Ulugh Beg History In Urud

الغ بیگ تیموری سلطنت کے تیسرے بادشاہ تھے، جو نہ صرف ایک حکمران بلکہ ایک عالم اور فلکیات کے ماہر بھی تھے۔ ان کی علمی خدمات تقریباً ساڑھے پانچ سو سال گزر جانے کے بعد بھی علم کے ایوانوں میں اجالا کیے ہوئے ہیں۔ یہ تحریر ان کی زندگی، علمی کارناموں اور آخری دنوں کی کشمکش کا احاطہ کرتی ہے۔

ابتدائی زندگی و پس منظر

الغ بیگ کا اصل نام محمد تورغائی تھا۔ ان کے والد شاہ رخ تیموری سلطنت (1405ء تا 1447ء) کے حکمران تھے۔ الغ بیگ 796ھ بمطابق 1393ء میں سلطانیہ میں پیدا ہوئے۔ 810ھ بمطابق 1407ء میں یعنی صرف چودہ برس کی عمر میں انہیں خراسان کے کچھ حصوں کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔ کم عمری کے باوجود انہوں نے اپنی ذہانت سے ان علاقوں کا انتظام خوب سنبھالا۔

ایک سال بعد ان کے والد شاہ رخ نے انہیں ماوراءالنہر کا حاکم بنا دیا۔ الغ بیگ تیس برس تک اس علاقے پر حکمران رہے، اور اسی دوران انہوں نے سمرقند کو اسلامی تہذیب کا اعلیٰ مرکز بنا دیا۔

علم و فلکیات سے شغف

الغ بیگ علم کے بڑے شیدائی تھے۔ انہوں نے قرآنِ پاک کا مطالعہ تفصیل سے کیا اور قرآنِ مجید کے حافظ بھی تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریاضی کے ماہر تھے اور علمِ ہندسہ کے مشکل سے مشکل مسائل کا حل نکالنے کا فن جانتے تھے۔

832ھ بمطابق 1428ء میں انہوں نے سمرقند شہر کے جنوب میں ایک پہاڑی “کوہک” کی دوسری جانب ایک رصد گاہ تعمیر کرائی۔ اس رصد گاہ میں فلکیات کے مشاہدے کے سلسلے میں اہم تجربات کیے جاتے تھے۔ الغ بیگ نہایت بہادر انسان بھی تھے اور جنگوں میں بڑی بہادری سے لڑا کرتے تھے، مگر اپنے مزاج میں وہ ایک علم دوست شخص تھے۔

تختِ حکومت اور بغاوتیں

الغ بیگ نے ترکستان اور ماوراءالنہر کے علاقوں پر طویل مدت تک حکومت کی، لیکن جب 850ھ بمطابق 1447ء میں انہیں پوری مملکت یعنی وسط ایشیا، ماوراءالنہر، افغانستان اور ایران کا اقتدار ملا تو بغاوتوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں سکون سے اپنے فرائض انجام دینے کا موقع ہی نہ ملا۔ انہیں یہ حکومت 25 ذوالحجہ 850ھ بمطابق 13 مارچ 1447ء کو اپنے والد شاہ رخ کی وفات کے بعد ملی تھی۔

چند ہی روز بعد ان کے اپنے بیٹے عبد اللطیف نے اپنی دادی گوہر شاد اور ان کے خدام کو قید کر کے سمنان پہنچا دیا۔ وہاں سے وہ ہرات چلے گئے اور قبضہ کر کے حکمران ہونے کا اعلان کیا۔ دوسری طرف ایک شخص سلطان عبد اللہ نے شیراز کے قلعے پر قبضہ کر لیا، جبکہ کابل اور غزنی میں کچھ اور لوگوں نے قبضہ کر کے خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ جب عبد اللطیف قیدیوں کے ساتھ نیشا پور پہنچا تو اس پر حملہ کر دیا گیا، قیدیوں کو رہا کر دیا گیا اور عبد اللطیف کو گرفتار کر کے الغ بیگ کے عم زاد بھائی کے سامنے پیش کیا گیا۔

خراسان کی مہم اور جنگِ ترناب

الغ بیگ نے صورتحال کی سنگینی محسوس کرتے ہوئے فوجیں تیار کیں اور خراسان کی طرف نکل گئے۔ انہوں نے دریائے جیحوں کو عبور کیا اور عبد اللطیف کو معاف کرنے کے لیے تیار تھے۔ اسی دوران بابر مرزا نے خراسان پر حملہ کر کے علاؤالدولہ کے ہر اول دستے کو شکست دی۔ جب علاؤالدولہ نے دیکھا کہ بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تو اس نے مصالحت پر آمادگی ظاہر کی، عبد اللطیف کو رہا کر دیا گیا اور علاؤالدولہ کے ساتھ صلح ہو گئی، لیکن یہ صلح زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔

بعد میں الغ بیگ نے عبد اللطیف کی فوج کی مدد سے علاؤالدولہ کے خلاف ہرات سے چار میل دور “ترناب” کے مقام پر خونریز جنگ لڑی۔ اس جنگ میں علاؤالدولہ کو شکست ہوئی۔ اس نے مشہد میں پناہ لی اور اطاعت قبول کرنے کا بہانہ کیا، لیکن اب الغ بیگ اس کے بہانوں میں آنے والے نہیں تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر ہرات اور اس کے قلعوں پر قبضہ کر لیا، پھر فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصے کو میرزا عبد اللہ شیرازی کے ساتھ بسطام کا محاصرہ کرنے کا حکم دیا، جبکہ دوسرا حصہ عبد اللطیف کی قیادت میں استر آباد کی جانب بڑھا۔ اسی دوران ازبکوں نے ماوراءالنہر پر قبضہ کر لیا۔

وفات

عبد اللطیف بعض وجوہات کی بنا پر اپنے والد الغ بیگ سے ناراض تھے۔ انہوں نے اپنے والد کے خلاف بغاوت کی اور فوج لے کر دریائے جیحوں کو عبور کیا۔ الغ بیگ نے بیٹے کے خلاف جنگ لڑی لیکن شکست کھائی۔ باپ بیٹے کے درمیان یہ جنگ شاہ رخیہ کے مقام پر ہوئی تھی۔ عبد اللطیف نے اپنے والد الغ بیگ کو اپنے ایک ملازم عباس کے حوالے کیا۔

عباس نے الغ بیگ کو 10 رمضان المبارک 853ھ بمطابق 27 اکتوبر 1449ء کو قتل کروا دیا۔ یوں علم و عرفان کا یہ چمکتا ہوا ستارہ صرف ڈھائی برس کی حکمرانی ہی کر سکا۔

نتیجہ

الغ بیگ کی زندگی اگرچہ خاندانی بغاوتوں اور اقتدار کی کشمکش میں گھری رہی اور ان کا انجام المناک ہوا، مگر سمرقند کو علم و تہذیب کا مرکز بنانے اور فلکیات کے میدان میں ان کی خدمات نے انہیں تاریخ میں ایک ممتاز مقام دیا۔ ان کی علمی میراث آج بھی زندہ ہے۔

Check Also

Khalid bin Waleed (RA) Part 3: The Battle of Walaja

Khalid bin Waleed (RA) Part 3: The Battle of Walaja

ساسانی سلطنت کے دو لشکروں کو شکست دینے کے بعد اب سیدنا خالد ابن ولید کا مقابلہ ساسانی سلطنت کے ایک تیسرے لشکر سے ہونا تھا۔ اس سے پہلے سیدنا "خالد ابن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms