Mongol Defeat

تاریخ میں منگولوں کو ناقابلِ یقین فتوحات کرنے اور کئی بڑے علاقے فتح کرنے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔کیونکہ انسانی تاریخ میں ان سے زیادہ رقبہ کسی نے بھی فتح نہیں کیا تھا۔لیکن اپنے عروج کے زمانے میں ہی منگولوں کو کئی مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

13ھویں صدی کی شروعات میں ایک منگول وار لاڈ "چنگیز خان "نے منگولیا کے خانہ بدوش قبیلوں کو جمع کیا اور دنیا کو فتح کرنے چل پڑا،اس دوران اس نے فتوحات اور بربادی کی ایسی تاریخ رقم کی جو نہ اس سے پہلے اور بعد میں کسی نے کی۔

منگولوں کی فتوحات کے دوران خوارزمی شہزادہ جلال الدین خوارزمی منگولوں کا سخت ترین دشمن ثابت ہوا ۔لیکن جلد ہی خوارزمی شہزادے کی سلطنت کو منگولوں نے فتح کر لیا۔

1)منگولوں کو پہلی شکست ویتنام نے دی۔چنگیز خان کی موت کے بعد اسکے جانشین اسکی سلطنت کو مسلسل وسیع کرتے گئے۔چوتھے منگول خان منگو کے دور حکومت میں جب منگولوں نے سنگ سلطنت کو فتح کرنا چاہا تو اس کے لیے انہوں نے ویتنام سے راستہ مانگا تاکہ وہ ویتنام کے راستے چینی سلطنت کو فتح کر سکیں ۔ویتنامی سلطنت کے سنگ سلطنت کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اس لیے انہوں نے منگولوں کو راستہ دینے سے انکار کر دیا۔جس کے بعد منگولوں نے ویتنام پر حملہ کر دیا اور تباہ و بربادی پھیلاتے ہوئے ویتنام کے دارالحکومت"ہینائی "جا پہنچے۔

لیکن منگولوں کے خلاف ویتنامیوں نے نا قابل یقین ِ حکمتِ عملی اپنائی ،انہوں نے قابل استعمال رستہ بربادکر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فصلوں کو بھی آگ لگا دی۔جس کی وجہ سے منگولوں کے گھوڑے بھوک سے مرنے لگے۔جبکہ منگول فوج کا بڑا حصہ ملیریا کی بیماری لگنے کی وجہ سے مارا گیا ۔

2)منگولوں کو دوسری بڑی شکست مملوکوں کے ہاتھوں ہوئی۔کیونکہ مملوک سلطنت ہی مسلمانوں کی آخری سلطنت تھی جو ابھی تک منگولوں کے قہر سے بچی ہوئی تھی۔بغداد کو تباہ کرنے کے بعد ہلاکو خان ایوبی سلطنت کی طرف بڑھا اور اس نے اسے بھی فتح کر لیا ،پھر ہلاکو خان نے ایک دھمکی آمیز خط مملوک سلطان کو بھیجا ،جس کے جوا ب میں مملوک سلطان نے منگول سفیروں کو قتل کر کے انکی لاشوں کو شہر کے دروازوں پر لٹکا دیا۔اسی دوران منگولو خان منگو کی سنگ سلطنت کے خلاف جنگ کے دوران موت ہو گئی جس کی وجہ سے ہلاکو خان نے اپنے ایک کمانڈر کتبغا کو 10 ہزار کی فوج دے کر باقی فوج کے ساتھ قراقرم چلا گیا تا کہ وہ نئے خان کی سلکشن کے لئے قرولتائی کی مجلس میں شامل ہو سکے۔ہلاکو خان کے جانے کے بعد سلطان سیف الدین قطز نے منگولوں کے خلاف پیش قدمی کرتے ہوئے عین جالوت کے مقام پر پہنچے ،جہاں 1260ء کی وہ جنگ ہوئی جس میں مسلمانوں نے پہلی بار منگولوں کو عبرت ناک شکست دی اور اس جنگ میں منگول کمانڈر کتبغا بھی مارا گیا۔

3)منگولوں کو تیسری بڑی شکست جاپان میں ہوئی ،منگو خان کی موت کے بعد منگولوں میں خانہ جنگی شروع ہو گئی ۔اس جنگ کے بعد ہلاکو خان کا بڑا بھائی قوبلائی خان منگولوں کا نیا خان بنا۔خان بننے کے بعدقوبلائی خان نے 1279ءمیں سنگ سلطنت کو فتح کر لیا۔اس فتح کے بعد قوبلائی خان نے جاپان پر پہلا حملہ کیا،منگولوں کے اس حملے میں ایک بڑی تعداد چینی فوجوں کی تھی ،لیکن جاپانی سامورائیوں نے منگولوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آخر کار منگولوں کو واپس پسپا ہونا پڑا ،جبکہ واپسی پر منگول فوج کا ایک حصہ سمندری طوفان میں غرق ہو گیا۔

کچھ عرصے کے بعد قوبلائی خان نے 1281ء میں ایک بہت بڑی منگول فوج جاپان پر حملے کے لیے روانہ کی ،جاپانی منگولوں کے خلاف 4 ماہ تک گوریلا جنگ کرتے رہے اور پہلے کی طرح اس بار بھی منگولوںکو شکست ہوئی اور منگولوں کی بڑی تعداد سمندری طوفان میں غرق ہو گئی۔

4)منگولوں کو چوتھی شکست بھر ویتنام میں ہوئی۔1287ءمیں ایک منگول لشکر قوبلائی خان کے بیٹے "ٹوکان"کی قیادت میں ویتنام کی سلطنت چمپا پر حملہ آور ہوا،منگولوں نے چمپا سلطنت کے کیپیٹل"ہا نائی"پر قبضہ کر لیا،لیکن اس کے بعد چمپا کے لوگوں نے منگولوں کے خلاف گوریلا وار شروع کر دی،اور انہوں نے منگولوں کی سپلائی لائین بھی ختم کر دی ادھر منگولوں میں پھر سے پہلے کی طرح بیماریاں پھیلنے لگیں جس سے منگولوں نے واپسی کا رستہ اختیار کیا،لیکن اس پسپائی میں جب منگول ریڈ ریور میں پہنچے تو آدھے لشکر کو ویتنامیوں نے گھیر کر ختم کر ڈالا۔جس کے بعد پھر منگول کبھی ویتنام پر حملہ آور نہ ہوئے۔

5)منگولوں کو آخری شکست دہلی سلطنت میں ہوئی۔منگولوں کی چغتائی سلطنت کئی بار ہندستان پر حملے کر چکی تھی ،لیکن منگولوں کا سب سے بڑا حملہ 1299ءمیں ہوا جب منگول قتلغ خان کی قیادت میں دہلی شہر پر حملہ آور ہوئے اس وقت کے سلطان علاؤالدین خلجی نے دہلی شہر کے تھوڑی دور کیلی کے مقام پر 1299ءمیں منگولوں کے خلاف جنگ لڑی۔جس میں ہزاروں منگول مارے گئے،اور واپسی پر منگول شہزادہ بھی مارا گیا۔

Check Also

Top5 Facts G

چنگیز خان جو تاریخ میں عظیم فاتح کے ساتھ ساتھ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms