برصغیر پاک و ہند پر تقریباً 400 سال حکومت کرنے والی عظیم مغلیہ سلطنت کا خاتمہ انگریزوں کے ہاتھوں 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد ہوا۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو شکست کے بعد قید اور پھر جلاوطن کر دیا گیا، جبکہ ان کے بیشتر بیٹوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ تحریر مغلیہ سلطنت کے زوال اور بہادر شاہ ظفر کی اولاد کے انجام کا احاطہ کرتی ہے، جو آج بھی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
مغلیہ سلطنت کا خاتمہ اور بہادر شاہ ظفر کی قید
یوں تو مغلیہ سلطنت کے زوال کی سرسری معلومات برصغیر پاک و ہند کے ہر باسی کو معلوم ہیں، لیکن انگریزوں کے اقتدار پر قبضے کے بعد آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی اولاد کا کیا انجام ہوا اور آج مغل خاندان کہاں ہے اور کن حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، یہ ایک الگ داستان ہے۔
جنگِ آزادی 1857ء میں جب انگریزوں نے سکھوں اور ہندوؤں کی مدد سے مغلیہ سلطنت کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو شکست دیتے ہوئے مغلیہ سلطنت کا خاتمہ کیا، تو انگریزوں نے دہلی شہر پر قبضے کے بعد بہادر شاہ ظفر اور ان کے اہلِ خانہ کو لال قلعے کی ایک چھوٹی سی کوٹھری میں قید کر دیا۔ کچھ دنوں بعد انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کے 20 بیٹوں میں سے 18 بیٹوں کو سرِ عام انتہائی سفاکی کے ساتھ قتل کر دیا۔
انگریزوں کی سفاکی سے بہادر شاہ ظفر کے صرف دو ہی بیٹے، مرزا جوان بخت اور مرزا شاہ عباس، زندہ بچے، جنہوں نے مغل خاندان کی نسل کو آگے بڑھایا۔ انگریزوں کی جانب سے قتل کیے گئے 18 شہزادوں میں سے تین شہزادوں کے سر کاٹ کر دہلی کے خونی دروازے پر لٹکائے گئے تاکہ آئندہ کوئی بھی انگریزوں کے خلاف ایسا اقدام نہ اٹھا سکے۔ اس قدر سفاکی کے بعد بھی جب انگریزوں کو چین نہ آیا تو انہوں نے 80 سال کے اس بوڑھے بہادر شاہ ظفر پر غداری اور فریب دہی کا مقدمہ چلایا۔ لال قلعے میں مقدمے کا یہ ڈھونگ 44 دن چلتا رہا اور آخر میں مغل سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کو سزائے موت سنائی گئی، جسے بعد میں جلاوطنی میں بدل کر انہیں ان کی بیوی زینت محل اور ان کے دونوں بیٹوں مرزا جوان بخت اور مرزا شاہ عباس سمیت برما کے شہر رنگون میں جلاوطن کر دیا گیا، جہاں انہوں نے اپنی باقی تمام زندگی انتہائی برے حالات میں گزاری۔
بہادر شاہ ظفر کی وفات اور شہزادوں کا انجام
1862ء میں جب برما کے شہر رنگون میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی وفات ہوئی تو انگریزوں نے ان کے دونوں بیٹوں مرزا جوان بخت اور مرزا شاہ عباس کو برصغیر واپس نہ جانے کی شرط پر زندہ رکھا، کیونکہ انگریز اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ اگر یہ دونوں شہزادے ہندوستان واپس گئے تو مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی اولاد کی حیثیت سے ان کے خلاف کسی بھی طرح کی بغاوت کھڑی کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے انگریزوں نے مرزا جوان بخت اور مرزا شاہ عباس کو پھر دوبارہ کبھی بھی ہندوستان کا رخ نہ کرنے دیا، اور یوں یہ دونوں بدقسمت شہزادے اپنی باقی زندگی رنگون میں گزارنے پر مجبور ہوئے۔ جہاں تک ان دونوں شہزادوں کی ازدواجی زندگی کا سوال ہے، تو بعض محققین کے مطابق ان دونوں میں سے چھوٹے شہزادے مرزا شاہ عباس کی شادی رنگون کے ایک سوداگر کی بیٹی سے ہوئی، جس سے ان کی کئی اولادیں ہوئیں، جو آج کے دور میں بھی انتہائی غربت کی وجہ سے رنگون کے “ٹیگنٹ ٹاؤن” نامی علاقے میں کچی گلیوں کی بدبودار جھگیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ دوسرے بیٹے مرزا جوان بخت کی ایک ہی اولاد تھی۔
مغل خاندان کی موجودہ نسل
مرزا جوان بخت کی اکلوتی اولاد کا نام مرزا جمشید بخت تھا، جو کہ مرزا جوان بخت کی بیوی نواب زمانی بیگم کے بطن سے تھے۔ 1884ء میں جب جگر کی بیماری کی وجہ سے مرزا جوان بخت کا انتقال ہوا تو ان کے انتقال کے کچھ ہی سالوں بعد ان کی بیوی نواب زمانی بیگم بھی انتقال کر گئیں۔ اپنے والدین کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا جمشید بخت حالات ناسازگار ہونے پر ہندوستان واپس چلا گیا، جہاں مرزا جمشید بخت نے بیگم نادرہ جہاں نامی عورت سے شادی کی، جن سے ان کا ایک ہی بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام تاریخی اوراق میں مرزا بیدار بخت بتایا گیا ہے۔ مرزا بیدار بخت ابھی چھوٹے ہی تھے جب انہیں اپنے والدین کے انتقال کے باعث ان کے سائے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہونا پڑا۔ اپنے والدین کی وفات کے بعد مرزا بیدار بخت چھوٹے موٹے کام کر کے اپنا گزر بسر کیا کرتے تھے اور آزادی ملنے تک انہوں نے اپنی اصل پہچان سب سے چھپائی رکھی۔ آزادی ملنے کے بعد جب مرزا بیدار بخت کی اصل شناخت کے بارے میں سب کو علم ہوا، تو انہیں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی حیثیت سے بھارت سرکار کی طرف سے ماہانہ کچھ روپے پنشن دی جانے لگی۔ 1950ء کی دہائی میں مرزا بیدار بخت نے سلطانہ بیگم نامی عورت سے نکاح کیا، جن سے ان کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ مرزا بیدار بخت جب تک زندہ تھے، تب تک بھارت سرکار انہیں ماہانہ کچھ روپے پنشن دیتی رہی۔ لیکن 1980ء میں مرزا بیدار بخت کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اور بچوں کے لیے سرکار نے پنشن دینا بند کر دی۔ پنشن ملنا بند ہونے کے بعد مرحوم مرزا بیدار بخت کی بیوی اور بچوں کے حالات مزید بدتر ہو گئے۔ ان سب کو مدِنظر رکھتے ہوئے مرزا بیدار بخت کی بیوہ سلطانہ بیگم کو اپنا اور اپنے چھ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کولکتہ کے ڈولی گانج علاقے میں چائے کی ایک چھوٹی سی دکان کھولنا پڑی۔
1982ء میں سلطانہ بیگم کو بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ ہونے کی حیثیت سے سرکار کی طرف سے ایک سرکاری مکان بھی دیا گیا، جو کہ 1983ء کے اختتام تک ان سے واپس لے لیا گیا۔ سرکاری مکان چھیننے کے بعد آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ اور ان کی اولاد آج بھی کولکتہ کی کچی گلیوں میں دو کمروں کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے پر مجبور ہیں۔
نتیجہ
جس مغل خاندان نے تقریباً ساڑھے تین سو سال پورے برصغیر پر حکومت کی، آج اسی کی اولاد انڈیا اور برما کے گلی کوچوں میں انتہائی غربت کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کی یہ داستان اقتدار کی بے ثباتی اور تاریخ کے سبق آموز پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔
History In Urdu