ایک عام سا عثمانی سپاہی اٹلی کے لوگوں کا ہیرو کیسے بنا؟
کیسے اس ینی چری سپاہی نے اٹلی کے ایک پورے گاؤں کو ڈاکوؤں سے کیسے بچایا؟
اور آخر کیوں 350 سال گزر جانے کے باوجود اٹلی کےگاؤں "موینا" میں وہاں کے مقامی لوگ اس عثمانی سپاہی کی یاد میں عثمانی فوج کی وردی پہن کر اس سپاہی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں؟
یہ 1683 عیسوی کا واقعہ ہے جب سلطنت عثمانیہ کا ایک زخمی سپاہی "حسن" اٹلی کے گاؤں "موینا" میں زخمی حالت میں داخل ہوا ۔گاؤں کے لوگ نرم دل تھے، انہوں نے حسن کی دیکھ بھال کی اور اس دوران جاگیرداروں کے کچھ بدمعاش اس گاؤں میں داخل ہوئے اور انہوں نے اہل علاقہ سے بھاری ٹیکس وصول کیا۔ حسن نے جب دیکھا کہ اس گاؤں کے لوگ کس قدر کمزور ہیں تو اس نے اپنی فوجی مہارتیں انہیں سکھلانے کا فیصلہ کیا۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ آخر ایک عثمانی سپاہی یہاں پہنچا کیسے؟
حسن دراصل کوئی عام سپاہی نہیں تھا۔ بلکہ وہ سلطنت عثمانیہ کی سب سے الیٹ فورس جینی سیریز کا حصہ تھا جس کہ بل بوتے پر عثمانیوں نے کئی سو سال تک فتوحات حاصل کیں، ان سپاہیوں کی سخت ترین ٹرینگ کی جاتی تھی اور انہیں عربی، فارسی سمیت متعدد دیگر زبانیں بھی سکھائی جاتی تھی۔ اس دوران سلطان محمد رابع سلطنت عثمانیہ کہ سلطان تھے۔ سلطان کے حکم پر ان کے وزیر "کار مصطفیٰ پاشا" حسن اور دیگر ینی چری سپاہیوں کی فوج کے ساتھ ویانہ کی جانب ایک اہم جنگ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس وقت سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر تھی اور عثمانی سلطان کی کوشش تھی کہ عثمانی سلطنت کو یورپ تک بڑھایا جائے۔ حسن اور اس کے ساتھیوں کا اب ایک ہی مقصد تھا کہ وہ ویانہ پر قبضہ کریں اور عثمانی سلطنت کو یورپ کے قلب تک بڑھائیں۔ جلد عثمانی فوج ویانہ کی دیواروں کے باہر جا پہنچے اور عثمانیوں نے ویانہ کے شہر کو گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران حسن جنگ کے میدان میں فرنٹ لائن پر تھا۔ اس دوران حسن اور باقی عثمانی فوج نے ویانہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ کہ 12 ستمبر کو ایک خوفناک واقعہ پیش آیا۔ جب یورپ سے مقدس رومی سلطنت اور اس کے اتحادیوں نے عثمانیوں کے خلاف ایک متحدہ حملہ کیا اور ان کا مقصد "ویانا" کو عثمانی حملے سے بچانا تھا۔ اس خوفناک حملے میں حسن گر کر بے ہوش ہو گیا اور جب اس نے ہوش سنبھالا تو اس نے خود کو زخمی حالت میں پایا۔ جلد حسن کو ایک گھوڑا دکھائی دیا اور وہ گھوڑے پر سوار ہوا اورگھوڑا حسن کو اٹلی کے ایک گاؤں "موینا" میں لے آیا۔ گاؤں والوں نے اس زخمی کو دیکھا تو انہیں اس پر رحم آیا۔ جہاں گاؤں کے شفا خانے میں حسن کی دیکھ بھال کی جانے لگی۔ اب چونکہ حسن بہت سی زبانیں بولنا جانتا تھا اس لیے اس نے اطالوی زبان بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ بولنا شروع کر دی۔ یہاں اس گاؤں میں اس نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی اور ایک نئی زندگی کی شروعات ہوئی۔
کہ اس دوران جاگیرداروں کی فوج کا ایک حصہ اس گاؤں میں داخل ہوا اور انہوں نے جو ہاتھ لگا لوٹ لیا اور گاؤں والوں سے ٹیکس کی رقم بھی لے کر وہاں سے چلے گئے۔ حسن یہ سب دیکھتا رہا ۔اس نے گاؤں والوں کو جمع کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ہم اس مصیبت سے نکل سکتے ہیں حسن کے الفاظ سے گاؤں والے بے حد متاثر ہوئے۔ اب چونکہ حسن ایک سابق "ینی چری" سپاہی تھا اس لیے اس نے گاؤں کے مردوں کو لڑنے کے تمام ہنر سکھائے اور جب مقرر وقت میں جاگیرداروں کی فوج اس گاؤں میں ٹیکس لینے کے لیے آئی تو حسن نے گاؤں کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جلد جاگیرداروں کی یہ فوج بھاگ کھڑی ہوئی۔ اہل علاقہ حسن کی اس کارکردگی پر اس قدر خوش ہوئے کہ وہ ہر سال حسن کے اعزاز میں ایک سالانہ میلے کا انعقاد کرتے۔یہاں تک کہ آج بھی اٹلی کے اس گاؤں جو کہ اب ایک شہر بن چکا ہے، میں حسن کے اعزاز میں ایک ریلی نکالی جاتی ہے جس میں نوجوان عثمانی ینی چری فوج کا لباس پہن کر عظیم عثمانی سپاہی حسن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
History In Urdu