Sultan Bayezid I – Part 1

کسوو کی جنگ میں فتح کے بعد عثمانی ترک اپنے جلالی سلطان مراد اول سے محروم ہو چکے تھے۔ سلطان مراد کی شہادت کے بعد اب ترکوں کے پاس جانشینی کے لیے شہزادہ بایزید اور شہزادہ یعقوب تھے ۔شہزادہ یعقوب "ووک برینکو ویچ" کے فوجی دستوں کے تعاقب میں تھا اور لشکر میں اس وقت صرف شہزادہ بایزید موجود تھا۔ وزرا اور مشیروں کی مشاورت سے شہزادے با یزید کو عثمانی سلطنت کا نیا سلطان منتخب کر لیا گیا۔ سلطان با یزید اپنی برق رفتار فتوحات کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ جانے جائیں گے اسی لیے انہیں بایزید یلدرم یعنی کہ بجلی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔آٹومن ایمپائر کی آج کی اس قسط میں ہم عثمانی سلطان بایزید یلدرم کی زندگی کا احاطہ کریں گے کہ کیسے انہوں نے اناطولیہ میں باقی ترک قبائل کو شکست دے کر انہیں عثمانی سلطنت میں شامل کیا؟

کوسوو کی جنگ میں عثمانی ترکوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی تھی ۔لیکن اس جنگ کے اختتام پر سلطان مُراد پر قاتلانہ حملہ ہوا جس سے وہ شدین زخمی ہو گئے،اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انکی شہادت ہو گئی، سلطان مُراد کی شہادت کے بعد انکے بڑے بیٹے شہزادے بایزید کو چوتھے عثمانی سلطان کی حیثیت سے تخت نشین کیا گیا۔

1360ء میں جب سلطان بایزید یلدرم کے دادا "اور خان غازی" کا انتقال ہوا تو شہزادے بایزید کے والد مراد تخت نشین ہوئے ۔اسی سال جب اور خان غازی کا انتقال ہوا تو ان کے پوتے بایزید بورصہ میں پیدا ہوئے۔شہزادے بایزید کی تعلیم پر انکے والد مُراد اول نے خاص طور پر توجہ دی،اور ان کی تعلیم کے لیے اس دور کے اہم ترین اسکالرز جن میں سے قاضی زادہ رومی، قاضی عسکر، جاندار لی حلیل اور کارامان کے مولانا رستم جیسی علماء ان کے اہم اساتذہ میں سے تھے ۔شہزادے بایزید نے اس وقت کے مشہور کمانڈروں سے جنگی تربیت کے سبق حاصل کیے ۔ سلطان مراد اول اپنے اس بڑے بیٹے شہزادے بایزید کی خاص طور پر تربیت کر رہے تھے۔ کیونکہ وہ یورپ کی فتوحات کے لیے اپنے اس بیٹے کو لے کر جانا چاہتے تھے ۔شہزادہ بایزید بچپن ہی سے بہادر تھا اور اس نے کم عمری میں ہی جنگیں لڑنا شروع کر دی تھیں۔ شہزادے با یزید نے تقریبا ًہر جنگ میں حصہ لیا اور ان کے برق رفتار حملوں سے عثمانی فوج میں ایک نئی طاقت آجاتی تھی اورعثمانی فوج اپنے شہزادے کو اپنے درمیان پاکراسکا جوش مزید بڑھ جاتا تھا۔

کوسوو کی جنگ میں بھی شہزادے بایزید نے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے ،اس جنگ میں عثمانیوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی لیکن عثمانیوں کی اس فتح کا اختتام سلطان مراد اول کی شہادت پر ہوا ۔جو کہ اس جنگ کے اختتام پر شہید ہو گئے تھے۔ کسوو کی جنگ میں جب سلطان مراد اول کی شہادت ہوئی تو ان کی شہادت کے بعد عثمانی وزراء نے شہزادے بایزید کو عثمانی سلطنت کا نیا سلطان منتخب کر لیا۔ جس کے بعد شہزادے بایزید نے ایک قاصد اپنے بھائی شہزادے یعقوب کے پاس بھیجا۔ شہزادہ یعقوب اس وقت کوسوو کی جنگ سے بھاگنے والے عیسائی لشکر کا پیچھا کر رہا تھا اور جب شہزاد یعقوب کو واپسی کا حکم ملا تو وہ فورا اپنے سپاہیوں کے ساتھ لشکر میں واپس پہنچ گیا۔ لیکن شہزادے کو معلوم نہیں تھا کہ اس کا والد مراد اول وفات پا چکا ہے اور جس لشکر میں وہ واپس جا رہا ہے وہاں اس کا بڑا بھائی بایزید یلد رم اب نیا عثمانی سلطان ہے۔ جب یہ بدنصیب شہزادہ خیمے میں داخل ہوا تو اس کے بڑے بھائی سلطان بایزید یلد رم کے حکم پر اس معصوم شہزادے کا گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیا گیا۔ یوں آل عثمان میں تخت کے لیے قتل کیے جانے والا یہ پہلا قتل تھا سلطان مراد اول اور شہزادے یعقوب کی لاش کو بورصہ شہر میں دفن کیا گیا ۔شہزادے یعقوب کے قتل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی۔ کہ چار سال پہلے سلطان مراد ہی کے ایک بیٹے "شہزادےساوچی "نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کر دی تھی جس کی وجہ سے اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونہ پڑا۔ اب اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ شہزادہ یعقوب ایسا نہیں کرے گا کیونکہ عثمانی فوج سلطان با یزید کی طرح ان کے چھوٹے بھائی شہزادے یعقوب کو بھی چاہتی تھی اور وہ ان کی اطاعت کرتی تھی کیونکہ شہزادہ یعقوب بھی اپنے باپ اپنے بھائی کی طرح بہادر سالار تھا۔ سلطان بایزید یلدرم نے شروع میں تو اپنے بھائی کے قتل کی شدید ترین مخالفت کی ،لیکن عثمانی وزراء نے سلطان کو اس بات پر قائل کر لیا کہ اگر آپ کے چھوٹے بھائی شہزادے ساوچی بغاوت کر سکتے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ آپ کا بھائی شہزادہ یعقوب بغاوت نہ کرے بہتر یہی ہے کہ شہزادے کو گلا گھونٹ کر مار دیا جائے بجائے اس کے کہ عثمانی فوجیں آپس میں ایک دوسرے کا قتل عام کریں اور عیسا ئی ان اندرونی بغاوتوں کا فائدہ اٹھا کر عثمانی سلطنت پر چڑھ دوڑیں۔

ادھر اناطولیہ میں جب باقی ترک ریاستوں کو عثمانی سلطان مراد اول کی شہادت کی خبر ملی اور اس کے ساتھ ساتھ جب انہوں نے یہ بھی سنا کہ معصوم شہزاد یعقوب کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا ہے۔ تو انہوں نے اب نئے عثمانی سلطان بایزید یلدرم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا ،ان میں سے خاص طور پر" کارامان" قبیلے کو جب خبر ملی تو اس نے وہ علاقے جو اس نے سلطنت عثمانیہ کے حوالے کیے تھے ،تلوار کے زور پر عثمانیوں سے یہ سارے علاقے واپس لے لیے اور اس نے برادرانہ قتل کو ہوا دے کر عثمانیوں کے خلاف باقی ترک قبائل کو بھی بغاوت کے لیے اکسایا ۔کارامان قبیلے کے سردار علاؤالدین بے نے گرمیان قبیلے کے سردار یعقوب بے دوم کو فوجی مدد کی لالچ دے کر انہیں بھی عثمانیوں کے خلاف اکسایا اور سردار یعقوب بے دوم نے کوتاہیہ اور وہ علاقے جو اس نے اپنی بیٹی کی شادی جو کہ اس نے بایزید یلدرم کے ساتھ کی تھی کو جہیز کے طور پر عثمانیوں کو دیے تھے ،اس نے وہ سارے علاقے عثمانیوں سے واپس لے لیے۔ کارامان اور گرمیان قبیلے کی بغاوت کو دیکھتے ہوئے اناطولیہ کے ایک اور ترک قبیلے’ قاضی برہان الدین "نے بغاوت کرتے ہوئے "قر شہر" کو عثمانیوں سے واپس لے لیا اور یوں تمام اناطولیہ عثمانیوں کے خلاف متحد ہو گیا۔ ادھر یورپ میں جب سلطان بایزید یلدرم کو اناطولیہ میں ترک سرداروں کی بغاوت کی خبر ملی تو وہ سخت برہم ہوئے ۔لیکن اناطولیہ جانے سے پہلے انہوں نے یورپ میں امن قائم کرنا زیادہ ضروری سمجھا اس لیے لازار جسے جنگ کسوو کے اختتام پر پھانسی دے دی گئی تھی،اب اس کا بیٹا سٹیفن لازارسرویہ کا وارث تھا۔ سلطان بایزید یلد رم نے اسے سربیہ کا بادشاہ اس شرط پر بنایا کہ وہ عثمانیوں کا وفادار رہے گا ۔یوں اسٹیفن نے سالانہ خراج کے علاوہ 5 ہزار سپاہیوں کا ایک دستہ سلطان کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رکھنے کا معاہدہ کیا نیز اس نے اپنی بہن شہزادی ڈیسپنا کو بایزید کے نکاح میں دے دیا اور اس نے یہ بھی وعدہ کیا کہ سلطان کی تمام لڑائیوں میں وہ اپنی فوج لے کر خود شریک ہوا کرے گا چنانچہ آخر وقت تک وہ اس معاہدے پر قائم رہا اور نائیکو پولس اور جنگ انکرہ کی خون ریز جنگوں میں بھی اسٹیفن سلطان بایزید جلدم کے شانہ بشانہ ہو کر لڑتا رہا اور سروی افواج کی خدمات عثمانیوں کے لیے بے حد موثر ثابت ہوئیں۔

سرویہ سے صلح کرنے کے بعد سلطان بایزید کو قسطنطینہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اینڈرونیکس کو تخت پر بٹھانے کی دھمکی دے کر شہنشاہ پیلیو لوگس کو ایک جدید صلح نامے پر مجبور کیا ،جس نے بازنطینی سلطنت کی رہی صحیح حیثیت بھی خاک میں ملا دی۔ جان اور اس کابیٹا مینوئل نے جو تختِ سلطنت میں اپنے باپ کا شریک تھا، معاہدہ کیا کہ 30 ہزار طلائی سکے بطور خراج ہر سال ادا کرتے رہیں گے اور 12 ہزار کا ایک فوجی دستہ بایزید کی خدمت میں ہمیشہ حاضر رکھیں گے۔ ایشیائے کوچک میں بازنطینی سلطنت کے مقبوضات میں سے اب صرف ایک قلعہ فیلہ ڈلفیا باقی رہ گیا تھا۔ اس صلح نامے میں وہ بھی بایزید کے نام لکھ دیا گیا لیکن اس قلع کے یونانی افسر نے شہنشاہ کے حکم کے باوجود قلعہ خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ سلطان بایزید نے شہنشاہ کو مجبور کیا کہ وہ خود اپنی فوج کے ذریعے سے قلعہ خالی کرا دے چنانچہ بازنطینی سلطنت کے انتہائی زوال کا عبرت ناک واقعہ بھی ظہور میں آیا کہ یونانی سپاہیوں نے فیراڈلفیا پر حملہ کیا اور اسے فتح کر کے بایزید کے حوالے کر دیا گیا۔

یورپ میں بغاوتوں کو ختم کرنے اور نئے معاہدے کرنے کے بعد اب اگلی باری اناطولیہ کے ان ترک سرداران کی تھی جنہوں نے سلطان مراد اول کی شہادت کا بہانہ بناتے ہوئے اور شہزادہ یعقوب کی موت کو سامنے رکھتے ہوئے عثمانیوں کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ اناطولیہ کے ان باغی سرداران کی بغاوتوں کو کچلنے کے لیے سلطان بایزید یلدرم 1399ء میں بورصہ شہر سے روانہ ہوئے۔ اس مہم میں سلطان بایزید یلد رم اکیلے نہیں تھے۔ بلکہ ان کے ساتھ عثمانی افواج کے علاوہ سربیہ کے بادشاہ اسٹیفن اور رومی شہنشاہ مینویل پہلیولوگس کی فوجیں بھی ساتھ تھیں۔ 1399ء کے موسم سرما کی سخت ترین سردی میں عثمانی لشکر بورصہ شہر سے روانہ ہوا۔ سلطان بایزید یلدرم کا سب سے پہلا نشانہ گرمیان قبیلہ تھا۔یہاں گرمیان قبیلے کے سردار یعقوب دوم نے جب دیکھا کہ وہ عثمانی لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو اس نے سلطان بایزید یلدرم سے آمان مانگی ۔لیکن سلطان بایزید یلدرم نے یعقوب دوم کو معاف نہ کیا اور اسے گرفتار کر کے “ایپسالہ” نامی ایک قلعے میں قید کر دیا اور اس کے بعد سلطان با یزید یلدم نے گرمیان قبیلے کی تمام زمینوں پر حملہ کرتے ہوئے انہیں عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا۔

گر میان قبیلے کی فتح کے بعد سلطان با یزید یلدرم کی فوجوں نے ایک اور ترک قبیلے ساروهان کی جانب پیش قدمی شروع کی جہاں پہنچنے کے بعد بغیر جنگ لڑے ساروہان قبیلے کے سردار “خضر شاہ” نے ہتھیار ڈال دیے جس کے بعد سلطان بایزید یلدرم نے ساروہان کا علاقہ عثمانی سلطنت میں شامل کرنے کے بعد ساروہان کے سردار خیزر شاہ کو گرفتار کر کے بورصہ میں قید کردیا۔

ساروهان کی فتح کے بعد سلطان با یزید یلدرم نے “بنو آیدین “قبیلے پر حملہ کیا یہاں پر بھی عثمانیوں نے بغیر جنگ لڑے “بنو آیدین “ کی زمینوں کوعثمانی سلطنت میں شامل کر لیا ۔“بنو آیدین “ قبیلے کے سردار عیسیٰ بے نے سلطان بایزید یلدرم سے جان کی آمان چاہی۔ اس وقت“بنو آیدین “ قبیلے کا سردار عیسٰی بے سلطان بایزید یلدرم کی نسبت کافی بوڑھا ہو چکا تھا اور اس کے سفید بالوں کو دیکھتے ہوئے سلطان بایزید یلدرم نے عیسٰی بے کا بھرپور احترام کیا اور انہیں زندگی گزارنے کے لیے ٹائر نامی ایک شہر دے دیا جہاں پر “بنو آیدین “ کے سردار نے اپنی زندگی کے بقیہ دن گزارے۔

“بنو آیدین “ کی فتح کے بعد “بنو منتشا” کی باری آئی اور عثمانی فوجیں جلد سلطان با یزید یلد رم کی قیادت میں یہاں پہنچ گئیں اور “بنو منتشا” کا علاقہ بھی عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا گیا بنو ایدین ،“بنو منتشا” کی فتوحات کا نتیجہ یہ نکلا کہ عثمانی ترک بحر ایجین کے ساحل تک پہنچ گئے۔ یہیں سے عثمانی بحری طاقت کی ابتدا ہوئی۔یہاں 60 جہازوں کا پہلا عثمانی بیڑا 792 ہجری بمطابق 1390 عیسوی میں روانہ ہو کر جزیرہ کیوس پر حملہ آور ہوا اس کے بعد سلطان بایزید نے سمرنا پر حملہ کیا یہ شہر یروشلم کی مبارزین سینٹ جان کے قبضے میں تھا ،لیکن یہاں بحری قوت کے ناکافی ہونے کی وجہ سے سلطان بایزید کو چھ ہفتوں کے بعد سمرنا کا محاصرہ اٹھا لینا پڑا۔

ان فتوحات کے بعد سلطان بایزید نے مفتوحہ علاقوں کے نظم و نسق کی جانب توجہ دی اور ان کے نظام کو درست کیا ان ابتدائی فتوحات کے بعد سلطان بایزید نے مارچ میں بنو حمید قبیلے کی جانب پیش قدمی کی۔ جب یہ خبر کارامان قبیلے کے سردار ابراہیم کو ملی تو اسے اب اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ اس کے باقی اتحادی ترک قبائل ختم ہو چکے ہیں اور اب سوائے قاضی برہان الدین بنو حمید اور بنو جاندار کے علاوہ کوئی اور ترک قبیلہ باقی نہیں بچا اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اگر بنو حمید کو سلطان با یزید نے فتح کر لیا تو اگلی باری کارامان قبیلے کی ہوگی ،اس لیے اس نے اپنی سرحدی فوجوں کو جلد بنو حمید قبیلے کی مدد کے لیے روانہ کیا۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی کیونکہ سلطان بایزید یلدرم بجلی کی سی تیزی کے ساتھ پیش قدمی کر رہا تھا اور جلد اس نے بنو حمید قبیلے کے صوبے حامد میں قدم رکھا جہاں کسی بھی ترک سپاہی نے عثمانیوں کے خلاف تلوار نہ اٹھائی اور یہ قبیلہ بھی باقی ترک قبائل کی طرح عثمانیوں کے قبضے میں چلا گیا اس فتح کے بعد سلطان بایزید جلدم نے اپنے بیٹے عیسٰی جیلیبی کو یہاں کا گورنر مقرر کیا

یوں سلطان با یزید یلدرم نے بہت تھوڑے عرصے میں ساروہان، گرمیان، بنو ایدین، بنو منتشا اور بنو حمید کی ریاستوں کو ختم کرتے ہوئے ان کی زمینوں کو عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔ اب اگلی باری کرمانیوں کی تھی۔

اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بنو کرمان ہی تھے جنہوں نے اناطولیہ کے ترکوں کو سب سے پہلے عثمانیوں کے خلاف اکسایا تھا یہی وجہ تھی کہ بنو حمید کو فتح کرنے کے بعد اب سلطان با یزید تیزی کے ساتھ کرمانیوں کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے جب عثمانیوں نے اناطولیہ میں کارامان قبیلے کی جانب پیش قدمی کی تو اس وقت اناطولیہ میں کارمان قبیلے کے صرف دو اتحادی رہ گئے تھے ان میں سے ایک قاضی برہان الدین اور دوسرا ترک قبیلہ بنو جاندار تھا جس کا سردار سلیمان دوم تھا جس نے عثمانیوں کے ساتھ اتحاد توڑتے ہوئے ان باقی باغی ترک قبائل کے ساتھ شامل ہو گیا تھا۔ ادھر عثمانی فوجوں نے جلد کارامان قبیلے کے دارالحکومت قونیہ کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ طویل جاری رہا بالاخر محاصرے سے تنگ آکر کارمان قبیلے کے سردار علاؤ الدین نے سلطان بایزید یلد رم کی اطاعت قبول کرتے ہوئے اس سے رحم کی بھیک مانگی اور اس نے اپنی ماضی کی غلطیوں کا اقرار کرتے ہوئے ان کی بھی معافی مانگی، نیز اس دوران سلطان بایزید یلد رم کے جاسوسوں نے انہیں بتایا کہ قاضی برہان الدین اور سلیمان بے کی فوجیں قونیہ شہر کے قریب پہنچنے والی ہیں اس لیے سلطان نے اپنے کمانڈروں کے مشورے پر انہوں نے محاصرہ ختم کرنے اور مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ۔سو سلطان نے کارامان قبیلے کے سردار کو معاف کر دیا اور کارامان قبیلے کے سردار علاؤ الدین نے کرمانیہ کا ایک ٹکڑا جس میں آق شہر بھی شامل تھا سلطان بایزید کی نظر کرتے ہوئے ان سے صلح کر لی۔اب اناطولیہ میں ان فتوحات کو دو سال ہو چکے تھے اس دوران مسلسل جنگوں کی وجہ سے عثمانی فوج کافی تھک چکی تھی سو اس لیے سلطان بایزید یلدرم نے اس سال باقی مہمات کو ملتوی کرتے ہوئے اپنی فوجوں کے ساتھ وہ واپس بورصہ شہر چلے گئے

Check Also

Osman I – Part 4

اناطولیہ میں موجود سلجوقی سلطنت کا پہلا الحکومت "ازنیک" شہر تھا۔ جو کہ پہلی صلیبی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms