڈیوز لے کر اتے رہیںجس نے عثمانیوں کے لئے یورپ کے مذٰد دروازے کھول دئے۔

Check Also

Osman I – Part 4

اناطولیہ میں موجود سلجوقی سلطنت کا پہلا الحکومت "ازنیک" شہر تھا۔ جو کہ پہلی صلیبی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms