Rise of the Ottoman Empire

اسلامی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک قائم رہنے والی سلطنتوں میں سے ایک سلطنت سلطنت عثمانیہ تھی۔ جس نے کئی صدیوں تک اسلامی دنیا پر حکومت کرتے ہوئے اس نے یورپ میں ویانہ تک کی سرزمین پر اسلامی پرچم لہرایا تھا ۔تا ہم اس عظیم سلطنتِ عثمانیہ کی ابتدا کیسے ہوئی؟

یہ ایک بڑی ہی دلچسپ تاریخ ہے آج کی اس ویڈیو میں ہم سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والی ان شخصیات کے بارے میں بات کریں گے جن کی بنائی ہوئی اس عظیم سلطنت نے تین براعظموں پر حکومت کی تھی۔ہم ابتدائی عثمانی تاریخ کا جائزہ لیں گے کہ کیسے خانہ بدوش ترک جنگجوؤں نے وسطیٰ ایشیاء کے میدانوں سے ہجرت کرتے ہوئے اناطولیہ میں اپنی سلطنت کی بنیاد ڈالی تھی۔

1071ء میں سلجوقیوں اور رومیوں کے درمیان ہونے والی جنگِ "ملازگرد" میں فتح کے بعد اناطولیہ پہلی بار مسلمانوں کے ہاتھ میں آیا۔ جہاں سلجوقیوں نے اپنے عظیم سلطان "الپ ارسلان" کی قیادت میں اناطولیہ کے بیشتر علاقوں کو فتح کرتے ہوئے یہاں اسلامی پرچم لہرایا اور پہلی بار ترکوں نے اناطولیہ میں ہجرت کرنا شروع کی۔ یوں اس فتح کے بعد ترکوں کا اناطولیہ کے ساتھ ایک خاص طرح کا رشتہ قائم ہو گیا۔

ملازگرد کی جنگ میں فتح کے بعد ایک صدی کے اندر اندر عظیم سلجوقی سلطنت کمزور ہوتے ہوتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی تھی اور سوائے اناطولیہ میں سلاجقہ روم کہ سلجوقیوں کا خاتمہ ہو چکا

تھا۔

1235 عیسوی میں مشرق سے اسلامی دنیا پر ایک نیا خطرہ منڈلانے لگا اور وہ خطرہ منگولوں کا تھا ۔بہت جلد دیکھتے ہی دیکھتے منگولوں نے ایرانی سطح مرتفع تک کے علاقوں کو فتح کرتے ہوئے یہاں منگول سلطنت قائم کر لی تھی۔ اناطولیہ میں موجود سلاجقہ روم کے سلطان "علاؤالدین کیقباد"کا دورِ حکومت سلجوقیوں کے عروج کا دور تھا ۔کیونکہ سلطان کیقباد اول کے دور حکومت میں سلجوقی سلطنت فوجی اور تعمیراتی اعتبار سے گولڈن ایج آف سلاجقہ روم کہلاتی تھی۔ یہیں سے سلطنت عثمانیہ کے آباؤ اجداد کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔

تیرھویں صدی عیسویٰ میں منگولیا سے چنگیز خان اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اسلامی دنیا کو تباہ و برباد کرتے ہوئے وسطیٰ ایشیاء تک کے علاقوں کواس نے فتح کر لیا۔ چنگیز خان کے ترکمنستانی علاقوں پر حملے کے نتیجے میں وسطیٰ ایشیاء اور ایران کے بہت سے خانہ بدوش قبائل اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کر ہجرت کے لیے اناطولیہ کی طرف نکل پڑے۔

انہی ترک قبائل میں سے ایک ترک قبیلہ کائی تھا ۔ترکمانستان سے تعلق رکھنے والے اس کائی قبیلے کو گیارویں صدی عیسوی کے ایک مسلمان مورخ محمود الکاشگری نے اسے ان 22 ترک قبائل میں سے ایک کے طور پر منسوب کیا ہے جو کہ اوغوز خان کے نسب سے نکلے تھے ۔ جو ان تمام ترکوں کا جدہ امجد تھا یوں عثمانی خاندان کا تعلق براہ راست عظیم اوغوز خان کے خون کے ساتھ ملتا ہے۔

1220ءکے دوران کائی قبیلے نے مغرب میں اناطولیہ کی جانب ہجرت شروع کی اس ہجرت کے دوران کائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ 1227 عیسوی میں شمالی شام میں دریائے فرات کو عبور کرتے ہوئے ڈوب کر شہید ہو گئے ۔سلیمان شاہ کی موت کے بعد ان کا بیٹا ارتغرل غازی کائی قبیلے کا نیا سردار بنا اور وہ اپنے قبیلے کے ساتھ اناطولیہ میں سلاجقہ روم کے اس وقت کے سلطان کیقوباداول کے پاس چلا گیا۔ اس دوران سلاجقہ روم میں کائی قبیلے سے پہلے بھی بہت سے ترک قبائل اناطولیہ میں موجود تھے جو سلجوقی سلطان کو جنگجو مہیا کرتے تھے اور یہ سلجوقی سلطان کے لیے غیر مسلموں کے علاقوں پر حملے کیا کرتے تھے۔ یوں اب ارتغرل غازی اور ان کے جنگجو سلاجقہ روم کے سائے تلے پروان چڑھنے لگے۔

1230ء میں ارتغل غازی نے اپنے 400 غازی جنگجوؤں کے ساتھ سلطان علاؤ الدین کیقوباداول کی مدد کی۔ جب ان کا خوارزمی شہزادے جلال الدین کے ساتھ یاسمین کی جنگ میں مقابلہ ہوا جس میں سلجوقی سلطان کو شاندار فتح حاصل ہوئی اور جلال الدین کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اس جنگ میں ارطغرل غازی اور ان کے جنگجوؤں کی شاندار بہادری کے صلے میں سلجوقی سلطان نے کائی قبیلے کو اپنی سلطنت کے مغربی سرحدوں کے قریب "دیار بکر" کے پاس زمین تحفے کے طور پر دی۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد سلطان علاؤالدین کے حکم پر ارتغل غازی کو انقرہ کے قریب سوغوت کا علاقہ دیا گیا۔ جو کہ اب عثمانیوں کا مستقل گھر بننے جا رہا تھا ۔یوں اگلے 20 سالوں تک قائیوں نے اپنی ہمسائی نیقیا کی سلطنت پر چھاپے مارنا شروع کیے۔ اس دوران بے شمار غازی جنگجو اور ترک قبیلے ارطغرل غازی کی صفوں میں شامل ہو گئے۔

ادھر سلاجقہ روم کا سنہری دور سلطان علاؤالدین کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ کیونکہ چنگیز خان کے بیٹے اور جانشین اوغدائ خان کی منگول فوجیں اب اناطولیہ کی دہلیز پر کھڑی تھیں ۔ کیونکہ نئے سلجوقی سلطان کیخسرو دوم نےاپنے مرحوم والد کی جنگی اور سفارتی صلاحیتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے اپنے دور حکومت کا آغاز منگولوں کے خلاف جنگی تیاریوں کے ساتھ کیا ۔سلجوقی سلطان نے منگولوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے 1243 ء میں اس نے منگولوں کے خلاف ایک مسلم عیسائی اتحاد تشکیل دیا جہاں جارجیا کی عیسائی فوج بھی سلجوقیوں کے ساتھ مل کر منگولوں کے خلاف کھڑی ہوئی اور منگولوں اور سلجوقیوں کے درمیان کوس داغ کی جنگ ہوئی جس میں سلجوقیوں کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور بے شمار علاقوں پر منگولوں کا قبضہ ہو گیا۔اس شکست کے بعد سلجوقی سلطان کیخسرو دوم منگولوں کا کٹھ پتلی حکمران بن گیا اور بقیہ صدی میں سلجوقی سلطان کا اختیار آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا ۔

اسی وجہ سے سلطنت کے آس پاس خود مختار گورنروں اور سرداروں نے اپنی اپنی خود مختار ریاستیں قائم کر لی تھی اور یوں جیسے جیسے سلجوقی سلطنت زوال کی طرف جا رہی تھی کائی قبیلہ آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا اور اناطولیہ میں منگولوں کے کنٹرول کے بعد بے شمار ترک ہجرت کرتے ہوئے کائیوں کے پاس چلے آئے اور یوں کائی قبیلہ فرار ہونے والے ترکوں کی ایک پناہ گاہ بن گیا ۔ یہاں اناطولیہ میں تقریبا پانچ دہائیوں کے بعد ارتغل غازی 1280 ء میں قدرتی وجوہات کی بنا پر وفات پا گئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کا بیٹا عثمان غازی کائیوں کا نیا سردار بنا ۔

1280ء کی دہائی کے آغازمیں عثمان غازی اور انا گول کے بازنطینی ٹیکفور "آیا نیکولا" کے درمیان کچھ تنازعات ہوئے جسکی وجہ سے عثمان غازی اور آیا نیکولا کے درمیان جنگ ہوئی جس میں آیانیکولا کو شکست ہوئی۔ یوں 1280 ء میں پہلی بار عثمان غازی نے کولاچہ حصار قلعے پر رات کو حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا اور یوں عثمانی تاریخ میں پہلی بار عثمانیوں نے قلعے پر حملہ کر کے اسے فتح کیا تھا۔اس فتح کے بعد بازنطینی سرزمینوں میں مزید جنگوں کے لیے عثمان غازی کو اب ایک محفوظ اڈہ مل چکا تھا۔

1288 عیسوی میں انا گول اور کرا چاہیسار کے ٹیکفوروں نے ایک بار پھر عثمان غازی کو فتوحات سے روکنے کے لیے عثمان غازی کے خلاف جنگ لڑی اور اس جنگ میں دوبارہ بازنطینیوں کو شکست ہوئی ۔ یہ شکست بازنطینی سلطنت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی اور ایک طویل محاصرے کے بعد عثمان غازی نے کار چاہیسار قلعے کو فتح کر لیا ۔یوں اب اگلے چند سالوں میں کائی قبیلے نے آہستہ آہستہ بیتھینیا کے بازنطینی شہروں پر حملہ کرتے ہوئے انہیں کائیوں کی ملکیت میں شامل کر لیا ۔ان بے شمار فتوحات نے کائیوں کی شہرت کو اناطولیہ میں پھیلا دیا تھا اور اس شہرت کی وجہ سے اناطولیہ اور دیگر اسلامی دنیا سے بے شمار غازی جنگجو جوک در جوک عثمان غازی کے پاس جمع ہونا شروع ہو گئے تاکہ وہ دشمن کے خلاف فتوحات حاصل کر کے مال غنیمت حاصل کر سکیں۔

ان فتوحات کے بعد عثمان غازی نے آہیوں کے مذہبی رہنما شیخ ادبالی کی بیٹی بالا کے ساتھ شادی کرلی۔ عثمانی روایات میں آتا ہے کہ ایک رات جب عثمان غازی نے شیخ ایدابالی کے گھر میں قیام کیا تو اس نے ایک خواب دیکھا جس میں عثمان کے سینے سے ایک بڑا درخت نکلتا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے آسمان پر اپنے پتوں اور شاخوں سے پھیل جاتا ہے۔ اگلی صبح جب عثمان غازی نے اپنا یہ خواب اپنے شیخ ادبالی کو بتایا تو شیخ ایدبالی نے اسے بتایا کہ یہ اس چیز کی علامت ہے کہ اللہ تعالی تمہاری اولاد اور اس کے جانشینوں کو زمین پر ایک بڑی حکومت دے گا۔

جیسے جیسے کائی قبیلہ طاقتور ہوتا گیا سلاجقہ روم کے اندر کمزوریاں دن بدن بڑھتی ہی چلی گئیں۔ کیونکہ اناطولیہ میں موجود ترک سردار سلجوقی سلطان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے جو کہ ایلخانی منگولوں کا ایک کٹھ پتلی حکمران تھا۔ یوں اس صدی کے آخر تک یعنی کہ 1296 عیسوی تک اناطولیہ کے بیشتر امراء اور سرداران نے منگول تسلط سے آزاد ہونے کا ارادہ کر لیا۔

اور 1296 عیسوی میں سلجوقی سلطان کو ایلخانی منگولوں سے آزادی حاصل کرنے کی ناکام سازش کی وجہ سے منگولوں نے قید کر دیا تھا اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف گورنروں اور سلطنت کے اُچ سرداران نے جزیرہ نما میں اپنی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے آزاد حکومتیں بنا لیں ۔

یوں 1299 عیسوی میں جمعہ کی نماز کے دوران عثمان غازی نے بھی پایہ تخت قونیه سے اپنی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے حکم دیا کہ سلجوقی سلطان کے بجائے خطبے میں اس کا نام پڑھا جائے اور یہیں سے سلطنت عثمانیہ کا آغاز ہوتا ہے۔

1301 عیسوی میں عثمان غازی نے اپنی برق رفتار فتوحات کے ساتھ انہوں نے انا گول ،کوپری حسار اور ینی شہر کےقصبوں پر حملہ کر کے انہیں عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا اور ینی شہر کے قصبے کو عثمانی دارالحکومت میں تبدیل کر دیا گیا اور خود عثمان غازی اپنے خاندان کے ساتھ اس شہر کی دیواروں کے اندر منتقل کر دیے گئے۔ اس فتح کے بعد بہت سے مسلمان خاندان اور غازی فوجیوں کے خاندانوں نے اس نئے فتح ہونے والے شہر میں ہجرت کر کے رہائش اختیار کر لی اور یوں پہلی بار ترک اپنی خانہ بدوش روایات کو چھوڑ کر شہروں میں آباد ہونا شروع ہوئے اور اسی سال یعنی کہ 1301 عیسوی کے اختتام سے پہلے عثمانی افواج نے بڑے بازنطینی شہر نیقیا کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی یہ وہ تاریخی شہر تھا جسے سلجوقیوں نے 1097 عیسوی میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران اسے کھو دیا تھا اور اس کے بعد سے اناطولیہ میں بازنطینی سلطنت کے لیے یہ شہر علاقائی دارالحکومت کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ۔یوں اپنے اناطولیائی صوبوں کو نظر انداز کرنے اور اپنی زمینوں میں متعدد ترک سرداروں کے قبضے کو روکنے میں ناکام رہنے کے بعد عثمان غازی کا نیقیا کی ناکہ بندی بازنطینی شہنشاہ کے منہ پر ایک زوردار تماچہ تھا۔ جس پر بازنطینی شہنشاہ اینڈرونیکوس نے جنگی تیاریوں کا حکم دیا اور 1302 عیسوی کے موسم گرما کے دوران اس نے ایشیاء مائنر میں اپنی کھوئی ہوئی سرزمینوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی مہم کا اعلان کیا۔ شہنشاہ کے بیٹے اور شریک حکمران مائیکل نے 1302 عیسوی کے شروع میں ان علاقوں میں اپنی ایک فوجی مہم شروع کی تھی تا ہم اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ، اس کے بعد شہنشاہ قسطنطنیہ نے2 ہزار کی کمک قسطنطنیہ سے بازنطینی کمانڈر موزالون کی قیادت میں روانہ کی جو ان علاقوں میں موجود مقامی بازنطینی ٹیکفوروں کی افواج کے ساتھ مل کر نیقیا کی ناقہ بندی کو ختم کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا موزالون بہت جلد یالوا کے ساحل میں اپنی فوج کے ساتھ اترا اور وہ جنوب کی طرف بورسہ شہر کی جانب روانہ ہوا تاکہ وہاں وہ دوسرے عیسائی ٹیکفوروں کے ساتھ مل کر عثمان غازی کے خلاف جنگی تیاریاں کر سکے لیکن عثمان غازی کو جلد اس حملے کی خبر مل گئی اور انہوں نے بازنطینی کمانڈر مظالون کو راستے میں ہی روک لیا تھا۔

اور قونِ حصار کے قریب عثمان غازی اور رومیوں کے درمیان جنگ ہوئی ۔عثمان غازی کے پاس اس وقت پانچ ہزار بہترین گھڑ سوار جنگجو موجود تھے۔ عثمان غازی نے بازنطینی کمک کو ختم کرنے کے لیے 27 جولائی 1302 عیسوی کو انہوں نے مظالون کا راستہ روکا۔ مظالون کا لشکر پیدل سپاہیوں پر مشتمل تھا جن میں سے تقریبا ایک ہزار سپاہی حال ہی میں بلکان سے کرائے کے فوجیوں کے طورپربھرتی کیے گئے تھے۔دری اثنا عثمان غازی کی افواج مختلف ترک سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ جلد عثمان غازی نے حملے کا حکم دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ترک بازنطینیوں کےساتھ ٹکرا گئے۔ اس جنگ کے دوران بہت جلد وہ سپاہی جو کہ کرائے کے بھرتی کیے ہوئے تھے انہوں نے قبل از وقت پسپائی اختیار کر دی جس کی وجہ سے باقی بازنطینی فوج اب ترکوں کے رحم و کرم پر تھی اور بے شمار بازنطینی اس معرکے میں مارے گئے۔ جبکہ باقی کا لشکر شمال کی طرف نیکو میڈیا کی جانب پیچھے ہٹنے لگا یوں سلطنت عثمانیہ کی تاریخ میں یہ پہلی جنگ تھی جب عثمانیوں نے بازنطینیوں کو میدان جنگ میں شکست دی تھی۔

یوں اس فتح کے بعد عثمان غازی نے اپنی فوج کے ساتھ بیتھینیا کے دیہی علاقوں میں اپنی چھاپہ مار کروائیوں کو شروع کرتے ہوئے بے شمار بستیوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ ساحلی شہر گیملک پر بھی عثمان غازی نے حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ یوں جنگ کے ایک سال بعد بازنطینی ٹیکفور پروسہ، کائٹ، اڈرانوس یعنی کہ اورہانلی، کیسٹل اور اولوبت کے عیسائی ٹیکفوروں نے عثمانیوں کے خلاف ایک آخری کوشش کے طور پر عثمان غازی کو پسپا کرنے اوراناطولیہ میں بازنطینی سلطنت کو دوبارہ قائم کرنے کی آخری کوشش کے طور پر جنگی تیاریاں شروع کیں۔

بازنطینی گورنروں نے عثمانی دارالحکومت "ینی شہر" پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب عثمان غازی کو دشمن کے اس حملے کی خبر ملی تو انہوں نے فوری طور پر پانچ ہزار پر مشتمل فوج جمع کی اور ینی شہر کے قریب ڈیمبوس کے ایک قریبی پہاڑی درے پر بازنطینی افواج سے ان کا مقابلہ ہوا۔ اگرچہ اس جنگ میں عثمان غازی کے مقابلے میں بازنطینی لشکر کی تعداد زیادہ تھی ۔لیکن دونوں لشکر ایک تنگ گھاٹی میں لڑنے پر مجبور تھے۔اس لیے بازنطینی اپنی تعداد کا فائدہ اٹھا کر اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے۔ یہ جنگ دونوں فریقین کے لیے ایک خون ریز جنگ ثابت ہوئی جس میں کیسٹل قلعے کے بازنطینی ٹیک فور اور عثمان غازی کے بھتیجے اے دوگ دو بے بی اس جنگ میں شہید ہونے والوں میں شامل تھے ۔بالاخر عثمان غازی اور ان کے بیٹے اور خان کے ماتحت عثمانی فوجوں کے تابڑ تور حملوں نے آخر کار بازنطینی فوج کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس طرح ڈیمبوس کی جنگ ایک بار پھر عثمانیوں کی فتح پر ختم ہوئی۔ جنگ کے بعد بانطینی ٹیکفور اور ان کی فوجیں ایک دوسرے سے الگ ہو گئیں اور عثمان غازی کے غضب سے اپنے علاقوں کا دفاع کرنے کی آخری امید کے ساتھ وہ واپس اپنے قلعوں میں راونہ ہوئے۔

تا ہم جنگ کے بعد کے کئی مہینوں میں عثمان غازی اور ان کے بیٹے اور خان کی قیادت میں عثمانی فوجیں تیزی کے ساتھ ایک ایک کر کے انہوں نے کائٹ، کیسٹل اور الو بعد کے قصبوں کا محاصرہ کر کے ان پر قبضہ کر لیا، بیتھینیا میں بازنطینیوں کی موجودگی کو مزید کم کر دیا گیا اور یوں ان علاقوں میں عثمان غازی ایک بار پھر نیقیا کی ناکہ بندی میں مصروف ہو گئے۔

Check Also

Osman I – Part 4

اناطولیہ میں موجود سلجوقی سلطنت کا پہلا الحکومت "ازنیک" شہر تھا۔ جو کہ پہلی صلیبی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms