اناطولیہ میں ترک ریاستوں کو فتح کرنے کے بعد سلطان بایزید یلدرم نے درے دانیال کو عبور کیا اور وہ "ادرنے" شہر چلے گئے۔ اس درمیان میں رومی شہنشاہ" جان پیلو لوگس "نے کوقسطنطنیہ کے تین گرجے مسمار کرا دیے تھے اور وہ ان کے سامان سے نئے قلعے تعمیر کرنا چاہتا تھا۔لیکن سلطان با یزید نے رومی شہنشاہ کو جبراً اس ارادے سے باز رکھا، لیکن چند ہی دنوں کے بعد جان کی موت ہو گئی اور اس کا لڑکا مینویل جو کچھ عرصے سے سلطان بایزید کے دربار میں موجودتھا، شہنشاہ کے انتقال کی خبر سن کر چپکے سے بھاگ کر قسطنطنیہ جا پہنچا اور اپنے باپ کا جانشین ہونے کے ناطے وہ شہنشاہ بن گیا ۔سلطان بایزید یلد رم کو یہ بات سخت ناگوار گزری اور اس نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا ،یوں سات ماہ تک محاصرہ جاری رہا ۔اس دوران جبکہ سلطان بایزید قسطنطنیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ انہیں اپنی یورپین سرحدوں سے تشویش ناک خبر ملی وہ خبر یہ تھی، کہ بلغاریہ میں "سجمنڈ شاہ ہینگری "نے عثمانی سرحد پر حملہ کر دیا تھا اور عیسا ئی فوجوں نے بے شمار دیہاتوں اور قصبوں کو تباہ و برباد کرتے ہوئے ،"زاگورا" کے قریب جا پہنچے ۔سلطان بایزید یلد رم کو جب یہ خبر ملی، تو وہ اس حملے سے بے حد غضبناک ہوئے ۔سلطان نے فوراً قسطنطنیہ کے محاصرے کو ناکہ بندی میں تبدیل کیا اور وہ اپنی فوجوں کے ساتھ عیسائی لشکر کے مقابلے کے لیے نکل پڑے اس دوران انہوں نے اپنے یورپین چھاپہ مار دستوں کو بھی حملے کا حکم دیا، جو سلطان بایزید یلد رم کے آنے سے پہلے ہی عیسا ئی لشکر پر حملہ آور ہو چکے تھے۔عیسائی لشکر کے سالارنے تو شروع میں عثمانی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کرنے کی کوشش کی، لیکن جب سلطان بایزید یلد رم مرکزی لشکر کے ساتھ یہاں پہنچے تو اسے مجبورا ًعثمانیوں کے ساتھ جنگ لڑنی پڑی۔ اس جنگ میں سلطان بایزید یلدرم کو شاندار فتح حاصل ہوئی اور "میرچا" کی فوجیں منتشر ہو گئیں ۔جبکہ "میرچا"کو زندہ پکڑ کر سلطان بایزید کے سامنے لایا گیا، سلطان با یزید نے اسے بورصہ کے ایک قلعے کے تحہ خانے میں قید کر دیا ،جہاں وہ کچھ عرصے کے لیے عثمانیوں کی قید میں رہا بالآخر اس نے عثمانیوں کو ٹیکس ادا کرنے پر رضامندی دکھائی اور اس نے سلطان بایزید سے یہ بھی معاہدہ کیا کہ وہ ہنگری کے خلاف عثمانیوں کی فوجی مدد کرے گا اور انہیں فوجی دستے فراہم کرے گا ،جس پر سلطان بایزید نے اس کی جان بخشی کرتے ہوئے اسے واپس جانے کی اجازت دے دی اس ابتدائی فتح کی بعد سلطان نے اپنے چھاپہ مار دستوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک کو ہینگری جب کہ دوسرے کو بوسنیاں جانے کا حکم دیا جبکہ سلطان مرکزی لشکر کے ساتھ واپس قسطنطینہ کی جانب روانہ ہوئے ،یہاں عثمانیوں کے محاصرے سے تنگ آکر بالآخر شہنشاہ قسطنطینہ نے مجبوراً سلطان بایزید کے ساتھ صلح کر لی چنانچہ 10 سال کے لیے صلح کر کے محاصرہ اٹھا لیا گیا صلح کی شرائط نہایت سخت تھیں۔
1)-صلح کی پہلی شرط یہ تھی کہ سالانہ خراج کی رقم 3 ہزار طلائی سکےہوں گے۔
2)-دوسری بڑی شرط یہ تھی کہ مسلمانوں کے لیے قسطنطینہ میں ایک شرعی عدالت قائم کی جائے گی ،جس میں سلطان با یزید نے ایک ترک قاضی مقرر کیا اور کلیسائے مشرق کے اس مرکز میں ایک عالی شان مسجد بھی تعمیر کی گئی ،جس کے میناروں سے توحید کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔
ایک انگریز مورخ لکھتا ہے کہ شہنشاہ مینویل نے شہر کے 700 مکانات بھی مسلمانوں کو دے دیے اور غلطہ کا نصف حصہ بایزید کے حوالے کر دیا جس میں اس نے 6 ہزار عثمانی فوج متعین کر دی، شہر کے باہر جو انگور کے باغ اور ترکاریوں کے کھیت تھے ان کی پیداوار کا عشر بھی صلح نامہ کی روح سے عثمانی خزانے کو دے دیا گیا اور اسی وقت سے عثمانیوں نے قسطنطنیہ کو استمبول کہنا شروع کر دیا تھا۔
اس دوران جب میرچا بورصہ میں قید کیا گیا تھا ،تو اس دوران اس سے یہ خبر ملی کہ اس نے عثمانی زمینوں پر قبضہ کرنے سے پہلے جاندار قبیلے کے سردار "سلیمان بے "کے ساتھ اتحاد کیا تھا ۔جاندار قبیلے کے سردار سلیمان بے شروع میں توعثمانیوں کے اتحادی تھے، لیکن بعد میں انہوں نے اتحاد ختم کرتے ہوئے اناطولیہ کے باقی ترک قبیلوں کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا تھا اناطولیہ کی پہلی مہم میں سلطان بایزید چاہتے تھے ،کہ وہ جاندار قبیلے پر بھی حملہ کر کے اسے عثمانی سلطنت میں شامل کر لیں لیکن چونکہ ان کی فوج پچھلے دو سال کے ساتھ جنگ میں مصروف تھی اس لیے وہ اپنی فوجوں کو آرام دینے کے لیے وہ واپس بوسہ شہر چلے گئے تھے۔
اس دوران جاندار قبیلے کے سردار سلیمان بے جانتے تھے کہ ایک نہ ایک دن عثمانی اس کے قبیلے پر حملہ کریں گے ،اس لیے انہوں نے سیواس کے حکمران قاضی برہان الدین کے ساتھ اتحاد کر لیا تھا، یوں جاندار قبیلے کا دار الحکموت" کستمونی" تقریباً عثمانیوں کے مخالفین سے بھر چکا تھا۔
اس لیے 1392 عیسوی میں سردیوں کے موسم کی پرواہ کیے بغیر با یزید یلد رم اپنی فوج کے ساتھ بورسہ شہر سے روانہ ہوئے اور جب سلیمان بے کو عثمانیوں کے آنے کی خبر ملی تو اس نے فوری طور پر ایک قاصد قاضی برہان الدین کے پاس بھیجا تاکہ وہ اپنی فوج کے ساتھ سلیمان بےکی مدد کو آسکے، لیکن اس سے پہلے کہ قاضی برہان الدین اپنی فوج کے ساتھ اپنے اتحادی کی مدد کو پہنچتے، بایزید یلدرم برق رفتاری کے ساتھ کا ستامونی جا پہنچے اور انہوں نے اس شہر کا محاصرہ کر لیا اور کچھ ہی دنوں کے بعد قستمونی شہر کے باسیوں نے محاصرے سے تنگ آ کر عثمانیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور یوں جاندار قبیلہ بھی عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا گیا ، اورسلطان بایزید یلد رم نے جاندار قبیلے کے سردار سلیمان بے کو پھانسی دے دی۔
جب سلطان بایزید یلد رم جاندار قبیلے کی فتوحات میں مصروف تھے تو اس دوران ہینگری کے بادشاہ سجمنڈ کا سفیر سلطان کے پاس پہنچا اور اس نے اپنے بادشاہ کا پیغام سناتے ہوئے سلطان بایزید کو متنبہ کیا کہ بلغاریہ کے معاملات میں عثمانیوں کو عمل دخل کا کوئی حق نہیں اور اس نے اپنے شہنشاہ کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عثمانیوں کو بلغاریوں کے معاملات سے دور رہنا چاہیے ،کہا جاتا ہے کہ سلطان بایزید یلدرم نے اس کا جواب اپنے ہاتھ میں موجود تلوار دکھا کر دیا اب یہ ظاہر تھا کہ شہنشاہ ہینگری سجمنڈ بلغاریہ پر حملہ کر کے اسے عثمانیوں سے چھینے گا اور ایسا ہی ہوا شہنشاہ سجمنڈ اپنی فوج کے ساتھ بلغاریہ کو عثمانیوں سے چھینے کے لیے نکلاکھڑا ہوا۔جبکہ اسی دوران سلطان بایزید کو خبر ملی کہ ہینگری کے بادشاہ سجمنٹ نے "نیکوپول " کے قلعے کا محاصرہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا ہے اور اس نے تمام ترک سپاہ کو قتل کر دیا ہے، جب سلطان بایزید یلدم نے یہ خبر سنی تو انہوں نے اپنے بڑے بیٹے شہزاد ارطغرل کو اناطولیہ کی فوجوں کا سپہ سالار بنایا اور وہ خود باقی عثمانی لشکر کے ساتھ ہینگری کی طرف پیش قدمی کرنے لگے۔
سلطان با یزید کے یورپ جانے کے بعد قاضی برہان الدین نے موقع غنیمت جانتے ہوئے وہ اپنی فوجوں کے ساتھ عثمانی سرحد کے قریب جا پہنچا ،اس پر شہزادہ ارطغرل جو کہ اس وقت اناطولیہ میں سلطان کی جانب سے سنجک بے تھا اس نے اپنے پاس موجود فوج کے ساتھ قاضی برہان الدین پر حملہ کر دیا ،یوں دونوں ترک قبائل کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی اور یہ جنگ تقریباً تین دن تک مسلسل جاری رہی ،لیکن اس جنگ میں برہانیوں کے ہاتھوں عثمانی شہزادہ ارتغرل مارا گیا اگرچہ اس معمولی سی فتح نے اناطولیہ میں قاضی برہان الدین کے اثر و اسوخ کو بڑھا دیا تھا ،لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ جب یہ خبر سلطان با یزید کو ملے گی تو وہ اس کا بدلہ ضرور لے گا اس لیے اس نے بایزید کے آنے سے پہلے اپنی فوجوں کو انکرا اور دیگر عثمانی شہروں کی لوٹ مار کے لیے روانہ کیا ان شہروں کو برہانی فوجوں نے لوٹ کر انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ادھر یورپ میں جب ہینگری کے شہنشاہ سجمنڈ کو معلوم ہوا کہ بایزید یلد رم خود ایک بڑی فوج کے ساتھ اس کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے تو اس نے فوراً اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اورقلعے کو خالی کر کے ہنگیرین فوج واپس ہنگری چلی گئی۔
دریں اثنا سلطان بایزید یلدرم کو یہ خبر ملی کہ اس کا بڑا بیٹا اور تخت کا وارث شہزادہ ارتغل برہان الدین قبیلے کے سردار کے ہاتھوں جنگ میں مارا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ مزید برھانی فوجوں نے عثمانی قصبوں اور دیہاتوں پر حملہ کر کے انہیں لوٹ لیا ہے ان دونوں خبروں سے سلطان بایزید جلد رم انتہائی غمگین اور غصے میں آگئے اور اپنے بڑے بیٹے کی موت کا بدلہ لینے کے لیے وہ فورا ًاپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ چلے گئے ،لیکن جہاں اناطولیہ پہنچنے کے بعد سلطان کو معلوم ہوا کہ کارامان اور اور برہان قبیلے میں کسی اختلاف کی بنا پر ان کی آپس میں جنگ ہو گئی ہے ،سو سلطان نے عقلمندی کا ثبوت دیتے ہوئے ان دونوں قبیلوں کو آپس میں لڑنے دیا اور وہ خود واپس کو قسطنطنیہ کی جانب متوجہ ہوئے اور کیونکہ جو مطالبات اس نے سلطان کے مانے تھے وہ ان پر عمل نہیں کر رہا تھا مزید یہ کہ وہ فرانسیسیوں سے فوجی مدد لے کر اپنے شہر کا دفاع کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھا ۔
آخر کار 1395ءکوسلطان بایزید یلدرم نے استنبول کے دوسرے محاصرے کا حکم دیا ۔ موسم گرما کے دوران جبکہ یہ محاصرہ جاری تھا تو سلطان بایزید یلدرم نے یونان کے ان شہروں پر حملے کیے جو کہ رومیوں کی حمایت اور ان کی مدد کر رہے تھے یونان کی مہم سے فارغ ہونے کے بعد جب 1396 عیسوی کے موسم بہار میں سلطان باقی فوج کے ساتھ محاصرے میں شامل ہوئے تو محاصرے کی شدت میں تیزی آگئی قریب تھا کہ رومی شہنشاہ عثمانیوں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنے شہر کے دروازے کھول دیتا کہ اسے خبر ملی کہ ایک بڑا صلیبی لشکر بلقان میں عثمانیوں کے خلاف پیش قدمی کر رہا ہے جن میں ہولی رومن ایمپائر ،سلطنت فرانس ،انگلستان، ہینگری، کنگڈم آف پولینڈ، جمہوریہ وینس، جمہوریہ جنوا ،کاسٹیل ،اراگون ، کروشیہ، ہاسپٹلز، اوربلغاریائی ان تمام عیسائی ریاستوں نے ایک نیا صلیبی اتحاد بناتے ہوئے انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔
History In Urdu