Mongol Succesion

آخر منگول کامیاب کیوں تھے؟

سب سے پہلے جوجواب میرے ذہن میں آتا ہےوہ منگولوں کی برق رفتاری ہے ،جو گھنٹوں کا فاصلہ منٹوں میں طے کیا کرتے تھے۔اور منگول تیر اندازی اور تلوار بازی میں بھی کافی مہارت رکھا کرتے تھے،جو انکی کامیابی کی ایک بڑی وجہ تھی۔تاریخ میں بہت سی سلطنتیں معرض وجود میں آئیں لیکن جو فتوحات منگولوں نے حاصل کیں شاید ہی کسی اور سلطنت نے حاصل کیں ہوں۔منگول کیوں ہر جنگ میں کامیاب ہو جایا کرتے تھے۔چلیے دیکھتے ہیں کہ منگول حملے سے پہلے کیسے لشکر کی تیاری کیا کرتے تھے۔

منگولوں میں ایک قبائیلی مجلس جسے قرولتائی کہا جاتا تھا منعقد ہوتی تھی۔یہ قرولتائی منگولوں کے دار الحکومت قراقرم میں ہوا کرتی تھی۔کن کن شہروں پر حملے کرنے ہیں ،کیسے حملے کرنے ہیں ،اور کتنی فوجیں روانہ کرنی ہیں ان سب کا فیصلہ اس قرولتائی میں کیا جاتا تھا۔اس مجلس کے زیرِ انتظام کھیل منعقد ہوا کرتے تھے جہاں منگول کھڑ سوار اپنے جو ہر دیکھایا کرتے تھے۔

منگول اپنے بچوں کو بچپن ہی سے تیر اندازی ،اور گھڑ سواری کی تربیت دیا کرتے تھے۔

چنگیز خان کےخان بننے کے بعد اس نے منگول فوج پر خاص توجہ دی۔منگول فوج کا سب سے چھوٹا یونٹ"اربان "ہوتا تھا جس میں 10منگول ہوتے تھے،جو مختلف قبیلوں،خاندانوں،سے لیے جاتے تھے،ان میں منگول خان کی وفاداری کوٹ کوٹ کے بھری جاتی ،یہاں تک کہ سونا بھی انکی منگول خان سے وفاداری تبدیل نہیں کر سکتا تھا۔اس اربان یونٹ میں میڑت پر پرموشن کی جاتی۔اگر اس یونٹ کا ایک سپاہی بھی جنگ کے دوران بھاگ جاتا تو باقی کے 19 سپاہیوں کو خان کے حکم پر قتل کر دیا جاتا۔جنگ کے دوران ہر منگول جنگجو کے پاس 3 سے 5گھوڑے ہوا کرتے تھے۔جب ایک گھوڑا تھک جاتا تو منگول چلتے گھوڑے سے دوسرے گھوڑے پر سوار ہو جاتے۔اس "اربان"یونٹ کے سپاہی ساری زندگی خان کے لیے وقف کیا کرتے تھے۔

اس کے بعد 10اربان یونٹ مل کرایک"جیگن"یونٹ بنتا تھا ،جس میں 100منگول سپاہی ہوتے تھے۔

پھر 10"جیگن"یونٹس مل کر ہزار سپاہوں کی ایک رجمنٹ بنتی تھی جو کہ"مینگم"کہلاتی تھی۔

اور10"مینگم"یونٹ مل کر 10ہزار جنگجوؤں کا ایک بڑا دستہ بنتا تھا،جو کہ"تومان"کہلاتا تھا۔یہ منگول فوج کا سب سے بڑا دستہ ہوتا تھا۔اور اکثر منگول لشکر 2 سے 3 تومانوں پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔

کہیں بھی حملے سے پہلے منگول قرولتائی کی مجلس طلب ہوتی جہاں حملےکی تمام تیاریاں کیں جاتیں۔منگول جاسوس حملے کی جگہوں اور دشمن کی فوج کے متعلق معلومات فراہم کرتی۔اس کے علاوہ منگول جاسوس دشمن علاقوں میں منگول فوج کی خوفناک ہولناکیوں کی داستان سناتے کہ منگول ناقابل شکست اور انتہائی ظالم اور بے رحم ہیں،جس سے دشمن فوج اور عوام جنگ سے پہلے یا تو منگولوں کے آگے ہتھیار ڈال دیتی یا اگر منگولوں سے جنگ کرتی بھی تو شکست کھا جاتی۔

اس کے علاوہ منگولوں کے پاس کمال کے انجینئیرز ہوتے تھے،جو منجنیقوں اور دریا پر پلوں کو کافی مہارت سے بنایا کرتے تھے۔

جب منگول لشکر حملے کے لیے نکلتا تو ان میں آپس میں رابطے کے لیے بہترین انتظام ہوتا۔منگول آگ کے دھوویں اور ڈرم ڈھول کے زریعے ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے۔

منگول لشکر کی حفاظت کے لیے 70 میل کے فاصلے پر چاروں طرف گھڑ سوار ہوتے تھے،جن کا کام دشمن کی فوجوں پر نظر رکھنا تھی ،شائد یہی وجہ تھی کہ کوئی بھی فوج منگولوں پر اچانک حملہ کر ہی نہی سکتی تھی۔

میدانِ جنگ میں منگول فوج 5 حصوں میں تقسیم ہوتی تھی۔منگولوں کے پہلے 2 دستے گھڑ سوار نیزہ برداروں پر مشتمل ہوتے تھے۔جن کے پاس نیزوں کر علاوہ تیر اور تلواریں بھی ہوا کرتی تھیں۔انکے پیچھے 3 دستے تیر انداز گھڑ سواروں کے ہوتے تھے۔

جنگ کے دوران منگول دشمن پر ٹوٹ پڑا کرتے تھے۔چند منگول دستے دشمنوں کو گھیر لیتے اور دیکھتے ہی دیکھتے انکا خاتمہ ہو جاتا۔

بعض اوفات جب منگول دیکھتے کہ انکا دشمن انسے تعداد اور طاقت میں زیادہ ہے تو منگول اپنا سازو سامان چھوڑ کر میدانِ جنگ سے یوں بھاگتے کہ جیسے وہ ہار مان رہے ہوں ،لیکن یہ منگولوں کی ایک خاص چال ہوا کرتی تھی،جب دشمن منگولوں کے چھوڑے ہوئے مال کو جمع کر رہا ہوتا ،تو منگول پہلے سے زیادہ برق رفتاری کے ساتھ ان پر حملہ کر کے انہیں ختم کر دیتے۔

Check Also

Top5 Facts G

چنگیز خان جو تاریخ میں عظیم فاتح کے ساتھ ساتھ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms