1260ءمیں عین جالوت کے مقام پر منگولوں اور مملوکوں کے درمیان ہونے والی جنگ کوئی آخری جنگ نہ تھی۔عین جالوت کی شکست کے بعد بھی منگول اگلے50سالوں تک اپنے شکست کا بدلہ لینے کے لیے مملوک سلطنت پر حملے کرتے رہے۔آج کی اس ویڈیو میں ہم ایلخانی منگول اور مملوکوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کی تاریخ جانیں گے۔
1259ءمیں منگول خان "منگو"کی موت کے بعد منگول سلطنت مختلف حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ہلاکو خان اور اس کے جانشینوں نے قوبلائی خان سے ہمیشہ دوستانہ تعلقات قائم رکھے۔ہلاکوخان کی حکومت ایک وسیع خطے پر قائم تھی،جس کی سرحدیں آج کے تُرکی سے دریائے آمو تک پھیلی ہوئیں تھیں۔جو کہ "ایل خانی"سلطنت کہلاتی تھی۔
ہلاکو خان کے ہمسائیوں میں گولڈن ہورڈ،چغتائی اور نیگوداری سلطنت قائم تھی۔ہلاکو خان کی سلطنت کے جنوب میں مملوکوں کی حکومت تھی،جنہیں منگول ایلخانیوں سے ہمیشہ خطرہ رہتا تھا۔
عین جالوت کی جنگ میں منگولوں کو شکست دینے کے بعد مملوک سلطان "سیف الدین قطز"کو درباری سازشیو﷽ں نے قتل کر دیا ،جن میں سلطان رکن الدین بیبرس کانام بھی آتا ہے۔
سلطان سیف الدین کی وفات کے بعد رکن الدین بیبرس مملوکوں کے نئے سلطان بنے۔سیف الدین قطز منگولوں کے خطرےکو اچھی طرح سے جانتے تھے،اسی لیے انہوں نے اپنی پوری سلطنت کو منگولوں کے حملوں سے بچانے کے لیے تیار کیا۔
انہوں نے مملوک فوج کی تعداد میں اضافہ کیا،اور انہوں نےگولڈن ہورڈ، بازنطینی اور جینویوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے۔جس سے کہ بہت سے تُرک غلام انکے ہاتھ آئے۔سلطان بیبرس نے جاسوسی کا ایک وسیع نظام قائم کیا ،اور بہت سے جاسوس انہوں نے ایلخانی سلطنت میں غلط خبریں پھیلانےکے لیے بھیجے۔اس کے بعد انہوں نے سرحدوں میں موجود قلعوں میں جاسوسی کے نظام کو فروغ دیا ،اورسڑ کوں کو پختہ کروایا۔
اس کے بعد سلطان بیبرس نے مصر سے اپنی فوجوں کے ساتھ دمشق کی جانب پیش قدمی کی،کیونکہ انہیں جاسوسوں نے منگولوں کے حملے کی خبر دی تھی۔
منگول لشکر پیش قدمی کرتا ہوا مملوک سلطنت کی سرحد میں داخل ہوا،مملوک محافظوں نے اس لشکر کے خلاف کوئی مزاحمت نہ کی۔لیکن جیسے ہی یہ لشکر سرحد سے تھوڑا دور ہوا تو مملوک محافظوں کے متحد دستوں نے حملہ کر کے اس لشکر کو ختم کر دیا۔
اس کے بعد سلطان بیبرس نے اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا،اور انہوں نے عباسی خلافت کے ایک خلیفہ "محمد المنتنصر"کو خلیفہ بنا کر خلافت کو بحال کیا۔
1260ءمیں عین جالوت کی جنگ کے بعد ایک منگول لشکر جو کہ 6ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا۔ایک منگول کمانڈر بائیڈر کی کمان میں شام پر حملہ آور ہوا۔منگولوں کے اس لشکر کو حمس،حامہ، اور حلب کی متحدہ مملوک افواج نے حضرت خالد بن ولید کے مزار کے پاس شکست دی۔1260ء کے بعد یہ منگولوں کی مملوکوں کے ہاتھوں دوسری بڑی شکست تھی۔
اسی سال ہلاکو خان نے اپنے چچا زاد اور گولڈن ہورڈ سلطنت کے خان برکے خان کے ساتھ موجودہ آزربھائی جان کے مقام پر جنگ لڑی۔جس کے بعد فروری 1265ءمیں ہلاکو خان کی موت ہو گئی۔جس کے بعد اسکا بیٹا "اباقا خان"تخت نشین ہوا۔
منگولوں کی اس آپس کی خانہ جنگی سے فائیدہ اُٹھا کر،سلطان بیرس نے ہائفہ،ارسوف اور سسلی میں موجود عیسائی ریاستوں پر حملےکر کے ان سے بہت سے علاقے واپس چھین لیے۔
1268ءمیں بیبرس نے عیسائیوں سے انطاقیہ شہر چھین لیااور 1270سے1271کے درمیان جب اباقا خان گولڈن ہورڈ سلطنت اور نیگودیریوں کے ساتھ جنگ میں مصروف تھا،تو سلطان بیبرس نے عیسایوں سے کیراک اور بہت سے قلعے چھین لیے،جس پر عیسائیوں اور ایلخانی خان نے یورپ کے عیسائی بادشاہوں اور پوپ کو مصر کی مملوک سلطنت کے خلاف ایک نئی صلیبی جنگ کی دعوت دی تاکہ مملوکوں کو ختم کیا جا سکے۔
1271ءمیں انگلینڈ کا بادشاہ ایڈوڈ اور اباقا خان کا کمانڈر ساماگھڑ اپنی فوجوں کے ساتھ حملہ آور ہوئے،لیکن سلطان بیبرس کے آنے کی خبر سن کر منگول کمانڈر بنا لڑے ہی میدان ِجنگ سے بھاگ کھڑا ہوا،جبکہ بادشاہ ایڈوڈ کا لشکر بھی جنگ میں شکست کھا کر 1272ء میں واپس انگلینڈ چلا گیا۔
منگول کمانڈر مملوکوں سے بھاگ کر روم چلا گیا جہاں پر نیم خود مختار سلجوقی ریاست قائم تھی۔وہاں کے سلجوقی کمانڈر معین الدین سلیمان تھے۔سلاجقہ روم کے سلطان کیخسرو سوم تھے۔جو کہ ایک جوان سلطان تھے۔سلجوقی گورنر سلیمان نے ایلخانی کمانڈر کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنا چاہے۔لیکن جب اباقا خان نے اپنے بھائی ایجی کو نیا گورنر بنا کے بھیجا تو سلجوقی گورنر سلیمان کے لیے خراج کی رقم دینامشکل ہوگیا،لیکن پھر بھی انہوں نے بھاری ٹیکس لگا کر کسی طرح منگولوں کو ٹیکس کی رقم ادا کی۔سلجوق گورنر سلیمان نے اباقا خان کو ایجی کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔جسے اباقا نے تسلیم کر لیا لیکن اس نے اپنے بھائی کو واپس بلانے میں دیر کر دی۔جس پر سلجوقی گورنر سلیمان نے مملوک سلطان بیبرس سے مدد مانگ لی،اس دوران اباقا نے دونوں منگول گورنروں کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور ایک نئے گورنر "ٹوکا نویان" کو نیا گورنر بنا کر بھیجا۔ ٹوکا نویان نے خراج کی رقم کا سلجوقیوں سے مطالبہ کیا جسے دینے سے سلجوقیوں نے انکار کر دیا۔اس سے منگولوں کا خطرہ اناطولیہ میں بڑھنے لگا۔جبکہ سلجوقیوں کی فوجی طاقت نہایت کمزور تھی۔
1275ءمیں منگولوں کے ایک لشکر نے مملوک شہر البیرہ پر حملہ کیا لیکن اس سے پہلے ہی سلطان بیبرس اس حملے کے انتظار میں تھے۔کیونکہ انہیں سلجوقی گورنر سلیمان کی جانب سے خبر مل گئی تھی اسی لیے انہوں نے منگولوں کے محاصرہ شروع کرنے سے پہلے ہی حملہ کر کے اس لشکر کو ختم کر دیا۔
اسی دوران 1276ءمیں سلجوقی امیروں کی ایک جماعت سلطان بیبرس سے ملنے حمص آئی اور انہوں نے منگولوں کے خلاف سلطان سے مدد کی درخواست کی،سلطان بیبرس سلجوقیوں کی مدد کرنے کو راضی ہو گئے،اور انہوں نے1276 کے موسم سرما میں فوجوں کو جمع کیااور1277ءمیں وہ جنگ کے لیے روانہ ہوئے۔
جب سلطان بیبرس کا لشکر حلب کے قریب پہنچا تو بہت سے سلجوقی امیروں نے منگولوں کے خلاف بغاوت کر ڈالی۔جس پر اباقا خان نے ایک نیا لشکر ایک" ٹوڈآوان "کمانڈر کی کمان میں روانہ کیا جس نے ان تمام بغاوتوں کو کچل ڈالا۔
جس پر سلطان بیبرس نےحلب سے ایک لشکر دریائے فرات کی جانب روانہ کیا۔جبکہ مرکزی لشکر سلطان بیبرس کی کمان میں اپریل کے آخر میں اناطولیہ داخل ہوا۔جہاں پر 3ہزار کے ایک منگول لشکر جنگ کے لیے تیار کھڑا تھا،سلطان نے اس 3ہزار کے لشکر کو پسپا کیا اور انہیں معلوم ہوا کہ ساتھ ہی منگول کمانڈر "ٹوڈاوان"ایلبستان کے مقا م پر اپنی فوج کے ساتھ آرام کر رہا ہے۔
15ایپریل1277ءمیں دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں ،منگول کمانڈر کے پاس 14 ہزار کی بہترین فوج تھی۔جو کہ 11 دستوں میں تقسیم تھی۔
ٹوڈاوان کی فوج مملوک فوج کی تعداد کا سہی اندازہ نہ کر سکی ،اور انہیں اس بات کا بھی یقین نہیں تھا کہ سلطان بیبرس اس فوج کی کمان کر رہے ہیں۔
اس جنگ میں مملوکوں کی تعداد منگولوں سے زیادہ تھی۔جنگ کی شروعات ہوئی اور منگولوں کے بائیں دستوں نے پہلے تیروں کی بارش کی اور پھر حملہ کر دیا۔منگولوں کے ابتدائی حملوں سے مملوکوں کا تھوڑا بہت نقصان ہوا اور مملوک فوج کے ابتدائی دستے پسپا بھی ہونے لگے۔یہاں مملوکوں کی پویشن نازک ہو گئی،کیونکہ مملوکوں کے بے قاعدہ دستے فرار ہونے لگے۔
سلطان بیبرس نے یہاں حمص کے دستوں کو دوبارہ ترتیب دیا اور زاتی محافظوں کے ساتھ منگولوں پر حملہ آور ہوئے۔منگول مملوکوں کے اس حملے سے پسپا ہونے لگے۔ اور بہترین سپاہیوں کے ہوتے ہوئے بھی وہ مملوکوں کو نہ روک سکے ۔چند گھنٹون کی مزاحمت کے بعد مملوکوں نے منگولوں کو شکست دےدی اور ان کے ہاتھوں منگول کمانڈر بھی مارا گیا۔
اس جنگ کے بعد بیبرس نے سلیمان اور سلجوق سلطان سے رسد کی سپلائی کی درخواست کی لیکن انہوں نے منگولوں کے ڈر کی وجہ سے مدددینے سے انکار کر دیا۔کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ سلطان بیبرس منگول خان اباقا کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا۔
سلطان بیبرس کو بھی اس بات کا اندازہ تھا کہ دشمن کی سلطنت میں بغیر کسی رسد کے ذیادہ دیر رکا نہیں جا سکتا اور ان کو یہ بھی ڈر تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں مملوک سلطنت پر حملہ ہو سکتا ہے۔
اباقا خان کے سلجوقی ریاست میں داخل ہونے کے 5دنوں کے بعد سلطان بیبرس اپنی فوجوں کے ساتھ شام واپس چلے گئے۔اباقا خان اناطولیہ دیر سے پہنچا تھا اسی لیے وہ سلطان بیبرس کو پکڑنے میں ناکام رہا۔سلطان بیبرس کے نہ پکڑے جانے کا غصہ اس نے کیسیری اور ارزنوم شہر کو آبادی سمیت قتل کر کے نکالا،اس کے بعد اس نے سلجوق گورنر سلیمان کو قتل کر ڈالا۔
یہاں مملوک سلطان بیبرس کی ایلخانی منگولوں کے خلاف کامیاب جنگوں کا اختتام ہوتا ہے۔
کیونکہ جولائ1277ء کے شروع میں مصر کا شیر کہلوانے والے سلطان رکن الدین بیبرس کا انتقال ہو جاتا ہے۔سلطان بیبرس نے مملوک سلطنت کو بہت طاقتور اور مظبوط بنا یا تھا۔سلطان بیبرس کی وفات کے بعد انکا بیٹا تخت نشین ہوا،لیکن بہت جلد سلطان بیبرس کے بیٹے کو ایک اور مملوک "قالاوان"نے تخت سے اتار کر1279ءمیں تخت پر قبضہ کر لیا۔
اب یہ اباقا خان کے لیے بہترین موقعہ تھا اس کے لیے اس نے اپنے بھائی مونکے تیمور کو ایک زبر دست فوج دے کر روانہ کیا،جس نے نومبر 1280ءمیں شام کو تباہ کر ڈالا۔اس حملے میں اس کے ساتھ عیسائی فوج بھی شامل تھی۔
ستمبر 1281ءمیں مونکے تیمور واپس مملوک سلطنت میں داخل ہوا اور اس کے ساتھ 40 سے 50 ہزار تک آرمینی،منگول،جارجئین،اور سلاجقہ روم کے سپاہی شامل تھے۔اس کے علاوہ اباقا خان اپنی فوجوں کے ساتھ مملوک سلطنت میں داخل ہوا ،لیکن گولڈن ہورڈ سلطنت کی جانب سے حملے کی وجہ سے اباقا خان کو واپس جانا پڑا۔
مونکے تیمور اور مملوک سلطان قیلاوان کا سامنا 1281 ءمیں حمس کے مقام پر ہوا۔منگولوں کے حمس پہنچنے سے پہلے ہی مملوک سلطان حمس جا پہنچے،اور وہاں سلطان نے منگولوں کے خلاف اپنی فوج کو تیا کیا۔
منگولوں کے لشکر کے دائیں اور بائیں جانب عیسائی اور سلجوقی دستے شامل تھے،جبکہ منگول خود درمیان میں موجود تھے،
دوسری جانب مملوک لشکر حمس شہر کے باہر صف آرا تھا ،مملوک سلطان اپنے زاتی محافظوں کے ساتھ پہاڑی کی چوٹی پر موجود تھا۔منگول لشکر مملوک لشکر سے کئی گناہ بڑا تھا۔
29اکتوبر کی صبح کو منگول لشکر نمودار ہوا۔منگول رات بھر سفر کر کے تھک چکے تھے۔لیکن جلد منگولوں کے دائیں دستے نے مملوکوں کے بائیں دستے پر حملہ کر دیا۔منگولوں کےاس اچانک حملے سے پہلے تو مملوک دستہ ڈٹا رہا لیکن بہت جلد اس دستے نے پسپائی شروع کر دی۔یہاں تک کہ مملوکوں کے اس دستے کا رابطہ مرکزی لشکر سے ختم ہوگیا۔اس پسپائی کے دوران مملوکوں کے ابتدائی گھڑ سوار مارے گئے جبکہ باقی کے میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔
اس دوران منگولوں کے بائیں بازو نے مملوکوں کے دائیں بازو پر حملہ کر دیا۔منگولوں کے اس دوسرے حملے کا مملوک فوج نے منہ توڑ جواب دیا۔مملوک دستوں نے اس قدر تیز حملے کیے کہ منگول پسپا ہونے لگے اور اسی پسپائی کے دوران بہت سے منگول گھڑ سوار مارے گئے۔
مملوک مسلسل حملے کیے جا رہے تھے۔یہاں تک کہ منگولوں کا بائیاں بازو پسپائی اختیار کرتے ہوئے مرکزی لشکر تک آ پہنچا جس کی کمان "مونکے تیمور کر رہا تھا۔ مملوکوں نے اب منگولوں کو تین اطراف سے گھیر لی۔مونکے تیمور اس پسپائی سے اس قدر خوفزدہ تھا کہ وہ بھاگتے گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گیا،جسکی وجہ سے اب وہ منگول لشکر کی کمان نہیں کر سکتا تھا۔
اب منگولوں کا لشکر میدان جنگ سے بھاگنے لگا ،بھاگنے سے پہلے ہی بہت سے منگول مملوک سپاہیوں کی تلوار کا نشانہ بن چکے تھے۔جبکہ باقی میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ان میں سے بھی کچھ دریائے فرات کو عبور کرتے ہوئے مارے گئے جبکہ کچھ تپتے ہوئے صحرا کی گرمی کی نظر ہوئے۔
اُدھر مملوک سلطان قیلاوان پہاڑی پر موجود تھے جب منگولوں کا بائیاں بازوں واپس آ رہا تھا ،یہاں سلطان نے عقلمندی کی کہ انہوں نے اپنے جھنڈے نیچے اُتار دیے جس سے کہ منگول دستہ نے انہیں دیکھے بغیر واپس چلا گیا،اباقا خان اس شکست سے بہت غصے میں تھا اور اس نے اس شکست کا بدلہ اگلے سال لینا تھا،لیکن اگلے سال اپریل 1282ءمیں اباقے خان کی موت ہو گئی۔
اباقا خان کے جانشین بھی مملوک سلطنت پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔لیکن ایلخانی سلطنت کی بغاوتوں اور گولڈن ہورڈ سلطنت کے حملوں کی وجہ سے ایلخان خان مملوک سلطنت پر کبھی حملے نہ کر سکے۔اور یوں وقت کے ساتھ ساتھ ایلخان منگولوں کے مملوک سلطنت پر حملے کے خطرات جاتے رہے۔
اس کے بعد سلطان قیلاوان نےلیبیا میں موجود عیسائی قبضہ مافیا پر اپریل 1289ءمیں حملہ کر کے انہیں عرب سے نکال دیا۔
مارچ 1291 ءمیں اباقے خان کے بیٹے"آگون خان" کی موت کے بعد مملوک سلطان نے مسلم سر زمین میں قائم آخری صلیبی ریاست عکہ پر حملہ کر کے اسے عیسائیوں سے آزاد کروا لیا،اور یوں ارضِ مقدس پھر سے مسلمانوں کے قبضے میں آ گئی،سلطان کی اس فتح سے 200 سالوں سے جاری صلیبی جنگ کا اختتام ہوا۔لیکن اس فتح کے بعد سلطان کا انتقال ہو گیا۔ان کے بعد ال خلیل مملوک سلطنت کے نئے سلطان بنے،لیکن1293ءمیں انہیں قتل کر دیا گیا۔سلطان خلیل کے قتل کے بعد مملوک سلطنت میں سیاسی جنگ شروع ہو گئی۔
دوسری جانب الیخانی سلطنت میں آرگون خان کا بیٹا غازان خان تخت نشین تھا۔گو کہ غازان خان مسلمان نہیں ہوا تھا لیکن اس کی حکومت میں بہت سے منگولوں نے اسلام قبول کر لیاتھا۔اور یوں پہلی بار الیخانی سلطنت مسلمان ہوئی۔لیکن ایلخانی سلطنت کے مسلمان ہونے سے ان کی مملوک سلطنت کے خلاف پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
1299ءکی گرمیوں میں مملوکوں نے ایلخانی سلطنت پر حملہ کر کے ایک شہر کو تباہ کر دیا،جس کے نتیجے میں غازان خان نے علماء سے فتوہ لیا اور دسمبر 1299ءمیں اپنی فوج کے ساتھ جس میں جارجئین اورآمینئین فوج بھی شامل تھی دریائے فرات کے پاس پہنچے،اور چند دنوں کے بعد یہ لشکرحمص کے صحرا میں جا پہنچا،یہ وہ جگہ تھی جہاں 18سال پہلے ایلخانی کمانڈر مونکے تیمور کو مملوکوں نے شکست دی تھی۔
منگول22دسمبر کو حمص شہر کے باہر پہنچے ، جہاں مملوک لشکر بھی اگلی صبح کو میدان جنگ میں جاپہنچا۔منگول لشکر غازان خان کی کمان میں تھا،جبکہ اس کی فوج کا سپہ سالار قتلغ شاہ تھا۔
دوسری جانب کم عمر مملوک سلطان ناصر کا اپنے امیروں پر ہی کنٹرول نہ تھا۔
23دسمبر1299ء کی صبح کا سورج طلوع ہوا غازان خان مرکزی لشکر ،قطلغ شاہ دائیں پہلو اور ہیتم بائیں پہلو کی کمان کر رہا تھا۔
جنگ کی شروعات قتلغ شاہ کے جانب سے جنگی ڈھول بجانے سےہوئی جس سے مملوکوں کو یہ لگا کہ شاید غازان خان بائیں بازو کی کمان کر رہا ہے۔اور مملوک فوج نے حملہ کر دیا لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ غازان خان درمیان میں موجود ہے۔مملوک فوج کے حملے سے گھمسان کی جنگ ہوئی،دن 11 بجے سے رات گئے تک جنگ ہوتی رہی،اور آخر کار مملوک فوج بھاگ کھڑی ہوئی۔اس شکست کے بعد حمص نے بنا جنگ لڑے غازان کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔غازان نے شہر سے سلطان کا خزانہ اپنے قبضے میں لے لیا۔اور پھر غازان خان نے دمشق شہر کی جانب پیش قدمی کی،اہل دمشق نے بھی بنا لڑے ہتھیار ڈال دیے،مملوک فوج دمشق سے بھی بھاگ کھڑی ہوئی۔5فروری 1300ءمیں غازان خان اپنی فوج کے ساتھ واپس ایلخانی سلطنت چلاگیا،لیکن اس نے دمشق میں اپنے کمانڈر قتلغ شاہ کو فوج دے کر وہاں رہنے کا حکم دیا۔لیکن چند ماہ بعد وہ بھی واپس ایلخانی سلطنت میں واپس چلا گیا،اور مئی کے آخر تک مملوکوں نے سارے شہروں پر پھر سے کنٹرول حاصل کر لیا۔
مملوک سلطنت سے غازان خان کے واپس جانے کی وجوہات کا سہی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ،ہو سکتا ہے کی اس کی سلطنت کے مشرق میں نیگوداریوں نے حملہ کر دیا ہو جس سے کہ اس نے واپس جانے میں ہی عافیت سمجھی ہو،یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں اسکا تخت خطرے میں پڑ گیا ہو۔
1303ءمیں غازان خان نے ایک لشکر اپنے کمانڈر قتلغ شاہ کی کمان میں مملوک سلطنت کی طرف روانہ کیا۔لیکن اس لشکر کو مملوکوں نے شکست سے دی۔اگلے سال 1304ءمیں 34سال کی عمر میں غازان خان کی موت ہو گئی۔
اسکی موت کے بعد اسکا بھائی الجائیتو تخت نشین ہوا اور اس نے مملوک سلطنت پر ایک فیصلہ کن حملے کا حکم دیاجس پر 1312ءکے موسمِ سرما میں ایلخانی فوج مملوک شہرحلب پہنچی لیکن اس لشکر کو بھی پہلے لشکروں کی طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
1320ءمیں الجائیتو کے بیٹے "ابو سعید"نے مملوکوں کے ساتھامن معاہدہ کیا۔لیکن اب ایلخانی سلطنت کے زوال کے دن شروع ہو چکے تھے۔1335ءمیں ایلخانی خان ابو سعید کی وفات کے بعد بہت سے گورنروں امیروں نے خود مختار ریاستیں قائم کر لیں۔
1341ءمیں مملوک سلطان النصیر کی وفات کے بعد مملوک سلطنت میں بھی بغاوتیں ہونے لگیں۔
ایلخانی سلطنت کے ختم ہونے کے بعد اناطولیہ میں موجود ترک قبیلوں میں سے ایک قبلیے کے سردار عثمان غازی نے خو د مختار ریاست سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔جبکہ ایلخانی سلطنت کے اختتام کے بعد یہاں ایک مسلمان وار لارڈ تیمور لنگ نے قبضہ کر لیا۔
History In Urdu