سولہویں صدی عثمانیوں کے عروج کی آخری صدی تھی،اس دوران عثمانی تخت پر ایک ایسا شہزادہ تخت نشین ہوا، جو تاریخِ آلِ عثمان کا سب سے کم عمر سلطان تھا،اسی سلطان کے دورِ حکومت میں وہ یورپ! جو تُرکوں سے تھر تھر کانپتا تھا،ایک ایسا معاہدہ کیا،جس سے عثمانیوں کا رعب اور دبدبه جاتا رہا اور سلطنت عروج سے زوال کی طرف چلنا شروع ہو گئی،کون سا تھا وہ تباہ کن ماہدہ؟
اور کونسی وہ طویل ترین جنگ تھی جس نے عثمانی سلطنت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں؟
مشرق میں ایران کی شیعہ صفوی سلطنت کے حملے، اناطولیہ میں جلالی بغاوتیں اور یورپ سے طویل ترین جنگ،آخر کیسے اس کم عمر سلطان نے ان سب کا مقابلہ کیا ؟آئیے آج کی اس ویڈیو میں ہم جانتے ہیں۔
سلطان محمد ثالث کی وفات کے بعد ان کا بیٹا احمد اول 14 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ سلطان احمد اول 18 اپریل 1590ء کو "سارو ہان" صوبے میں پیدا ہوئے۔ اس وقت "ساروہان" صوبے کی گورنری ان کے والد محمد ثالث کے پاس تھی۔ جب احمد اول کے دادا سلطان مراد سوم کا انتقال ہوا تو وہ اپنے والد "محمد ثالث" کے ساتھ استنبول چلے آئے۔ احمد اول اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان سے بڑے تین بھائی تھے۔ جن میں سلیم، جہانگیر اور محمود تھے۔ یوں ان کا تخت پر بیٹھنے کا امکان بہت کم تھا۔ لیکن شہزاد سلیم اور شہزادے جہانگیر کی کم عمری میں موت کے بعد شہزادہ محمود اپنے والد کی زندگی میں تخت پر بیٹھنے کی سازش کی وجہ سے انہیں قتل کر دیا گیا۔ یوں ان کی تخت نشینی کی راہ ہموار ہو گئی۔ 6 ماہ بعد سلطان محمد ثالث کا انتقال ہو گیا اور 21 دسمبر 1603ء کو عثمانی سلطنت پر ایک ایسا شہزادہ تخت نشین ہوا جو تاریخِ آل عثمان کا پہلا کم عمر ترین سلطان تھا۔
جب سلطان احمد تخت نشین ہوئے تو ان کی عمر مخص 13 سال تھی۔
شروع میں سلطان احمد اول نے انتظام سلطنت میں جس قوت اور استقلال کا ثبوت دیا اس سے توقع کی جاتی تھی کہ اس کا عہد حکومت پچھلے عہد کے مقابلے میں زیادہ کامیاب اور شاندار ثابت ہوگا۔ مثال کے طور پر جب صدر اعظم نے جو کہ ہینگری کی جدید مہم پر مامور کیا گیا تھا اس نے ایک کثیر رقم کا مطالبہ کیا اور اس کے پورا نہ ہونے تک آگے قدم بڑھانے سے انکار کر دیا، تو احمد نے اس کے مطالبے کے جواب میں صرف یہ پیغام بھیجا کہ:۔ "اگر تم کو اپنا سر عزیز ہے تو فوراً روانہ ہو جاؤ"
صدر اعظم کو اس حکم کی تعمیل بےچوں چراں کرنی پڑی۔
سلطان سلیم ثانی کے زمانے سے حرم کو امور سلطنت میں بہت کچھ دخل حاصل ہو چکا تھا اور مراد ثالث اور محمد ثالث کے عہد میں عنانِ حکومت زیادہ تر خواتین حرم ہی کے ہاتھ میں تھی۔ جن میں سب سے زیادہ اثر سلطانہ صفیہ کا تھا۔ جو مراد ثالث کی محبوبہ سلطانہ اور محمد ثالث کی والدہ تھی۔ سلطان احمد نے با وجود نو عمری کے سلطانہ صفیہ اور اس کے حواریوں کو سلطنت کےمعاملات میں دخل دینے سے روک دیا۔
محمد ثالث کے دورِ حکومت کے آخری وزیر اعظم "حسن پاشا" کی جگہ مصر کے گورنر ملکوچ اوغلو "علی پاشا" کو وزیراعظم بنایا گیا۔
سلطان مراد سوم کے دور میں "عثمان پاشا" اور قبرص کے فاتح لالہ مصطفیٰ پاشا کی قیادت میں آذربائجان اور قفقاز کی فتوحات کے بعد صفویوں سے صلح ہو گئی تھی اور گزشتہ 13 سالوں سے ان علاقوں میں امن تھا، لیکن یہ امن اب زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ کیونکہ صفوی بادشاہ "شاہ عباس" نے پوپ، مقدس رومی سلطنت، جرمنی کے شہنشاہ اور اسپین کے بادشاہ کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد عثمانیوں کے خلاف ایک اتحاد بنانے میں وہ کامیاب ہو چکا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اناطولیہ میں بھی جلالی بغاوتیں شروع ہو گئیں، ناظرین جلالی نام اصل میں ایک باغی سردار "شیخ جلال" سے منسوب ہے جو سہولویں صدی کے اوائل میں ایک مقامی بغاوت کی قیادت کر رہا تھا۔ بعد میں ہر قسم کے دیہی اور فوجی باغیوں کو جلالی کہنا رائج ہو گیا۔
یوں اس صورتحال کے پیش نظر عثمانی فوج کو صفوی سرحد کے کچھ شہروں اور قلعوں میں موجود افواج کو اناطولیہ میں ان بغاوتوں کو کچلنے کے لیے منتقل کرنا پڑا۔ شاہ عباس اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا۔ بالاخر صفوی شہنشاہ عباس نے عیسائی ریاستوں کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے جبکہ سلطان محمد ثالث ابھی زندہ تھے اس نے حملہ کر کے عثمانیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس نے سب سے پہلے 22 دن کے طویل محاصرے کے بعد تبریز جو کہ صفیوں کا دارالحکومت تھا عثمانیوں سے واپس لے لیا۔ یوں عثمانویں کا تبریز پر 18 سالہ طویل قبضہ ختم ہو گیا۔ شاہ عباس عثمانی افواج کے آنے سے پہلے عثمانیوں کو اذربائجان اور قفقاز سے نکالنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی فوج کو "آراس" کے شمال میں لے جا کر 26 اکتوبر 1603ء کو "نخچیوان " صوبے پر قبضہ کر لیا۔ ناظرین "آراس" دراصل دریائے "آراس" کو کہا جاتا ہے، جو کہ جنوبی قفقاز کا ایک اہم دریا ہے۔ یہ دریا موجودہ ترکی آذربائجان آرمینیا اور ایران کے درمیان سرحدی حدود کا کام بھی دیتا ہے۔ عثمانی اور صفوی جنگوں میں یہ دریا اکثر جغرافیائی اور اسٹریٹجیک حد کے طور پر آتا ہے۔
"نخچیوان " کے بعد اب اس کا اگلا هدف "ایریوان" تھا۔ یہاں چھ ماہ 23 دن کے سخت ترین محاصرے کے بعد ایریوان پر بھی 8 جون 1604ء کو صفویوں کا قبضہ ہو گیا۔ شاہ عباس نے ایریوان کی فتح کے بعد "کارص" کی طرف پیش قدمی کی۔ ناظرین آپکو بتاتے چلیں کہ "کارص" ایک تاریخی شہر ہے جو موجودہ مشرقی ترکی میں واقع ہے۔ یہ شہر صدیوں سے مختلف تہذیبوں اور سلطنتوں کا مرکز رہا ہے اور عثمانی صفوی جنگوں اور قفقاز کے تنازعات میں اس کا ایک خاص اسٹریٹیجک مقام رہا ہے۔ شاہ عباس نے اس شہر کو فتح کرنے کی کوشش کی، لیکن یہاں عثمانی افواج کی سخت ترین مزاحمت کے بعد وہ واپس تبریز چلا گیا۔
صفویوں کے ابتدائی حملوں کی روک تھام کے لیے سلطان احمد اول نے 15 جون 1604ء کو سنان پاشا کو صفویوں کے خلاف ایک فوج دے کر استنبول سے روانہ کیا۔8 نومبر 1604ء کو "سنان پاشا" "کارص" پہنچے۔ لیکن موسم سرما کی شدت کی وجہ سے وہ آگے نہ بڑھ سکے۔ یہاں سردیاں گزارنے کے بعد انہوں نے بہار کے لیے جنگی تیاریاں شروع کر دیں۔
سنان پاشا اذربائجان پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے اور وہ شاہ عباس کے زیر کمان 50 ہزار سپاہیوں پر مشتمل صفوی فوج کے مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔ 19 ستمبر 1605ء کو صفویوں اور عثمانیوں کے درمیان "اُرمیہ" کی ایک تاریخی جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں عثمانی فوج جس کی قیادت اس وقت سنان پاشا کے ہاتھ میں تھی مشرقی آذربائجان کے اندر پیش قدمی کر رہے تھے۔ شاہ عباس اول نے اپنی تربیت یافتہ فوج کے ساتھ اس نے عثمانیوں پر اچانک حملہ کردیا۔ صفویوں کی حکمت عملی بہت موثر رہی۔ خاص طور پر ان کی تیز نقل و حرکت اور مقامی جغرافیہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ایک خون ریز جنگ کے بعد عثمانی افواج کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد صفویوں نے اذربائجان کے بڑے حصے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ یوں یہ جنگ شاہ عباس کی مسلسل فتوحات کا تسلسل تھا۔ جس نے عثمانی اسرواسوخ کو مشرقی قفقاز اور شمالی ایران میں کمزور کر دیا تھا۔
اس شکست کے بعد سینان پاشا دیار بکر واپس چلے گئے اور کچھ وقت بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ اُرمیہ کی جنگ عثمانیوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ثابت ہوئی۔
شاہ عباس عثمانی سرحد پر برابر حملے کیے جا رہا تھا۔ سب سے پہلے وہ گنجہ کی طرف بڑھا اور 6 جولائی 1606ء کو اس نے گنجہ پر قبضہ کر لیا۔ 27 مئی 1607ء کو "شماہی" بھی صفویوں کے ہاتھ چلا گیا۔ ناظرین شماہی در اصل قفقاز کے علاقے میں واقع ایک اسٹریٹیجک شہر ہے، جو آج کے اذربائجان میں شامل ہے۔ کیونکہ یہ قفقاز کے راستے ایران اور اناطولیہ کے درمیان رابطے کا ایک اہم قلعہ تھا۔ یوں اس شہر کے ہاتھ سے نکلنے کا مطلب تھا کہ عثمانی سلطنت قفقاز میں دفاعی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ یہ فتح صفوی سلطنت کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی اور آپ کو بتاتے چلیں کہ شماہی کا سقوط 1612ء میں ہونے والے معاہدہ نصوح پاشا یعنی کہ "ٹریٹی آف نصوح پاشا" کی راہ ہموار کرنے والے اہم واقعات میں سے ایک تھا۔ اس کے بعد شاہ عباس نے مزید پیش قدمی نہ کی اور جنگ کسی حد تک رک گئی۔
ادھر یورپ میں سلطنتِ عثمانیہ کی مغربی سرحد پر ترکوں کی آسٹریا کے ساتھ جنگ کئی سالوں سے جاری تھی۔ آسٹریا کے ساتھ جنگ دراصل سلطان احمد کے دادا سلطان مراد ثالث کے دور میں شروع ہوئی تھی اور یہ جنگ سلطان محمد کے دور تک جاری رہی۔ ایک مدت تک جنگ میں وقفہ آیا اور صلح کی بات چیت شروع ہوئی، لیکن وہ مذاکرات ناکام رہے اور جنگ جوں کی توں جاری رہی۔ اسی دوران اسٹریا نے عثمانیوں سے استرگان قلعہ چھین لیا تھا۔ تاہم عثمانیوں نے آسٹریا سے "نیرا" اور"یوار" قلعے کو فتح کرلیا۔
اس دوران مالکوچ اورغلو علی پاشا نے اسٹریا کے محاز کی سرداری اپنے ذمے لے لی۔ 3 جون 1604ء کو وہ لشکر لے کر استنبول سے روانہ ہوئے، علی پاشا عثمانی لشکر کے ساتھ جلد بلغراد پہنچے، لیکن 26 جولائی 1604ء کو علی پاشا بلغراد میں وفات پا گئے۔ اس کے بعد لالا محمد پاشا وزیر مقرر ہوا اور اس نے آسٹریا کے محاذ کی سرداری سنبھال لی۔ لالہ محمد پاشا عثمانی لشکر کے ساتھ "بُدین" پہنچا، وہاں جنگی کونسل منعقد کر کے محمد پاشا نے استر گون کا محاصرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں 31 دن تک استرگون کا محاصرہ کیا گیا، مگر قلع فتح نہ ہو سکا۔ لہذا محمد پاشا نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور کچھ وقت بلغراد میں قیام کے بعد وہ 9 فروری 1605ء کو استنبول واپس چلے گئے۔ سلطان احمد نے استرگون قلعے کوہر صورت میں یورپیوں سے واپس لینے کا حکم دیا، کیونکہ یہ قلعہ سلطان سلیمان القانونی کی یادگار تھا۔ اس پر 16 مئی 1605ء کو محمد پاشا استنبول سے روانہ ہوا اور 29 اگست کو استرگون کا دوبارہ محاصرہ کر لیا گیا۔ یہ محاصرہ 35 دن تک جاری رہا اور آخر کار اس بار استرگان قلع فتح ہو گیا۔ 13 اکتوبر 1605ء کو لالہ محمد پاشا استرگوان میں داخل ہوا۔ اس کے جواب میں اسٹریا نے "یوار" قلعہ عثمانیوں سے چھین لیا، تا ہم ابراہیم پاشا نے یوار قلعہ دوبارہ فتح کر لیا اور وہاں کا بےلر بے بن گیا۔ یہی ابراہیم پاشا 20 ہزار اکنجی گھڑسوار دوستوں کے ساتھ اسٹریا کے سرحدی علاقوں میں گھستا چلا گیا اور اس نے "جم بیتلی" کو فتح کیا۔ اس فتح کے دوران کئی شہروں میں اکنجی گھڑ سوار دستوں نے خوب لوٹ مار مچائی۔ محمد پاشا عثمانی لشکر کے ساتھ مجارستان کے شمال کی طرف بڑھا اور یہاں سے فوجی کاروائی مکمل کرنے کے بعد 20 نومبر 1606ء کو وہ اپنے اکنجی گھڑسوار دستوں کے ساتھ استنبول واپس لوٹا۔
اگلے سال دوبارہ مہم پر نکلنے کے لیے لالہ شاہین پاشا استمبول سے روانہ ہونے ہی والے تھے، کہ وہ اچانک وفات پا گئے اور جب اسٹریا کو خبر ملی کہ ایک نئی فوج ان سے جنگ کرنے کے لیے دارالحکومت سے روانہ ہونے والی ہے تو انہوں نے باقاعدہ صلح کی سلطان سے درخواست کی اور انہوں نے استمبول میں اپنے سفیر بھیجے۔ یہاں عثمانیوں اور اسٹریائیوں کے درمیان 13 سال 4 ماہ طویل جنگ کے بعد 11 نومبر 1606ء کو صلح نامہ "سیتواتوروک" پر دستخط ہوئے اس رو سے فریقین کے مقبوضات میں کوئی اہم تبدیلی واقع نہ ہوئی، گران، ایرلا اور گراڈسکا کے قلعے عثمانیوں کے قبضے میں رہے اور آب اور کو مورن پرآسٹریا کا قبضہ قائم رہا، ٹرانسلوانیا بھی صلح نامے میں بطور ایک فریق کے شریک کیا گیا اور یہ صوبہ ایک حد تک سلطنت عثمانیہ کی محکومی سے آزاد ہو گیا۔ 30 ہزار دوکان سالانہ کی رقم جو اسٹریا بطور خراج دولت عثمانیہ کو ادا کرتا تھا ختم کر دی گئی اور اس کے معاوضے میں سلطنت عثمانیہ نے 2 لاکھ دوکان یک مشت قبول کر لیے، لیکن اس صلح نامے کی اصلی اہمیت وہ تبدیلی ہے جو اس کے بعد سلطنتِ عثمانیہ اور یورپ کی عیسائی حکومتوں کے سفارتی تعلقات میں واقع ہوئی، اب تک عیسائی حکومتوں سے جو صلح نامے ہوتے تھے ان کی عبارت سے ظاہر ہوتا تھا کہ صلح سلطان کی طرف سے عطا کی جا رہی ہے، لیکن "سیتواتوروک" کےصلح نامے میں سلطنت عثمانیہ نے بین الاقوامی قانون کے اصول و اداب کا لحاظ رکھا، نیز شاہِ اسٹریا حکمران ویانا کے بجائے شہنشاہ لکھنا منظور کیا، اب تک سلطان کی طرف سے جو سفراء ویانہ بھیجے جاتے تھے وہ سلطنت عثمانیہ کے ادنیٰ ملازمین میں سے منتخب کیے جاتے تھے، اس صلح نامے کے بعد یہ طے پایا کہ سفرا کم از کم سنجک بے کے مرتبے کے ہوں گے۔
"سیتواتوروک" نے واضح کر دیا کہ سلطنت عثمانیہ کے عروج کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب وہ زوال و انحطاط کی جانب مائل ہو گئی ہے۔ سترہویں صدی کا ابتدائی زمانہ اس کے لیے نہایت خطرناک تھا۔ سلاطین عموماً کمزور تھے اور سلطنت اسٹریا روز بروز زیادہ طاقت حاصل کرتا جارہا تھا۔ لیکن 1618ء میں جرمنی میں وہ عظیم الشان مذہبی جنگ چھڑ گئی جس کا سلسلہ تین سال تک قائم رہا اور جس نے سلطنت اسٹریا کو ترکوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے بجائےآپس میں مصروف رکھا۔
غرض سترہویں صدی کے ابتدائی 30 سالوں میں جو سلطنت عثمانیہ کے لیے نہایت نازک اور تشویش ناک تھے یورپ کی کوئی بڑی حکومت اس قابل نہ تھی کہ ترکوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکے اس زمانے میں ترکوں کے خاص دشمن پولینڈ اور وینس تھے پولینڈ اپنے خانگی انتشار کے باعث کوئی نمایاں فتح حاصل نہ کر سکا اور وینس کبھی اس قابل نہ تھا کہ تنہا سلطنتِ عثمانیہ کا مقابلہ کر سکے۔
ناظرین سلطنت عثمانیہ اپنے عروج کے دور میں تجارتی راستوں پر قبضہ کر کے اس نے اپنی ایک بڑی آمدنی حاصل کر لی تھی، مگر صفویوں کے ابھرنے سے اور پرتگالیوں کے افریقہ کے گرد گھوم کر نئے تجارتی راستے دریافت کرنے سے عثمانی سلطنت کی آمدنی کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچا۔
ان تمام وجوہات کی بنا پر جب ریاست کی آمدنی کم ہونے لگی تو ٹیکس میں اضافہ کرنا سلطان کے لیے ناگزیر ہو گیا تھا۔ دوسری جانب یورپی ریاستوں کے طاقتور ہونے سے فتوحات اب پہلے جیسی کامیاب نہیں رہی تھی اور سلطنت کو ان فتوحات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بھی محروم ہونا پڑا عثمانی سلطنت "تیمار نظام" کے ذریعے انتظامی، عسکری، معاشی اور سماجی نظم و ضبط کو قائم رکھتی تھی۔
ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کہ تیمار ایک قسم کی زمین یا آمدنی کا ٹکڑا تھا۔ جو عثمانی ریاست اپنے وفادار فوجی افسران اور سوار سپاہیوں کو دیا کرتی تھی یہ نظام خاص طور پر سلجوقی اور اسلامی ریاستوں کے پرانے نظاموں سے متاثر تھا اور چودھویں صدی میں سلطنت کے ابتدائی ادوار سے شروع ہوا تھا۔ پیداوار قیمتوں کا تعین، ٹیکس اور اخراجات جیسے معاملات کو دیہی نمائندوں کے ذریعے انجام دیا جاتا تھا۔ جب سلطنت کی آمدن کم ہونے لگی اور عوام پر مزید ٹیکس لگائے گئے، تو انہوں نے یہاں تک کہ دارالحکومت میں بغاوتیں کھڑی کر دیں۔ وہ سپاہی اور فوجی افسر جنہیں یہ زمینیں دی گئی تھیں انہوں نے پرانے عثمانی سپاہیوں کو حکومت کے خلاف کھڑا کر دیا انہی وجوہات کی بنا پر جلالی جو سلطان سلیم اول کے دور سے اناطولیہ کے لیے مصیبت بنے ہوئے تھے انہوں نے ان معاشی بحرانوں کو موقع غنیمت جان کر عوام کو بغاوت پر اکسایا۔
ناظرین یہاں پر اپ کو پھر سے بتاتے چلیں کہ جلالی بغاوتیں دراصل ایک سلسلہ وار عوامی اور فوجی بغاوتیں تھیں جو سلطنت عثمانیہ میں خاص طور پر اناطولیہ کے علاقے میں ہوئی۔ یہ بغاوتیں یوز سلطان سلیم کے دور سے شروع ہوئیں اور سولہویں صدی تک وقفے وقفے سے جاری رہیں۔ جلالی دراصل کسی خاص قبیلے یا قوم کا نام نہیں تھا۔ بلکہ یہ ان باغیوں، سابق فوجیوں، مقامی سرداروں اور دیہاتوں کو کہا جاتا تھا، جنہوں نے عثمانی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے، ان کا نام پہلے ایک بغاوت کرنے والے شیخ جلال سے منسوب ہوا اور بعد میں یہ نام ہر قسم کی دیہی بغاوت کے لیے استعمال ہونے لگا۔
ان بغاوتوں کو سب سے زیادہ مدد کئی سالوں تک صفویوں سے ملی،
1600 کی دہائی کے آغاز میں عثمانی سلطنت کو اناطولیہ کے اہم علاقوں میں شدید داخلی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن میں "مَراش اور سیواس" جیسے علاقے سر فہرست تھے۔ ان علاقوں میں ہونے والی بغاوتیں جلالی فتنوں کا ہی تسلسل تھا، جو عثمانی ریاست کی اندرونی کمزوریوں، بد انتظامی اور معاشی بحران کی عکاسی کرتی ہیں۔ 1601 میں اس بغاوت کو کچل دیا گیا عثمانی سلطان نے جلالی بغاوتوں کو ختم کرنے کے لیے بغاوت کے سربراہوں سے معاہدے کیے اور ان میں سے اکثر کو رومیلیا اور یورپی علاقوں میں صوبیدار جیسے عہدے دیے۔ مگر اس سے بغاوت کرنے والے اور زیادہ حوصلہ پکڑنے لگے پھر"1590ء سے 1607ء کے درمیان اناطولیہ میں کئی بڑی بغاوتیں پھوٹ پڑیں، جنہوں نے عثمانی سلطنت کو سخت چیلنج دیا۔ ان بغاوتوں میں ‘قلندر اوغلو’ اور ‘تحویل احمد’ جیسے بااثر رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے عوام میں سلطنت کے خلاف غصے کو مزید بھڑکایا اور بغاوت کو وسعت دی۔"
۔ اناطولیہ کے دیہاتیوں نے اپنے گھر بار چھوڑنے شروع کر دیے۔ یورپ میں اسٹریا کے ساتھ صلح کے بعد اب سلطان اپنی مغربی سرحدوں سے مطمئن ہو گئے تھے، یوں انہوں نے اپنی تمام تر توجہ جلالی بغاوتوں اور صفویوں کے ساتھ جاری جنگ پر مرکوز کر دی۔ 11 دسمبر 1606ء کو مراد پاشا کو وزیراعظم کی مہر سونپی گئی۔ نئے عثمانی وزیراعظم مراد پاشا کو "کویوجو" کہنے کی دراصل وجہ یہ تھی کہ 1558ءمیں صفیوں کے خلاف تبریز میں مہم کے دوران وہ اندھیرے میں ایک کنویں میں گر کر قید ہو گئے تھے اور 1590ء کے ایک معاہدے کے بعد انہیں رہائی ملی تھی۔
اس دوران جلالی بغاوتیں بہت شدت اختیار کر چکی تھی مراد پاشا نے سب سے پہلے باغی سردار "علی" کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا، ان کے ساتھ 80 سالہ تجربے کار حسن پاشا بھی موجود تھے حسن پاشا نے راستے میں آنے والی بغاوتوں کو ایک ایک کر کے کامیابی کے ساتھ کچل دیا۔ انہوں نے قلندر اوغلو سے جنگ کیے بغیر صلح کر لی اور اسے انقرہ کی صوبےداری دے دی، پھر انہوں نے "علی"سردار پر چڑھائی کی۔ 23 اکتوبر 1607ء کو ہونے والی جنگ میں باغی فوج شکست کھا گئی، جبکہ جمبولا تو اغلو حلب فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، مراد پاشا نے بھاگنے والے بھائیوں کا پیچھا کیا، اگرچہ "علیمدراوغلو" کو انقرہ کی صوبیداری دے دی گئی تھی، پھر بھی وہ بغاوت کرتا رہا۔ 1608ء میں قلندر اوغلو کی فوجیں شکست کھا گئیں۔
اس کے بعد سلطان نے انہیں واپس استمبول بلایا، جہاں پرانکا پرتپاک استقبال کیا گیا، اس کے بعد سلطان احمد صفویوں پر لشکر کشی کرنا چاہتے تھے۔ مراد پاشا صفویوں کے خلاف لشکر کشی کے لیے استمبول سے روانہ ہوئے جب وہ ارزروم پہنچا تو شاہ عباس نے قیمتی تحائف کے ساتھ اپنے سفیر بھیجے اس نے قانونی سلطان سلیمان کے دور میں طے شدہ "اماسیہ" معاہدے کی تجدید کا مطالبہ کیا۔ مراد پاشا نے انکار کر دیا۔ شاہ عباس کے پیغام پر مراد پاشا نے فوجی پیش قدمی شروع کر دی 15 دن اور 5 راتوں تک دونوں لشکر میں زبردست جنگ ہوئی عثمانی فوج ایسے لڑی جیسے خود سلطان ان میں موجود ہو، لیکن دونوں فریق فیصلہ کن فتح حاصل نہ کر سکے، مراد پاشا نے تبریز میں سردی گزارنا مناسب نہ سمجھا اور وہ واپس دیار بکر چلے گئے، جہاں 5 اگست 1611ء کو سردار مراد پاشا وفات پا گئے، پہلے ان کی تدفین دیار بکر میں ہوئی لیکن بعد میں ان کے جسد خاکی کو استنبول منتقل کیا گیا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر تقریباً 90 سال ہو چکی تھی۔ عثمانی تاریخ میں ان کی بہت سی خدمات کے طور پر آج بھی انہیں ایک عظیم جرنیل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، تاہم جلالی بغاوتوں کو کچلتے وقت قتل عام کے الزامات بھی ان پر لگائے گئے تھے۔
مراد پاشا کی جگہ دیار بکر کے بیلربے ناصر پاشا وزیر بنے۔ 20 نومبر 1612ء کو صفویوں سے صلح کر لی گئی۔ یہ معاہدہ قانونی سلطان سلیمان القانونی کے دور کے اماسیہ معاہدے کے قریب تر تھا۔
صلح نامہ "سیتوا توروک" کے بعد سلطان احمد اول نے 11 سال حکومت کی۔اس کے بعد سلطان احمد اول کی وفات سے پہلے سینوپ پر عیسائی قزاقوں کا حملہ ہوا، سینوپ دراصل سلطنت عثمانیہ کے اناطولیہ کی شمالی ساحد پر بحیر اسود کے کنارے واقع ایک اہم ترین بندر گاہ تھی۔ عثمانی سلطنت کے اس بندر گاہ شہر کی اہمیت تجارت اور فوجی رسد کے اعتبار سے بہت زیادہ تھی۔
یہ قزاق دنیپر ندی کے اطراف آباد یوکرینی مسیحی جنگجو تھے جو عثمانی سلطنت کے ساحلی شہروں پر وقتاً فوقتاً حملے کرتے رہتے تھے۔ کوساک قزاق بحری جہازوں میں سوار ہو کر بحیراسودعبور کرتے اور عثمانی ساحلی شہروں پر اچانک حملے کرتے تھے۔ 1613ء میں انہوں نے سینوپ پر حملہ کیا۔ جو کہ عثمانی دفاع کے لحاظ سے اس وقت کچھ کمزور ہو چکا تھا۔ اس حملے میں شہر کو خوب لوٹا گیااوراسے تباہی کا نشانہ بنایا گیا، اس حملے کے نتیجے میں سینوپ کو شدید نقصان پہنچا متعدد عمارت نظرِآتش کر دی گئیں اور شہری آبادی کو سخت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ عثمانی حکومت اس حملے سے بہت سیخ پا ہوئی اور بعدازاں کوساک قزاقوں کے خلاف متعدد بحری کاروائیاں بھی کی گئیں۔ یہ حملہ عثمانی سلطنت کے شمالی ساحل کی کمزور بحری نگرانی کو ظاہر کرتا ہے جسے بعد میں بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے
پھر 23 ذیقعد 26 ہجری بمطابق 22 نومبر 1617ء کو سلطان احمد اول نے 28 سال کی عمر میں وفات پائی وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً 27 سال اور 7 ماہ تھی اور وہ ابھی بہت جوان تھے۔
ان کی کم عمری میں وفات کے باعث اس کے بعد نابالغ سلاطین تخت پر بیٹھے۔ سلطان احمد دراصل سلطان سلیمان القانونی کے بعد تخت نشین ہونے والے پہلے ایسے بادشاہ تھے یعنی کہ سلطان تھے جو سنجیدگی سے سلطنت کے امور میں دلچسپی لینے لگے تھے۔ وہ تفریح عیش و عشرت میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ وہ زیادہ تر اپنا وقت ریاستی اور فلاحی امور پر سرف کرتے تھے۔ اگرچہ وہ کسی فوجی مہم پر نہیں گئے لیکن ادر نے بورصہ جیسے مقامات پر جا کر با قاعدگی کے ساتھ معائنہ کیا کرتے تھے۔ وہ محل میں خواتین کی ریاستی امور میں مداخلت کو بالکل بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
History In Urdu