13ھویں صدی کے درمیان میں جب منگول سلطنت میں سول وار شروع ہوئی تو اس جنگ کے بعد عظیم منگول سلطنت 4 حصوں میں تقسیم ہو گئی۔جو کہ چغتائی خانیٹ،گولڈن ہورڈ،ایلخان اور یو آن سلطنت تھی۔اور اس تقسیم کے بعد ہی منگولوں نے انڈیا پر حملے کیا۔آج کی اس ویڈیو میں ہم منگول سلطنت کے ہندستان پر حملے کی تاریخ جانیں گے۔
ہندستا ن اور افغانستان کے وسیع علاقے پر اس وقت غوریوں کی حکومت تھی۔1202ءسلطان شہاب الدین محمد غوری کی وفات کے بعد ان کے غلاموں نے ہندستان میں دہلی سلطنت کی بنیاد رکھی۔جبکہ افغانستان میں خوارزم شاہ نے قبضہ کر لیا۔دہلی میں سلطان شمس الدین التمش نے ایک وسیع عرصے تک حکومت کی۔اگلے تین سو سالوں تک دہلی سلطنت اپنے وقت کی طاقت ور ترین سلطنت بن چکی تھی۔
دہلی سلطنت اور منگول سلطنت کا تعلق 1220ء سے شروع ہواجب چنگیز خان نے خوارزمی سلطنت پر حملہ کر کے سلطان جلال الدین کا تعاقب کی ،سلطان جلال الدین خوارزمی خوارزم شاہ کے بیٹے تھے جو چنگیز خان سے لڑتے لڑاتے ہندستان جا پہنچے۔ چنگیز خان نے اس وقت ہندستان پر حملہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ اس وقت چنگیز خان تین محازوں چائینہ ،ایران اور وسط ایشیا میں جنگ میں مصروف تھا۔1227ءمیں چنگیز خان "ٹینگوٹز"کے خلاف جنگ کے دوران مر گیا۔
سلطان شمس الدین التتمش کے دورِ حکومت میں دہلی سلطنت عروج پہ تھی۔آنے والے 10سالوں تک منگول سلطنت کی سرحدیں دہلی سلطنت کی سرحدوں تک وسیع ہو گیئں۔
1230ء کے آخر میں پہلا منگول لشکر انڈیا پر حملہ آور ہوا اور منگولوں نے پنجاب اور سندھ پر حملہ کر کے یہاں کے شہروں اور آبادیوں کو تباہ کر دیا۔دہلی سلطنت منگولوں نے جنگ نہیں چاہتی تھی،اسی لیے سلطانِ دہلی نے منگولوں سے دوستانہ تعلق رکھنے کے لیے تحفے تحائف بھیجے۔
1241ءمیں ایک اور منگول لشکر بہادرتاہر نے حملہ کر کے لاہور پر قبضہ کر لیا،جبکہ 1245ءمیں ملتان پر بھی منگولوں کا قبضہ ہو گیا۔1250ء میں پنجاب بھی منگولوں کے پاس چلا گیا۔
دہلی سلطنت کے سلطان "محمود شاہ" نے منگولوں کے خلاف کوئی خاص پیش قدمی نہ کی اور جلد انکا بھی انتقال ہو گیا۔انکی وفات کے بعد غیاث الدین بلبل نے تخت دہلی سنبھالا۔
سلطان بلبن نے تخت نشین ہوتے ہی منگولوں کے خلاف پالیسیوں میں تبدیلی کی ،انہوں نے فوج کو جمع کیا اور وہ تمام علاقے منگولوں سے واپس لے لیے جن پر منگولوں نے قبضہ کیا ہوا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ سلطان بلبن نے منگولوں کی سرحدوں کے ساتھ مضبوط قلعے تعمیر کرائے۔
1260سے1264ء کے دوران قوبلائی اور اس کے بھائی ایرک بھوکا کے درمیان ہونی والی جنگوں میں بہت سے تاتاری اور منگول بھاگ کر انڈیا کی میں چلے گئے ،سلطان بلبن نے ان سب کا استقبال کیا اور انہیں اپنی سلطنت میں رہنے کے ساتھ ساتھ انہیں فوج میں اعلیٰ عہدے بھی دیے۔اس سے سلطان بلبن کو یہ فائید ہوا کہ انہیں منگولوں کی جنگی چالوں ،اور انکی کمزوریوں کا پتہ چلا گیا۔
1260ء کی شروعات میں منگولوں کے انڈیا پر حملے کی پالیسی تبدیل ہو چکی تھی۔کیونکہ اب منگول آپس جنگ کر رہے تھے۔1262ءمیں ایلخانی خان "ہلاکو خان"اور گولڈن ہورڈ سلطنت کے خان "برکے خان " کے درمیان جنگ ہوئی۔جس میں فتح برکے خان ہوا حاصل ہوئی۔شکست کے بعد ہلاکو خان کی فوج کا وہ حصہ جو کہ"نگودری" منگولوں پر مشتمل تھا اس کے لشکر سے علیدہ ہو گیا،اور انہوں نے خراسان میں ایک نئی نیگودری سلطنت کی بنیاد رکھی۔
یہ نیگودیری پنجاب پر حملے کرتے رہتے تھے۔لیکن 1285ءمیں سلطان غیاث الدین بلبن کو دھکچا لگا جب انہیں یہ پتہ چلا کہ ان کے بیٹے محمد شاہ جوسلطنت کے وارث ملتان، لاہور اور دیپالپور کے گورنرکو نیگودیری فوج نے حملہ کر کے قتل کر دیا ہے۔سلطان غیاث الدین بلبن اسی غم میں 1287 ء میں انتقال کر گئے۔جن کے بعد ان کا نااہل پوتا"کیکوباد"تخت نشین ہوا۔
اُدھر منگول سلطنت میں شمال کی جانب کچھ انقلاب آنے والا تھا۔ کیونکہ منگول خان اوغدائی خان کا پوتا "کایڈو" نے قوبلائی اور چغتائی سلطنت کے درمیان اپنی آاد حکومت قائم کر لی۔1282ء میں اس نے اپنی حکومت کو مظبوط کرنے کے لیے اس نے اپنے ایک بیٹے "ڈعا"کو چغتائی سلطنت میں خان بنا کر بھیجا،تاکہ وسط ایشیا میں اس کی حکومت مستحکم ہو جائے۔
دعا او اس کے بیٹے"قطلق خواجہ" نے اپنی حکومت کو مستحکم کیا اور 1290ءتک انہوں نے "نیگودیری"سلطنت کو ختم کر کے وہاں قبضہ کر لیا۔
1290 ء میں کیکوباد قتل کر دیے گئے اور ان کی جگہ دہلی سلطنت کے مشہور سلطان "سلطان جلال الدین خلجی" نے تخت سنبھالا۔تخت نشین ہوتے وقت انکی عمر 70سال تھی۔تخت نشین ہونے کے بعد انہوں نے فوجی طا قت کو مضبوط کیا اور 1292ءمیں منگولوں کے ہونے والے ایک حملے میں انہیں شکست دی۔سلطان جلال الدین خلجی کے دور میں دہلی سلطنت نے بت ترقی کی انہوں نے سلطنت کی سرحدیں کابل تک وسیع کر دیں۔جلال الدین خلجی نہایت رحم دل سلطان تھے ،لیکن ان کی رحم دلی سے ان کے بھتیجے علاؤ الدین خلجی نے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے 1296ءمیں سلطان جلال الدین خلجی کو قتل کرتے ہوئے انہوں نے تخت پر قبضہ کر لیا۔
تخت نشین ہونے کے بعد منگولوں نے ملتان سندھ اور لاہور پر حملہ کر دیا۔سلطان علاؤالدین کے کمانڈر "الغ خان"اور "ظفر خان نے فوجوں کو جمع کر کے منگولوں کے ایک لاکھ کے لشکر کو"جڑان منجر"کے مقام پر بد ترین شکست دی۔
سلطان علاؤالدین نے منگول حملوں کے خلاف فوج کو مظبوط کیا، فصلوں پر ٹیکس لگائے،اور جاسوسی کے محکمے کو فروغ دیا۔انڈیا منگولوں کے لیے ایک نئی جگہ تھی۔
1298ءمیں منگولوں کی ایک اور فوج انڈیا پر حملہ آور ہوئی۔اس وقت سلطان علاؤالدین خلجی الخ خان کے ساتھ گجرات میں ہندو راجہ کے خلاف جنگ میں مصروف تھے۔سلطان نے دہلی اپنے کمانڈر ظفر خان کے حوالے کیا تھا۔ ظفر خان نے فوجوں کو اکھٹا کیا اور منگول حملہ آوروں کو شکست دیتے ہوئے انہیں پسپا کر دیا۔اس فتح کے بعد ظفر خان کی بہادر کے قصے گائے جانے لگے۔دہلی میں وہ منگولوں کے خلاف ایک ہیرو کی حیثیت رکھتے تھے۔
منگولوں کی اس شکست کے بعد دوا خان نے اپنے بیٹوں "قطلق خواجہ" اور " تیمور بوکا" کی قیادت میں ایک اور لشکر جس کی تعداد 50سے60ہزار بتائی جاتی ہے ،انڈیا پر حملہ آور ہوئے۔
تاریخی حوالوں کے مطابق منگول آندھی اور طوفان کی طرح تباہی مچاتے ہوئے دہلی شہر کے پاس جا پہنچے۔اس وقت بھی سلطان علاؤالدین گجرات میں جنگ میں مصروف تھے۔ظفر خان فوج کے ساتھ دریائے جمنا کے پاس جا پہنچا اور اس نے منگولوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن منگولوں نے انہیں پسپا کر دیا۔ظفر خان کی شکست کی خبر نے دہلی کا مضافات میں تباہی مجا دی اور کچھ کی دنوں میں دہلی شہر مہاجروں سے بھر گیا۔اس دوران سلطان علاؤالدین بھی اپنی فوجوں کے ساتھ دہلی شہر واپس آ پہنچے ۔
سلطان علاؤالدین کو جرنیلوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں شہر خالی کر دینا چاہیے،کیونکہ منگول فوج تعداد میں مسلمانوں سے زیادہ اور طاقت ور تھی۔لیکن سلطان علاؤالدین نے اپنی تلوار پر بھروسہ کرتے ہور دہلی شہر سے 15میل دور"کیلی"کے مقام پر منگول کمانڈر "قطلق خواجہ" سے جنگ کے لیے نکل پڑے۔
تاریخی رویت کے مطابق سلطان علاؤالدین خلجی کی فوج 27 ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی،جن میں 2700جنگی ہاتھی بھی شامل تھے۔جبکہ دورِ حاضر کے مورخین کے مطابق سلطان علاؤالدین کی فوج 70ہزار اور 700 جنگی ہاتھیوں پر مشتمل تھی۔
دونوں فوجیں دریائے جمنا کے کنارے صف آرا ہوئیں۔سلطان علاؤالدین فوج کے مرکز میں تھے،ظفر خان دائیں جانب جبکہ الغ خان بائیں جانب اپنے دستوں کے ساتھ موجود تھے۔یوں دونوں فوجیں تین تین حصوں میں تقسیم تھیں۔اس جنگ میں دہلی فوج بھی منگول فوج کی طرح تربیت یافتہ تھی۔
ظفر خان اپنی شکست پر نہیں بھولا تھا سو ظفر خان نے حکم ملتے ہی،اپنی فوج کے ساتھ منگولوں کے بائیں بازو پر حملہ کر دیا۔ظفر خان کے اس حملے سے منگولوں کےابتدائی دستے مارے گئے۔جبکہ باقی سپاہی بھاگنے لگے،ظفر خان ان دستوں کے تعاقب میں چل پڑے۔لیکن جلد ہی ظفر خان کو معلوم ہوا کہ منگولوں کا مرکزی لشکر ان پر حملہ آور ہو گیا ہے اور بھاگتے ہوئے سپاہی بھی واپس آ رہے ہیں ۔لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ظفر خان چاروں طرف سے منگول فوج کے نرغے میں آ چکے تھے۔
ظفر خان کو یقین ہو چکا تھا کہ اب ا ن کا زندہ واپس جا نا نا ممکن ہے۔حیرت کی بات یہ تھی کہ اس دوران سلطان نے بھی ظفر خان کی کوئی مدد کے لیے نہ خود آئے اور نہ ہی کوئی لشکر بھیجا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلطان ظفر خان کی عوام میں مقبولیت کی وجہ سے انہیں بچانا نہیں چاہتے تھے۔
خیر جو بھی ہو ظفر خان نے آخری دم تک اپنے جانثار سپاہیوں کے ساتھ محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرتے رہے۔منگول کمانڈر"قطلق خواجہ"ظفر خان کی بہادری سے بے حد متاثر ہوا،اور اس نے ظفر خان کو منگول لشکر میں شامل ہونے کی بھی پیش کش کی۔یہاں تک کہ منگولوں نے ظفر خان کو دہلی کا سلطان بنانے کی بھی پیش کش کی،لیکن ظفر خان آخری دم تک اپنے سلطان کے ساتھ وفادار رہے۔اور انہوں نے منگولوں کے مطالبات نہ مانے۔اس پر منگول کمانڈر نے آخری حملے کا حکم دیا ،اور چند گھنٹوں کے اندر اندر ظفر خان اور انکی فوج منگولوں کے ہاتھوں شہید ہو گئی۔
اس فتح کے بعد اگر قطلغ خواجہ چاہتا تو سلطان علاؤالدین کی فوج پر حملہ کر کے اسے ختم کر سکتا تھا۔لیکن منگول واپس چلے گئے۔کیونکہ ظفر خان سے جنگ کے دوران قطلغ خواجہ بری طرح زخمی کو گیا تھا،اور اس سے پہلے کہ منگول واپس اپنے وطن پہنچتے،چنگیز خان کی طرح قطلغ خواجہ کی راستے میں موت ہو گئی۔
یہ منگولوں کاانڈیا کی سر زمین پر کوئی آخری حملہ نہیں تھا۔1303ءمیں نویان تاراغائی نے دہلی سلطنت پر پھر حملہ کر دیا ،جبکہ سلطان علاؤالدین چتور کی جنگ سے واپس آئے تھے،جس کی وجہ سے انکی فوج تھکی ہوئی تھی۔منگولوں نے دہلی شہر کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ 3ماہ جاری رہا۔لیکن اس دوران انڈیا کے تپتے ہوئے گرم موسم نے تاراغائی فوج کو محاصرہ اُٹھانے پر مجبور کر دیا۔اور یہ فوج بھی واپس چلی گئی۔
1304سے1308ء تک انڈیا پر منگولوں کے مزید حملے جاری رہے۔لیکن اب عظیم منگول سلطنت کے عروج کا سورج غروب ہو چکا تھا۔سلطان علاؤالدین خلجی نے منگولوں کے ان حملوں کا منہ توڑ جواب دیا۔منگول کمانڈر اسلامی فوج کا ہاتھیوں کے نیچے آ کر مارے گئے۔جبکہ باقی منگول فوج کے سر دہلی شہر کے باہر لٹکا دیے گئے۔
لیکن سوال اب بھی وہیں کا وہیں ہے،کہ آخر عظیم منگول سلطنت انڈیا کو کیوں فتح نہ کر سکی؟
تو اس کا جواب ہے کہ منگول فوج کی طرح دہلی کی اسلامی فوج بہترین تربیت یافتہ تھی ،دہلی سلطنت کی فوج کو وہ تمام جنگی حربے معلوم تھے جو منگول پچھلے 80سالوں سے استعمال کرتے چلے آرہے تھے۔
دوسری بڑی وجہ انڈیا کا گرم موسم تھا۔یہاں کا گرم موسم منگولوں اور ان کے گھوڑوں کے لیے انتہائی سخت تھا۔اور آ خر پر سلطان علاؤالدین اور ان کے کمانڈر نہایت تجر بہ کار تھے ۔جو منگولوں کو شکست دینا جانتے تھے۔
1303ءمیں کایڈو کی موت کے بعد دوا خان نے تمام منگول سلطنتوں سے امن معاہدہ کیا اور مل کر انڈیا پر حملے کا منصوبہ پیش کیا۔لیکن 1306ء میں دو ا کی موت ہو گئی۔
1328سے1329 کے درمیان دوا کا بیٹا"تارماشرین" نے انڈیا پر آخری حملہ کیا جسے "سلطان محمد بن تغلق" نے شکست دی۔تارماشرین 1331سے1334تک چغتائی سلطنت کا خان رہا،اس کے بعد اسکی موت ہو گئی۔اسکی موت کے بعد اسی منگولوں کی آپس میں جنگیں شروع ہو گئیں۔
جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے برلاس قبیلے کا ایک نوجوان "امیر تیمور"اٹھا اور اس نے کچھ ہی عرصے میں ان تمام علاقوں پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔
History In Urdu