کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ تقریباً 70 سال تک دنیا کے مختلف حصوں پر آندھی اور طوفان بن کرپے درپے فتوحات حاصل کرنے والے منگول آخر کیا کھایا کرتے تھے اور انکی رسد کا انتظام کیسے کیا جاتا تھا۔
آج کی اس ویڈیو میں ہم یہی جانیں گے کہ منگول جو کئی کئی دن گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر گزار دیا کرتے تھے۔اور اس دوران انکی خوراک کیا ہوا کرتی تھی جو ان وحشی منگولوں کو ذندہ رکھتی تھی۔
منگولیا کی زمین زراعت کے لحاظ سے قابلِ کاشت نہیں تھی ،اس لیے منگولوں کا گزر بسر جانوروں پر ہی ہوا کرتا تھا۔ان جانوروں میں گھوڑے،بکریاں ،بھیڑیں ،گائے اور اونٹ ہوا کرتے تھے۔
منگولیا میں گرمی کا موسم منگولوں اور انکے جانوروں کے لیے کسی جنت سے کم نہ تھا،کیونکہ برف پگھلنے کے بعد جانوروں کے چڑنے کے لئے نئی گھاس اُگتی تھی۔اس موسم میں منگولوں کے جانور خوب پلتے بڑھتے اور انکے ریوڑوں میں اٖضافہ بھی ہوتا۔منگول ان جانوروں سے ملنے والے دودھ سے دہی اور پنیر بناتے تھے۔اس دوران اضافی پنیر سردیوں کے لیے ذخیرہ کر لیا جاتا تھا۔منگول جنگجو جانوروں کا تازہ دودھ پی لیتے اور باقی کے دودھ کو شراب کے ساتھ خمیر کر کے سردیوں کےموسم کے لیے ذخیرہ کر لیتے۔
منگول سردیوں کے 9ماہ کے طویل موسم میں ذخیرہ کیا ہوا خمیر دودھ اور پنیر کھایا کرتے تھے۔اس کے بعد وہ بوڑھے اور کمزور جانوروں کو ذبح کر لیتےاور انکا گوشت کھا لیتے۔جبکہ باقی کے گوشت کو منگول جنگلی پیاز اور لہسن کا پیسٹ لگا کر اسے خشک کر لیتے۔جنگی مہم کے دوران ہر منگول گھڑ سوار کے تھیلے میں خشک کیا ہوا گوشت،پنیر ،خشک چاول اور خمیر کیا ہوا دودھ ہوتا تھا۔اس کے علاوہ منگول جن علاقوں اور شہروں کو فتح کرتے وہاں کےتمام رسدپر قبضہ کر لیا کرتے۔
منگول جنگجو ویسے بھی بنا کچھ کھائے کئی کئی دن گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر گزار دیتے تھے۔
ہر منگول گھڑ سوار کے پاس 5گھوڑے ہوتے تھے ،جنہیں وہ تبدیل کرتے رہتے تھے۔
ناظرین آپ حیران ہوں گے کہ جب منگولوں کو سواری کے دوران بھوک لگا کرتی تو منگول گھوڑے کی گردن کے نیچے ایک خاص رگ کو کاٹ کر خون پی کر اپنی پیاس بجایاکرتے تھے۔
مفتوحہ علاقوں سے منگول چاول،گندم،دالیں،بریڈ اور نوڈلز سامان رسد کے لیے جمع کیا کرتے تھے۔جو کہ ساری منگول فوج کو سپلائی کی جاتی تھی۔
History In Urdu