Israel and Lebanon – A History of Conflict

اگر کبھی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو مشرق وسطیٰ ہمیشہ سے جنگ کی حالت میں رہا ہے۔ پھر چاہے وہ خلافت راشدہ اور ساسانیوں، منگولوں اور مملوکوں،پہلی صلیبی جنگ سے لے کر تیسری صلیبی جنگ تک اور آخر میں اسرائیل کے ہاتھوں معصوم مسلمانوں کی قتل عام کی تاریخ ہی کیوں نہ ہو، غرض جس دور میں بھی نظر ڈالی جائے ہر بار اس سرزمین پر مسلم امہ کا خون بہا ہے۔

اس میں شدت خاص طور پر اس وقت آئی جب یہاں پر پہلی بار یہودیوں کی آباد کاری ہوئی، اور پوری دنیا سے یہودی ہجرت کر کے فلسطین میں تاجِ برطانیہ کے زیر انتظام انہوں نے یہاں پر اپنی ایک ریاست کی بنیاد ڈالی۔ فلسطین کے ساتھ ساتھ لبنان بھی ان ملکوں میں سے ایک ملک ہے جہاں پر اسرائیل نے ہمیشہ حملے میں پہل کی۔

موجودہ لبنان دراصل پہلی جنگ عظیم کے بعد 1918 میں سلطنت عثمانیہ سے الگ ہو گیا تھا اور اس کے بعد سے اس خطے میں استحکام ختم ہو گیا۔ یہاں کی زیادہ تر آبادی عیسائی عربوں پر مشتمل ہے۔

سلطنت عثمانیہ سے الگ ہونے کے بعد شام کی طرح لبنان بھی فرانس کے مینڈیٹ میں شامل ہو گیا اور 1926 میں فرانسیسی مینڈیٹ کے تحت یہ ایک جمہوری ملک بنا اور دوسری جنگ عظیم کے دوران جب 1943 میں جب فرانس کو جرمنوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تو لبنان نے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ اگرچہ اس اعلان کے بعد جلد نو آبادیاتی طاقتیں ملک سے نکل گئیں۔ لیکن فرانسیسی اثر و اسوخ یہاں پر ہمیشہ برقرار رہا۔ دوسری جنگ عظیم میں تاج برطانیہ کو بھی زبردست نقصان پہنچا تھا اور یکے بعد دیگرے برطانیہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنی نو آبادیات سے دستبردار ہونا پڑا۔ برطانوی افواج کے فلسطینی علاقے سے انخلاء کے ساتھ ہی یہاں پر ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا۔ کیونکہ یہ برطانیہ ہی تھا جس نے 1917 عیسوی میں بال فور اعلامیہ جاری کیا تھا۔ جس کے تحت یہودی فلسطین میں قیام کر سکتے تھے۔ بال فور ڈیکلریشن کے بعد عربوں نے اسرائیل کے قیام کی سخت ترین مخالفت کی جس کی وجہ سے عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان آپس میں جنگ ہوئی۔ مصر، لیبنان، شام، اردن اور عراق نے 1948 میں یہودی ریاست اسرائیل کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تھا۔ لبنان کے پاس اس وقت عرب اتحادیوں میں سب سے کمزور فوج تھی۔ اسرائیل نے انتہائی کم وقت میں لبنان اور دیگر عرب ممالک کو شکست دے دی۔

اس شکست کے بعد عربوں نےجنگ بندی پر دستخط کیے اور وہ پیچھے ہٹ گئے۔ جبکہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی طرف سے دیے گئے رقبے سے زیادہ زمین حاصل کرتے ہوئے اس نے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔

اس کہ بعد کے سالوں میں بھی یہودیوں نے فلسطین پر حملے جاری رکھے اور بیشتر علاقوں پر انہوں نے قبضہ کر لیا۔جس سے کہ بہت سے مسلمانوں نے پڑوسی ملک لبنان کا رخ کیا۔

لبنان دراصل ایک نسلی طور پر مخلوط ملک تھا اور اس میں عیسائی آبادی کافی حد تک زیادہ تھی اور اقتدار پر بھی ان کا غلبہ تھا۔ اگرچہ لبنانی حکومت کو خوف تھا کہ آنے والے پناہ گزین آبادی کے ڈھانچے کو بالکل بدل کر رکھ دیں گے اور وہ چاہتے ہوئے بھی اس ہجرت کو روک نہ سکے۔ جب اس دوران خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تو 1967 میں اسرائیل اور اس کے عرب ہمسائیوں مصر، اردن اور شام کے درمیان چھ روزہ جنگ شروع ہو گئی۔ لبنان کی فوج اس وقت بھی انتہائی کمزور تھی اس لیے اس نے اس جنگ سے دور رہنے کی پوری کوشش کی، لیکن عرب ریاستوں کی زبردست شکست نے اسے بھی متاثر کیا مظلوم فلسطینیوں کی ہجرت میں تیزی آتی گئی۔ یہاں تک کہ لبنان میں آباد ہونے والے فلسطینی اتنے زیادہ ہو گئے کہ لبنان میں انکی آبادی کا تقریباً 35 فیصد حصہ تھا اور انہوں نے اپنے وطن یعنی کہ فلسطین کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کیمپوں میں گوریلا تنظیم قائم کی اور انہی میں سے پی ایل او یعنی کہ فلسطین لبریشن ارگنائزیشن ان میں سے ایک اہم اور بڑی تنظیم تھی۔ 1960 اور 70 کی دہائی کے آخر میں جنوبی لبنان میں مضبوط ہونے والی فلسطین لبریشن ارگنائزیشن نے اس علاقے میں ایک عملی انتظامیہ قائم کر لی۔ جبکہ لبنانی حکومت اسے روکنے میں ناکام رہی۔ اسرائیل نے لبنانی سرحد عبور کر کے پی ایل او کے خطرات کو ختم کرنے کے بہانے اس نے لبنان میں جنگی کاروائیاں شروع کر دیں۔ لبنان اسرائیل کے اس حملے کو روکنے میں بالکل ناکام رہا اور اسرائیل نے لبنان پر حملہ کرتے ہوئے بہت سے علاقوں کو تباہ کر دیا۔ اب چونکہ فلسطین سے مسلمان ہجرت کر کے ہمسائے ملک لبنان چلے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے لبنان میں جو کہ پہلے ہی نسلی اور مذہبی بحران کا شکار تھا اب یہاں پر فرقہ واریت پھوٹ پڑی۔ جس کے تناسب میں 1975 میں لبنان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اس خانہ جنگی میں اسرائیل اور شام براہ راست ملوث ہو گئے۔

اسرائیل نے لبنان کی حکومت اور لبنان کی اکثریت جو کہ عیسائیوں پر مشتمل تھی ان کی حمایت کی اور اس نے پی ایل او کو لیبنان سے نکالنے کے لیے 1978 میں لبنان کے جنوبی حصے پر قبضہ کر لیا۔ لیکن اقوام متحدہ کی مداخلت اور اس کے رد عمل کے طور پر اسرائیل نے لبنان سے اپنی فوجیں پیچھے ہٹا لیں۔ لیکن صرف تین سال بعد اسرائیل نے پھر 1982 میں لبنان پر دوبارہ قبضہ شروع کر دیا۔ اسرائیل نے بیروت کا محاصرہ کیا اور اس نے شامی افواج کے ساتھ جھڑپیں شروع کر دیں۔ اس دوران پھر امریکہ اور اقوام متحدہ نے مداخلت کی اور فریقین کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ کیا۔ اس کے علاوہ فلسطین لبریشن ارگنائزیشن یعنی کہ پی ایل او نے لبنان چھوڑنے پر اتفاق کیا اور اس نے اپنا ہیڈ کوارٹر تیونس منتقل کر دیا اگرچہ اس میں اسرائیل کو فتح ملی اور شامی فوج بھی کسی حد تک پیچھے ہٹ چکی تھی لیکن لبنانی فوج کے ٹوٹنے کے بعد خانہ جنگی مزید شدت اختیار کر گئی۔

اس دوران تل ابیب کی حمایت یافتہ حکومت کو برطرف کر دیا گیا اور شیعہ ملیشیہ نے 1984 کے اوائل میں بیروت کے بیشتر علاقے کو قبضے میں لیتے ہوئے۔ انہوں نے اقتدار حاصل کر لیا 1985 عیسوی میں شیعہ شیخ ابراہیم الامین نے اعلان کیا کہ انہوں نے لبنان میں حزب اللہ نامی ایک تنظیم کی بنیاد رکھی ہے جس کے مقاصد اسرائیلی قبضے کے خلاف لڑنا ہے۔اس جماعت کا سب سے بڑا حامی ایران تھا۔ یوں اقتدار اہل تشیع کے پاس آنے کے بعد 1990 تک خانہ جنگی کا تقریباً خاتمہ ہو گیا۔

طائف معاہدہ جسے قومی مصالحتی معاہدہ بھی کہا جاتا ہے دراصل 1989 میں سعودی عرب کے شہر طائف میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد 1975 سے جاری لبنانی خانہ جنگی کو ختم کرنا تھا۔ طائف معاہدہ لبنان کے مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان سیاسی اصلاحات اور اقتدار کی نئی تقسیم کا خاکہ پیش کرتا ہے یہ معاہدہ سعودی عرب کی ثالسی میں ہوا تھا اور اسے امریکہ، فرانس اور شام کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ تاہم طائف معاہدے سے قائم کیے جانے والا یہ نیا نظام بنیادی طور پر ایک عیسائی سنی نظام تھا۔ اگرچہ شیعہ مسلمانوں نے کچھ کامیابیاں حاصل کیں لیکن وہ اس قائم شدہ نظام سے دور ہی رہے۔ اس دوران حزب اللہ کی تنظیم نے کافی طاقت پکڑ لی تھی۔ یہ تنظیم ہر گزرتے دن کے ساتھ لبنانی حکومت اور اسرائیل دونوں کو نشانہ بناتے ہوئے اپنی کاروائیوں میں اضافہ کر رہی تھی۔ خانہ جنگی کے خاتمے اور نئی حکومت کے قیام کے باوجود لبنان کہ زخم بھر نہ سکے یہ زخم بہت گہرے تھے اور ان کا علاج مشکل تھا۔ اسرائیل نے لبنان کے جنوب میں اپنی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے 1993 میں ایک اور اپریشن کیا تاکہ پی ایل او اور حزب اللہ کو بے اثر کیا جا سکے۔ اسرائیل کی یہ جنگی کاروائیاں 1990 کی دہائی سے لے کر 2000 کی دہائی کی اوائل تک جاری رہیں۔ جبکہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہیں۔ تاہم 2006 میں حزب اللہ کی ملیشیاؤں نے اسرائیلی شہروں اور دیہاتوں پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے اور یوں 2006 کی لبنان جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملوں اور اس کے علاوہ فضائی اور بحری ناکہ بندی اور جنوبی لبنان میں زمینی مداخلت کے ساتھ حزب اللہ کے اس حملے کا جواب دیا۔

حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر مسلسل راکٹ حملوں کے نتیجے میں پانچ لاکھ افراد کو بےگھر کر دیا اور اس دوران بیتالیس اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے۔ جھڑپوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے علاوہ لبنان اور شمالی اسرائیل کے بیشتر علاقوں میں معاملات زندگی تقریباً دھرم بھرم ہو گئے تھے جلد عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔

لیکن 2006 کی اس لبنان جنگ نے حزب اللہ کو کافی شہرت دی تھی۔ 2006 کی لبنان جنگ کے فاتح کو مشرقی وسطیٰ کے بہت سے ممالک میں ہیرو کے طور پردیکھا گیا۔ اسرائیل کے ہاتھوں مظلومیت کے ذریعے عوام تک پہنچنے والی اور اپنی حیثیت کو مضبوط کرنے والی اس تنظیم نے جنگ کے بعد لبنان میں اپنا اثر و اسوخ مزید بڑھایا۔ اس نے عوامی حمایت حاصل کی اور ملکی سیاست میں حصہ لینے میں کامیاب رہی اور اب کی بار اس نے قائم حکومتی وزراء اور منتخب نمائندوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے۔ اس نے خاص طور پر ملک کے جنوب میں ایک ریاست کے اندر ریاست کی حیثیت سے اپنے ڈھانچے کو مضبوط کیا اور اصل انتظام سنبھال لیے۔ لبنانی حکومت کی کمزوری ان وجوہات میں سے ایک تھی۔ جس کی وجہ سے ملک میں اس طرح کے ڈھانچے قائم ہوئے نسلی اور فرقہ وارانہ تنازعات کے علاوہ فرقوں کی سرگرمیوں اور غیر ملکی مداخلت جیسے عوامل نے لبنان کی مرکزی حکومت کے اثر و اسوخ کو دن بدن کم کر دیا تھا۔ دوسری جانب اقتصادی مشکلات نے پہلے سے موجود مسائل کو مزید بڑھا دیا 2019 کے اگست میں شروع ہونے والے مالی بحران کو 2020 میں بیروت کی بندرگاہ کے دھماکے نے مزید بگاڑ دیا۔ جس کے نتیجے میں بیروت کی حکومت دیوالیہ ہو گئی۔ جب یورپیوں خاص طور پر فرانس کے لبنان میں داخل ہونے کی امکانات بڑھ گئے تو لبنان کی حالت مزید بگڑ گئی لبنانی حزب اللہ نے اپنے اپ کو حماس جو کہ فلسطینی جدوجہد کے اہم کرداروں میں سے ایک بڑی تحریک تھی اسے اپنا حلیف سمجھا اور سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کی حزب اللہ نے حمایت کی۔ اٹھ اکتوبر 2023 کو حزب اللہ نے اسرائیلی پوزیشنوں پر گائیڈڈ راکٹ اور ارڈلری گولے داغے، جبکہ اسرائیل نے حزب اللہ کی پوزیشنوں پر ڈرون حملے اور توپ خانے کی فائرنگ سے جواب دیا اس کے علاوہ اس طرح کی جھڑپیں وقفے وقفے سے 2024 کے موسمِ گرما تک جاری رہیں۔

تاہم چونکہ اسرائیل غزہ میں کاروائیوں پر توجہ مرکوز کر رہا تھا اس لیے اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی ہونے والی پیشرفت میں کوئی فوجی مداخلت نہیں کی تھی۔ لیکن جیسے جیسے غزہ میں آپریشن ایک خاص مرحلے تک پہنچتا گیا اس نے ایران اور حزب اللہ کے خلاف اپنی سیاسی اور فوجی کاروائیاں تیز کر دیں۔ اسرائیلی حکومت نے بار بار حزب اللہ کے رہنماؤں کو قتل کرنے کی کاروائیاں کیں۔ ستمبر 2024 میں حزب اللہ کے متعدد سینیئر رہنماؤں بشمول حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ اور جنوبی محاز کے کمانڈر علی، کو بیروت میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید کر دیا گیا۔ 30 ستمبر کو اسرائیل نے امریکہ کو آگاہ کیا کہ وہ لبنان میں ایک زمینی کاروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاکہ حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو سرحد کے ساتھ صاف کیا جا سکے۔ اسی شام لبنانی کی افواج اور اقوام متحدہ کی فورس نے لبنان اسرائیل سرحد سے پیچھے ہٹ کر شمال کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان کی سرحد پر جمع ہو رہے تھے اور نیتن یاہو کی حکومت نے محدود زمینی حملے کی تیاریوں کا اعلان کیا۔ اکتوبر 2024 میں اسرائیلی افواج نے سرحد پار کی اور جنوبی لبنان میں ٹینکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ جبکہ آپ اس وقت میری یہ ویڈیو دیکھ رہے ہوں گے۔ تو اس دوران اسرائیل اور لبنان کی آپس میں جھڑپوں میں شدت آ چکی ہو گی۔اب ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ جو کہ اسرائیل کا بہت بڑا حامی ہے اور جہاں نومبر 2024 میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں نئی حکومت کا اس کی جانب سے رد عمل کیا ہوگا اور اس کے علاوہ روس، شام،ترکی ،سعودی عرب، فرانس اور مصر جیسے ممالک کا رویہ بھی لبنان اور فلسطین کے بارے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ان سب سے بڑھ کر مسلم دنیا کی سپر پاور پاکستان جس کے پاس ایٹمی صلاحیت ہے اس کا کام بنتا ہے کہ وہ مسلم اُمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اسرائیل کے مظالم کے خلاف اپنا احتجاج پیش کرے اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اپنی افواج روانہ کرے۔

اس کے علاوہ اب دیکھنا یہ ہے کہ ترکی کا اسرائیل کو لے کر کیا ردِ عمل ہے کیونکہ لبنان کی سرحد جو کہ ترکی کی سرحد سے تقریباً دو سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے اور اسرائیل کچھ علاقوں پر مسلسل بمباری کر رہا ہے تاکہ آبادی کو ہجرت پر مجبور کیا جا سکے جس کے بعد ترکی کے لیے ایک مشکل مرحلہ آنے والا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی شہید ہونے والے تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے اور ہمیں اتنی طاقت دے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے القدس کا سفر کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms