خلافت ِفاطمیہ کے چوتھے خلیفہ اور شہر قاہرہ کے معمار خلیفہ" المعز الدین اللہ" جن کا دورِ حکومت "فاطمی خلافت"کا بہترین دور کہلاتا ہے۔
ناظرین فاطمی خلافت کو خلافتِ فاطمیہ اس لیے کہا جاتا ہے ،کہ المہدی عبید اللہ کے مطابق وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے تھے ۔خلافت فاطمیہ اڑھائی سو سال سے زیادہ عرصے تک قائم رہی اور فاطمی دور ِحکومت میں علوم و فنون کو بڑی ترقی حاصل ہوئی ۔خلافت ِفاطمیہ کے جن حکمرانوں کا دور سب سے زیادہ تابناک رہا ان میں سے ایک المعز الدین اللہ بھی
ہیں۔
خلیفہ المعز الدین11 رمضان المبارک 319 ہجری بمطابق 27 ستمبر 931 عیسوی کو "المہدیہ" میں پیدا ہوئے۔ المہدیہ آج کل تیونس کے مشرقی ساحل پر ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔
لیکن جب المعز الدین کے پردادہ اور پہلے فاطمہ خلیفہ المہدی عبید اللہ نے 300 ہجری بمطابق 912 عیسوی میں اس شہر کو بسایا تو یہ شہربے حد اہمیت اختیار کر گیا تھا ۔مورخین کے مطابق یہ علاقے کا سب سے خوشحال ترین شہر تھا۔
خلیفہ المعز الدین نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے دادا ابو القاسم القائم باللہ شمالی افریقہ پر حکمران تھے ۔ان سے پہلے المہدی عبید اللہ نے 297 ہجری بمطابق 909 عیسوی میں شمالی افریقہ میں فاطمی خلافت کی داغ بیل ڈال دی تھی ۔المعز الدین کے والد "ابو طاہر اسماعیل منصور" نے جب 341 ہجری بمطابی 953 عیسوی کو وفات پائی تو اسی مہینے میں نوجوان المعز الدین پر بارِ خلافت ڈال دی گئی۔
اس وقت ان کی عمر صرف 22 سال تھی ۔لیکن اس نو عمری میں ان کا تجربہ وسیع، عزم جواں اور حسن انتظام قابل داد تھا۔المعز الدین سے قبل جتنے فاطمی خلیفہ گزرے ان کے دور میں فاطمی خلافت صرف بلادِ مغرب تک محدود رہی، بلادِ مغرب سے مراد بحیر روم کا جنوب مغربی علاقہ ہے ،جس میں تیونس مراکش الجزائر اور لیبیا شامل ہیں۔ اس زمانے میں تیونس کا نام افریقہ تھا۔ الجزائر کو مغرب الواسط اور مراکش کو مغرب الاقصی کہا جاتا تھا ۔
خلیفہ المعز الدین کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے، کہ انہوں نے مصر اور شام کو بھی اپنی قلمرومیں شامل کر لیا اور سبتا کو چھوڑ کر مغرب کے تمام شہر ان کی حکومت کا حصہ بن گئے ۔
حکمران بننے کے بعد خلیفہ المعز الدین نے محسوس کیا کہ کہ پہاڑی علاقے میں رہنے والے" بنو کملان" اور" ملیلہ" کے قبائل نے فاطمی خلافت کی اطاعت قبول نہیں کی،جس پر المعز الدین اگلے ہی برس یعنی کہ 342 ہجری بمطابق 953 عیسوی میں وہ خود ایک لشکر لے کر اس علاقے میں پہنچے ،قبیلے والوں نے اطاعت قبول کر لی جس پر خلیفہ المعز الدین نے قبائل کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کیا ۔
343ہجری بمطابق 954 عیسوی میں خلیفہ المعزدین کی ہدایت پر ثقلیہ یعنی کہ سسلی کے والی" حسن بن علی" نے اندلس پر حملہ کیا ۔347 ہجری بمطابق 958 عیسوی میں المعزدین نے اپنے آزاد کردہ غلام جوہر ثقلی کی قیادت میں ایک بڑی فوج مغرب الاقصی یعنی کہ مراکش کی طرف بھیجی کیونکہ انہیں یہاں چند بغاوتوں کی خبر ملی تھی۔جوہر ثقلی نے یہاں آ کر بغاوتوں کو ختم کیا اور انہوں نے یہاں "فاس" قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ 11 ماہ کے سخت ترین محاصرے کے بعد بالاخر رمضان المبارک 348 ہجری میں "فاس" قلعہ بھی فتح ہو گیا۔
History In Urdu